سندھ کی بیٹی ام رباب اور انصاف
قانون کے شاگرد یہ فقرہ بخوبی جانتے ہیں کہ ”دیر سے انصاف کا ملنا، انصاف دینے سے انکار کے مترادف ہے“
ہم کورٹس میں دیکھتے ہیں کہ وہ فیملی کیسز، جن کو 6 ماہ میں نمٹانا ہوتا ہے، ان کو 1، 2 سال لگ جاتے ہیں۔ یہ اس لیے ہوتا ہے کہ کبھی وکلا اور کبھی ججز، دونوں ہی تاریخ پے تاریخ لیتے اور دیتے رہتے ہیں۔
خیر ادھر ہم بات کر رہے ہیں ام رباب کے کیس کی، یہ لڑکی میڈیا کی زینت اس وقت بنی جب وہ اپنوں کے خون سے انصاف کے لیے اس وقت کے چیف جسٹس، جسٹس ثاقب نثار کی گاڑی کے سامنے آ کر اپنا احتجاج ریکارڈ کروانے لگی۔ وہ کیس 2018 کا ہے اور اس کیس کا خلاصہ یہ ہے کہ، 2018 میں ام رباب کے والد، چچا اور دادا کو نامعلوم لوگوں نے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا، جس کا مقدمہ لواحقین نے پ پ پ کے ایم پی ایز سردار خان اور دیگر پر درج کروایا، اس مقدمہ کو درج کروانے میں ام رباب نے بڑی بہادری کے ساتھ اس وقت کے چیف جسٹس کے سامنے احتجاج کرتی ہوئی بھی نظر آئی، بقول ام رباب کے، سردار چانڈیو اور ان کے بھائی اس تہرے قتل میں ملوث ہیں۔ کیونکہ سرداروں کے غلامی والے نظریے خلاف ان کے بابا کھڑے ہو گئے تھے۔
اس قتل کا کیس ابھی تک ٹرائل کورٹ میں چل رہا ہے، دونوں بھائی سردار اور ایم پی ای ضمانت حاصل کر رکھی ہے، سردار برہان خان کی ضمانت ٹرائل کورٹ دادو نے رد کی تھی، جس نے بعد میں ہائی کورٹ لاڑکانہ سے ضمانت لی۔
سرداروں نے ہر طرح کی کوشش کی کہ کیس میں سے ان کی نام خارج ہوجائیں، پولیس نے نام و نہاد کوشش کر کے ان کا نام کیس کے خارج کیا، جس کے بعد ام رباب نے کورٹ سے 169 سیکشن سی آر پی سی کے تحت استدعا کی کہ سرداران کے نام کیس میں شامل کیے جائیں اور کورٹ نے ان کی استدعا منظور کی۔ اور کورٹ نے پ پ پ ایم پی ایز کو ٹرائل میں شامل کرنے کا حکم دیا۔
ام رباب نے بہت جدوجہد کی ہے، اپنے بابا کے خون کو انصاف دلوانے میں، تاہم اس نے سپریم کورٹ تک رسائی کی، ایک ایک لیگل گراؤنڈ کے لیے وہ کورٹ میں استدعا کرتی نظر آ رہی ہیں۔ آج بھی وہ ہائی کورٹ و سیشن کورٹ میں ہر پیشی پر حاضر ہو کر استدعا کرتی ہے انصاف کی۔ سیشن کورٹ نے سردار خان چانڈیو کو جو ضمانت دی اس کی منسوخی کے لیے ام رباب نے ہائی کورٹ میں اپیل داخل کر رکھی۔
جاگیرداری نظام ایک ناسور ہے، اور سندھ میں اس نظام نے مکڑی کی طرح جکڑ رکھا ہے، سندھ کے لوگ ووٹ بھی وڈیروں سے پوچھ کر یا ان کے کہنے پر کاسٹ کرتے ہیں۔ سندھ کے وڈیروں نے عوام کی فلاح یا بنیادی حقوق کے لیے کوئی کام نہیں کیا۔ ان کا بنیادی مقصد صرف عوام اور گاؤں کے لوگوں کے ذہنوں پر اپنی حکمرانی کرنا ہے۔ ان نام نہاد سرداروں نے لوگوں کا ذہن باندھ کر رکھا ہے۔
اور ان سرداروں کی حاکمیت ختم کرنے کے لیے، سندھ کو کسی ایسے بندے کی ضرورت ہے جو یہ سردارانہ نظام ختم کروائے، اس کے لیے ام رباب نے شروعات کی ہے، اور امید ہے کہ عدالتیں، اس لڑکی کو انصاف ضرور دیں گی اور آگے چل کر یہ لڑکی اس نظام کے خاتمے کے لیے کام کریں گی۔ کیونکہ وہ خود بھی وکیل ہے اور ایک وکیل کی ذمے داری ہوتی ہے کہ لوگوں کے حقوق کی پاسداری کرے۔

