اوریا مقبول جان کا خوابوں پہ چلتا کاروبار


دنیا میں ہمیشہ سے بالادست طبقے کا یہ طریقہ رہا ہے کہ وہ ایسے اقدامات اٹھاتے رہتے ہیں جن سے عوام الناس کو جاہل رکھ کر ، ان کی عقلی اور شعوری قوت سلب کردی جاتی ہے اور یوں وہ منطقی انداز میں سوچنے کی بجائے محض جذباتی تقاریر اور کھوکھلے نعروں کے اوپر یقین کر کے زندگی گزارتے رہتے ہیں۔ اس جابر، حاکم اور بالادست طبقے کو اس بات کا اچھی طرح سے اندازہ ہے کہ ان کی جابریت، حاکمیت اور ظلم و بربریت کی دکان صرف اسی صورت میں چل سکتی ہے، کہ زیر دست طبقہ جاہل ہی رہے وگرنہ ان کے اندر اگر شعور بیدار ہو گیا تو ان کا یہ کاروبار اسی دن سے بند ہو جائے گا۔

اور اس کام کے لئے ہر دور اور ہر معاشرے کے اندر جس چیز کو بطور ہتھیار استعمال کیا گیا وہ مذہب ہے۔ اگرچہ دنیا میں مذہب کی موجودگی کا اصل مقصد اصلاح نفس، انسانی افکار کی پاکیزگی، جذبہ خدمت خلق، بامقصد زندگی اور احساس ذمہ داری تھا، مگر اس کی بجائے آج مذہب کا استعمال جابر اور بالادست طبقات کے مفادات کے تحفظ کے لئے کیا جا رہا ہے۔ اور اس کے لئے کچھ ایسی شخصیات کو تیار کیا جاتا ہے جو مذہب کی تعلیمات کی ایسی تعبیر کرنے میں ید طولی رکھتے ہیں جو بالادست طبقے کے مفادات کے حق میں معاون ثابت ہوں۔ اور یوں یہ مذاہب کی اصلی شکل کو بگاڑ کر اس کا حلیہ اس طرح کا کر دیتے ہیں کہ وہ محض چند رسمی عبادات تک ہی محدود ہو کر اپنے متبعین کو جدوجہد اور مزاحمت سے غافل کر دیتا ہے۔

اسلام جو ایک مذہب کی بجائے بطور دین دنیا میں متعارف ہوا تھا، اس کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی حشر اس کے ماننے والوں نے کیا، اور آج اکثریت اس کے اصلی مقصد کی بجائے، اس کے نام پر رچائے گئے نت نئے ڈراموں کی طرف متوجہ ہو چکی ہے جن میں سے ایک ڈرامہ مقدس ہستیوں کے نام پر خواب بنانا اور پھر ان کو عوام میں مقفح اور مسجع عبارتوں کے ذریعے پھیلا کر ان کو ایک خاص مقصد کے تحت بے وقوف بنانا ہے۔ ان ”رویائے صالحہ“ کے گھڑنے والوں کو جب بھی اشارہ ملتا ہے، یہ اپنی پٹاریوں سے تراشیدہ خواب نکالتے ہیں، اور پھر انجمن ستائش باہمی میں اس کو بیان کر کے رائے عامہ کو ہموار کو ہموار کیا جاتا ہے۔

اس کے بعد پھر اس خواب کے اوپر تبصروں اور فرمائشی کالمز کی گل فشانی کر کے داد و تحسین کے ڈونگرے برسائے جاتے ہیں اور یوں یہ بات عوام کے قلوب میں راسخ کردی جاتی ہے کہ یہی حق ہے اور اس کے ماسوا سب باطل۔ یہ ڈرامہ اب اس قدر مقبولیت حاصل کرچکا ہے، کہ ظلم کرنے والا طبقہ جب دیکھتا ہے کہ ان کی مراد بر آنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں تو وہ جھٹ سے ایک نیا خواب کسی سے گھڑوا کر اپنا مقصد حاصل کرلیتے ہیں۔ مگر یہ بات کوئی نہیں بتاتا کہ اسلام میں خواب کی حیثیت نہ تو اولین مآخذ کی سی ہے اور نہ ہی اس کی بنیاد پر کوئی حکم لگایا یا ثابت کیا جاسکتا ہے۔

تاہم زیادہ سے زیادہ کسی بات کی تائید البتہ کی جا سکتی ہے۔ مگر یہاں ہمارے اوریا مقبول صاحب پہلے خواب بیان کرتے ہیں، پھر اس کی خود ہی ایک تعبیر بیان کرتے ہیں۔ لیکن چار پانچ برس کے بعد انہیں یاد آتا ہے یا انہیں کوئی یاد کرواتا ہے تو اچانک اسی خواب میں انہیں توہین رسالت یاد آجاتی ہے اور وہ مغموم دل کے ساتھ یہ روح فرسا واقعہ سناتے ہیں کہ کیسے ان کی خواب میں ایک شخص توہین رسالت کا مرتکب ہوا ہے۔ اس سلسلے میں سب سے بنیادی سوال یہ ہے ہم مان لیتے ہیں کہ یہ خواب واقعی دیکھا گیا تھا، مگر ہم کیسے یقین کر لیں کہ جس ہستی کو خواب میں دیکھا گیا ہے وہ رسالت مآب ص ہی ہیں اور دوسرا کوئی نہیں ہے؟

کیونکہ ہمارے پاس ان کی کوئی شبیہ موجود تو ہے نہیں جس سے ہم موازنہ کر کے اطمینان کر لیں۔ اس کے علاوہ کیا ہمیں دور صحابہ میں ایسی کسی چیز کا نام و نشاں ملتا ہے، کہ جب انہوں نے اپنے مسائل کے حل کے لئے خواب کو بنیاد بنایا ہو۔ اس دور میں جب بھی کوئی مسئلہ پیش آتا تھا، تووہ بموجب حکم قرآن آپس میں مشاورت کر لیا کرتے تھے۔ خلیفہ اول اور دوئم کے زمانوں میں کتنے ہی مسائل پر صحابہ کا اختلاف ہوا، تو انہوں نے مشاورت کا رستہ اختیار کیا، مگر مقام تعجب ہے ان کو کبھی خواب میں نہ تو اس کے لئے دیدار مصطفی نصیب ہوا اور نہ ہی کبھی انہوں نے اس کھوکھلی بنیاد پر کوئی حکم ثابت کیا۔

حتی کہ خلیفہ چہارم کے دور میں جمل اور صفین جیسی جنگیں برپا ہوئیں، بے شمار لوگ اس جنگ میں لقمہ اجل بنے، مگر اس نازک موقع پر بھی کسی کو دیدار مصطفی خواب میں نصیب نہیں ہوا جس سے امت کو رہنمائی ملتی۔ اور آج جس ایرے غیرے نتھو خیرے، مال حرام کو شیر مادر سمجھ کر کھانے والے کو آئے دن یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ ”ہم بھی ہیں پانچ سواروں میں“ ۔ اور اس پہ مستزاد آپ کسی بھی فرقے سے اس کی حقانیت کی دلیل طلب کریں، تو وہ صیغہ غائب کے ساتھ یہی کہے گا کہ ان کے ایک ساتھی کو خود خواب میں بارگاہ رسالت سے پروانہ قبولیت عطا ہوا ہے۔

اور چونکہ یہ وہ دلیل ہے جس کے آ کے ساری منطق اور حکمت ساکت ہوجاتی ہے، لہذا سائل کے پاس خاموشی کے علاوہ اور کچھ نہیں بچتا۔ اب جائے غور یہ ہے کہ یہ تمام فرقے اپنی حقانیت کی سند بذریعہ خواب مدینہ سے تو جوڑتے ہیں مگر ساتھ ہی ساتھ ایک دوسرے کے کفر پر بھی متفق ہیں جو ایک انوکھا لطیفہ ہے۔ لہذا ہمیں ان خوابوں کی بنیاد پر رچائے گئے کھیل سے ہوشیار رہنا ہو گا، کیونکہ یہ وہ جال ہے جس سے یہ غاصب طبقہ معصوم لوگوں کا شکار کر کے، ان کو سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت سے محروم کر دیتا ہے۔ اور وہ اس بات کا یقین اپنے اندر بٹھا لیتے ہیں کہ گویا کاروبار مملکت کی بنیاد دستور، عوام کی حاکمیت اور انصاف نہیں بلکہ خواب ہے۔

Facebook Comments HS