بلدیاتی انتخابات 2022: مزدور کی بیٹی پروین شیخ جنھوں نے پیپلز پارٹی کے امیدوار کو شکست دی

ریاض سہیل - بی بی سی اردو ڈاٹ کام


سندھ کے ضلع خیرپور کی یونین کونسل جیلانی سے کونسلر کی جنرل نشست پر کامیاب ہونے والی آزاد امیدوار پروین شیخ نے سندھ کی حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار کو شکست دے کر بھرپور توجہ حاصل کی ہے۔

سندھ میں اتوار کو بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں ضلع کونسلز، میونسپل کمیٹیوں، ٹاؤن کمیٹیوں اور یونین کونسلز کے لیے انتخابات منعقد ہوئے۔

ان انتخابات میں نشستوں کی تعداد 7164 تھی جن میں سے ایک ہزار سے زائد نشستوں پر امیدوار بلامقابلہ کامیاب ہوئے جبکہ باقی 6083 نشستوں پر ساڑھے 24 ہزار کے قریب امیدوار میدان میں تھے۔

بلدیاتی انتخاب کے اس پہلے مرحلے میں پاکستان پیپلز پارٹی نے سب سے زیادہ نشستیں حاصل کی ہیں جبکہ عام نشستوں پر خواتین امیدوار نہ ہونے کے برابر تھیں تاہم بعض خواتین آزاد امیدوار کے طور پر انتخاب لڑیں۔

چھ بچوں کی ماں پروین شیخ ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان کے والد پہلے گدھا گاڑی چلاتے تھے آج کل وہ بازار میں پتھارے میں بچوں کے کھانے پینے کی اشیا فروخت کرتے ہیں جبکہ پروین کے شوہر ایک وفاقی ادارے میں نچلی سطح پر ملازم ہیں۔

پروین نے خود پرائمری تک تعلیم حاصل کی ہے تاہم مقامی سطح پر فلاحی کاموں سے منسلک رہی ہیں۔

پروین شیخ نے بی بی سی کو بتایا کہ جب وہ غریبوں کی حالت دیکھتی تھی تو اُنھیں دکھ ہوتا تھا اور وہ سوچتی تھیں کہ ان کی کیسے مدد کریں، پھر اُنھوں نے سوچا کہ سیاست کے ذریعے ہی ان کی مدد کی جا سکتی ہے۔

پروین شیخ ضلع خیرپور کے علاقے سلیم آباد سے وارڈ کے الیکشن میں 430 ووٹ لے کر کامیاب ہوئی ہیں جبکہ ان کے مخالف امیدوار صرف 190 ووٹ لے سکے۔

خیرپور میں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ فنکشنل بڑی جماعتوں کے طور پر موجود ہیں۔ سابق وزرائے اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ اور سید غوث علی شاہ کا تعلق بھی اسی ضلع سے ہے جبکہ جنرل پرویز مشرف کے بلدیاتی نظام میں سید قائم علی شاہ کی بیٹی اور موجودہ رکن قومی اسمبلی نفیسہ شاہ یہاں سے ضلعی ناظم رہ چکی ہیں۔

فائل

(فائل فوٹو)

پروین شیخ جس علاقے سے انتخاب جیتی ہیں، وہ ایک غریب آبادی ہے جس میں مرد محنت مزدوری کرتے ہیں جبکہ خواتین کارخانوں اور گھروں میں کھجور کی صفائی کا کام کرتی ہیں۔

پروین کے مطابق اس علاقے میں سیوریج کا کوئی نظام نہیں، بجلی دستیاب نہیں کیونکہ غریب لوگ بل ادا نہیں کر سکتے اس لیے حیسکو والے پی ایم ٹی نہیں لگاتے جبکہ پینے کا پانی تک نہیں آتا اور لوگ 15 لٹر پانی کی بوتل 20 سے 25 روپے میں خریدتے ہیں، یہ وہ مسائل تھے جن کو لے کر وہ میدان میں اتریں۔

نامزدگی کے ساتھ کردار کشی

پروین کہتی ہیں کہ جب سے اُنھوں نے نامزدگی فارم جمع کروایا، تب سے ہی اُن کی کردار کشی شروع کر دی گئی۔

’غلط غلط باتیں کرتے، گندی گالیاں دیتے تھے۔ رات کو ہم سوتے تھے تو دروازے پر آ کر اونچی آواز میں گالیاں دے کر جاتے تھے، اس قدر کہ لاؤڈ سپیکر پر بھی برا بھلا کہا جاتا تھا۔ میں نے ووٹوں کی اپیل کے لیے پینا فیلکس لگانے کی کوشش کی تو وہ لگانے نہیں دیتے تھے یا اتار دیتے تھے تاکہ میں اپنی مہم نہ چلا سکوں۔ مجھے کہتے تھے تم عورت ہو سیاست کر کے کیا کرو گی، گھر میں بیٹھو۔‘

اُن کا دعویٰ ہے کہ مقامی سیاست دانوں سے لے کر افسران تک نے اُنھیں کہا کہ دستبردار ہو جاؤ اور مبینہ طور پر پیسوں کی لالچ بھی دی گئی، جب بات نہیں بنی تو پھر دھمکایا بھی گیا لیکن وہ نہ مانیں۔

پروین شیخ کے مطابق وہ مہم کے لیے گھر گھر جاتی تھیں اور لوگوں سے ووٹ کی درخواست کرتی تھیں۔

’لوگ کہتے تھے کہ آپ ہماری پڑوسی ہو ہماری طرح غریب کی اولاد ہو اور ہماری بچی ہو، ہم آپ کا ساتھ دیں گے ہم نے وڈیروں اور بڑے لوگوں کو کئی بار ووٹ دیے، اب ہم اپنے غریبوں کو ووٹ دیں گے۔‘

پروین شیخ کہتی ہیں کہ ان کے سامنے پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار تھے جن کی الیکشن مہم نفیسہ شاہ بھی چلا رہی تھیں۔

فائل

(فائل فوٹو)

’میرے شوہر مہم میں نہیں جاتے تھے جبکہ بھائی اور دیور پریشان رہتے تھے لیکن جب اُنھوں نے دیکھا کہ مجھے لوگ پسند کر رہے ہیں اور حمایت کرتے ہیں تو پھر اُن کا بھی حوصلہ بلند ہو گیا۔‘

پروین شیخ کے خاندان میں کبھی کسی نے سیاست میں حصہ نہیں لیا۔ بقول ان کے ان کی جیت پر اُنھیں رونا آ رہا تھا اور اُنھوں نے تو کنٹرول کر لیا لیکن والد آنسو بہاتے رہے۔

یہ بھی پڑھیے

’یہاں خاتون امیدوار جلسہ نہیں کر سکتی‘

بلوچستان کے بلدیاتی انتخابات میں خواتین وہاں سے جیتیں ’جہاں کامیابی کی کوئی امید نہ تھی‘

’مقصد جیت نہیں بلکہ بتانا تھا کہ عورت سیاست کر سکتی ہے‘

پہلے شوہر کی بازیابی اور پھر کونسلر کے لیے سرگرم

سندھ کے ضلع قمبر شہداد کوٹ کے علاقے نصیر آباد سے وارڈ پر جنرل نشست پر انتخاب لڑنے والی فوزیہ نوناری ایک سال قبل اپنے لاپتہ شوہر سینگھار نوناری کی بازیابی کے لیے سراپا احتجاج تھیں۔ ایک سال قبل یعنی 26 جولائی کو سینگھار 36 روز کی جبری گمشدگی کے بعد رہا ہوئے تھے۔ ان کا تعلق عوامی ورکرز پارٹی سے ہے۔

فوزیہ گریجویٹ ہیں۔ چند سال قبل تک وہ ایک عام گھریلو خاتون تھیں لیکن شوہر نے ان کی ہمت افزائی کی اور وہ بھی طبقاتی سیاست کے میدان میں اتر آئیں، حالیہ بلدیاتی انتخابات میں گھر گھر جا کر الیکشن ورک کیا جس کا سوشل میڈیا پر کافی چرچا رہا۔

’الیکشن سے قبل ہی مشکلات کا آغاز ہوا اور پولنگ سٹیشن دور کے گاؤں میں منتقل کر دیے گئے جبکہ مخالف امیدوار کی جانب سے دھمکیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ وہ رکن اسمبلی جو کبھی کبھار نظر آتا وہ ذاتی طور پر چار مرتبہ مخالف امیدوار کی مہم چلانے کے لیے آیا۔‘

قمبر شہداد کوٹ سندھ کے ان اضلاع میں سے ہے جس کی سرحدیں بلوچستان سے ملتی ہیں۔ یہاں سرداری نظام کافی مضبوط ہے جبکہ مذہبی شدت پسندی کا رجحان بھی بڑھ رہا ہے۔

فوزیہ نوناری بتاتی ہیں کہ وہ گھر گھر جایا کرتی تھیں اور اس دوران خواتین سے بات چیت ہوتی تھی جن کا کافی مثبت جواب ملتا تھا۔

’وہ اپنے گھروں سے نکلنا چاہتی تھیں اور اپنے وجود کا اظہار کرنا چاہتی تھیں۔ میں نے بھی اعلان کیا تھا کہ اگر کامیاب ہوئی تو جو خواتین کے مقامی مسائل ہیں اُنھیں اجاگر کروں گی۔ مجھے شکست تو ہوئی لیکن جو تین سو سے زائد ووٹ حاصل کیے ان میں زیادہ تر ووٹ خواتین کے ہی تھے۔‘

فوزیہ نوناری کے بقول وہ سمجھتی ہیں کہ بلدیاتی انتخابات سے کوئی بڑی تبدیلی نہیں آ سکتی تاہم اس کے باوجود اُنھوں نے میدان خالی نہیں چھوڑا کیونکہ جاگیرداروں اور وڈیروں کے خلاف یہ بھی ایک میدان ہے جس میں آواز اٹھائی جا سکتا ہے۔

’ہماری سیاست صرف ووٹ اور الیکشن تک نہیں، مقامی مسائل سے لے کر مہنگائی اور دیگر مسائل کے لیے احتجاج جاری رکھیں گے۔‘


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 25428 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments