برکس کانفرنس: ایک جائزہ


دنیا بھر کے ممالک اپنی صف بندیاں کرتے ہی رہتے ہیں بسا اوقات یہ صف بندیاں مستقبل کے کسی تصادم کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہیں اور ایسا بھی وقوع پذیر ہو جاتا ہے کہ جب خطرہ سر پر منڈلانے لگتا ہے تو ان صف بندیوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے صلح صفائی کی بھی کوئی صورت نکال لی جاتی ہے۔

چین نے برکس کی حالیہ سربراہی کانفرنس کی ورچوئل میزبانی کی۔ برکس جو پانچ ممالک چین، روس، انڈیا، برازیل اور جنوبی افریقہ پر مشتمل تنظیم ہے اور دنیا کی کم و بیش 40 فیصد آبادی کا مسکن ہے جب کہ 25 فیصد گراس ڈومیسٹک مصنوعات بھی ان ملکوں سے ہی آتی ہیں۔

اس اعتبار سے اگر معاملات کو سامنے رکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ یہ تنظیم اپنی ایک خاص اہمیت رکھتی ہے کہ جب روس اور یوکرائن کے مابین جنگ چھڑی تو ان میں سے چین، انڈیا اور جنوبی افریقہ نے اقوام متحدہ میں روس کے خلاف ووٹ دینے سے اجتناب کیا اور ایبسٹین (غیر حاضری) کی حکمت عملی اختیار کی۔

اس کی وجوہات بھی بہت واضح ہیں کیونکہ اب چین اور روس باہمی طور پر زبردست فوجی تعلقات رکھتے ہیں جب کہ انڈیا تو عشروں سے روس سے قریبی تعلقات کے فوائد سمیٹ رہا ہے اور اب مغربی دنیا کی آنکھ کا تارا بھی بنتا جا رہا ہے۔

اس اعتبار سے اگر دیکھا جائے تو برکس ایک ایسی تنظیم کے طور پر کام کر رہی ہے جس کے اراکین روس سے بھی تعلقات کو خراب کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں بلکہ وہ یوکرائن کی جنگ کو اس تناظر میں دیکھ رہے ہیں کہ اس تجربے سے دنیا، دنیا میں قائم فوجی اتحادوں کے مقاصد اور ان کو وسیع کرنے کے معاملات کا ازسر نو جائزہ لیا جائے گا۔

چینی صدر شی نے اس موقع پر برکس بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے یوکرائن جنگ کو ویک اپ کال قرار دیا اور چین کے اس موقف کا اعادہ کیا کہ اپنی سلامتی کو محفوظ کرنے کی غرض سے کسی دوسرے ملک کی سلامتی کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہیے اور فوجی اتحادوں کو اس غرض سے توسیع دینے کے رویے کی مخالفت کی۔

روس کے خلاف عائد پابندیوں کا بھی ذکر ہوا اور حد سے زیادہ پابندیوں کے نتائج پر بھی اظہار خیال کیا گیا۔ اس بات کو مگر ذہن میں رکھنا چاہیے کہ برکس میں شامل پانچوں ممالک تمام امور پر یکساں موقف کے حامل نہیں ہیں بلکہ باہمی طور پر بھی ان میں ایک تصادم کی کیفیت موجود ہے اور برکس کی فعالیت کو بھی اسی انداز سے دیکھنا چاہیے۔

اس میں چین اور بھارت جو پڑوسی ملک ہونے کے علاوہ ایک دوسرے سے معاملات میں تناؤ بھی رکھتے ہیں جو کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ صدر شی اور نریندر مودی کی چین بھارت آخری سرحدی تناؤ کے بعد یہ پہلی ملاقات تھی چاہے ورچوئل ہی تھی۔

اس اجلاس سے قبل ہی چین اور بھارت میں اختلافات اس تنظیم کے امور کے حوالے سے سامنے آ رہے تھے۔ مئی میں برکس کے وزرائے خارجہ کی کانفرنس کا انعقاد ہوا تھا۔

اس کانفرنس میں چین کے وزیر خارجہ نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ برکس میں مزید ممالک کو بھی شامل کیا جانا چاہیے بھارت اس وقت سے ہی برکس کی توسیع کے خلاف پیش پیش رہا۔ اور اس نے اس کی توسیع کو روکنے کے لیے یہ توجیہہ پیش کی کہ پہلے اس کا ایک خاص معیار طے کیا جانا چاہیے کہ کون کون سے ممالک اس میں شامل ہوسکتے ہیں، اس کی مخصوص شرائط طے ہوں، پھر اس پر بات ہو سکتی ہے۔

دوسرے لفظوں میں ایک لمبا چوڑا راستہ اختیار کیا جائے جو کہ جلد عبور ہوتا نظر نہیں آ تا۔ لیکن چین نے اپنی حکمت عملی کو واضح کرنے اور انڈیا کو یہ پیغام دینے کی غرض سے کہ وہ تکنیکی بنیادوں پر اپنے اہداف کو ترک نہیں کر سکتا اور برکس کے ساتھ ہی ہائی لیول ڈائیلاگ آن گلوبل ڈویلپمنٹ میں برکس کے دیگر ممالک کے ساتھ ساتھ مزید 13 ممالک کو بھی دعوت دی جو بھارت کو بہت ناگوار گزرا ہے۔

ان ممالک میں الجیریا، ارجنٹائن، مصر، انڈونیشیا، ایران، قازقستان، سینیگال، ازبکستان، کمبوڈیا، ایتھوپیا، فجی، ملائیشیا اور تھائی لینڈ شامل ہیں۔ اس طرح برکس میں دراڑ کی کیفیت بھی نظر آئی۔ پھر جہاں بھارت ہو اور وہاں وہ واضح یا اشارے کنایوں میں پاکستان کا نام نہ لے، یہ ممکن ہی نہیں ہو سکتا۔ حال ہی میں اقوام متحدہ میں دہشت گردوں کے نام شامل کرنے کے حوالے سے بھارت کی ایک تحریک کو چین نے ناکام بنایا ہے۔

نریندر مودی نے اس اقدام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے چین کو طنز کا نشانہ بنایا کہ برکس ممالک کو ایک دوسرے کی سلامتی کے حوالے سے خیال رکھنا چاہیے۔ بھارتی میڈیا نے نریندر مودی کے اس اقدام کو کہ اس نے برکس میں بھی یہ معاملہ اٹھایا ہے، بہت سر پر چڑھایا ہے۔ جس سے ایک بات مکمل طور پر ثابت ہوتی ہے کہ ابھی وہ وقت بہت دور ہے جب برکس موجودہ صورت سے بڑھ کر کوئی اور صورت اختیار کر لے۔

چین کی خواہش ہے کہ برکس ممالک کے درمیان فری ٹریڈ ایگریمنٹ ہو جائے مگر موجودہ صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے یہ واضح نظر آ رہا ہے کہ ایسے کسی معاہدے کا امکان موجود نہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments