اُس پرچم کے سائے تلے سب ایک ہیں، سب نیک ہیں

اصل خوف پارلیمانی جمہوری پاکستان کی اساس قرار پائی دستاویز 1973 ء کے آئین سے ہے۔ اس آئین کا مسئلہ یہ ہے کہ اس کے ہر صفحے پر جمہوری قوتوں کے سرکردہ رہنماؤں کے خون کے انمٹ نقوش ہیں جو کسی جنرل کے پلانٹ کیے گئے سیاسی پالشیے کی پالش سے مٹنے والے نہیں۔ سوا دو سو صفحات کی اسی کتاب میں لکھے حروف پر عملدرآمد ہو جانے کا خوف ہے جو 75 سال سے جاری ہے۔
سب کو اپنے احتساب کا خوف لاحق ہے۔ ”زمانہ امن“ کے سابق و حاضر فوجیوں، مراعات یافتہ سابق و حاضر منصفوں، اوپر کی کمائیوں پر عیاشی کرتے سابق و حاضر بیوروکریٹوں، ناڑا ڈال قلم رکھنے والے صحافیوں، اور این جی اوز سے ملے پراجیکٹس کی وجہ سے مالدار ہوئے فنکاروں کی ایک قلیل تعداد اس خوف میں مبتلا ہے کہ اگر لیفٹ کی پیپلز پارٹی اور رائٹ کی مسلم لیگ نون اسی طرح اقتدار ایک دوسرے کے حوالے کرتے ہوئے اس ملک کو ایک مضبوط پارلیمانی جمہوریہ بنانے میں کامیاب ہو گئیں تو پھر احتساب بھی کریں گی اور ان سب کو نکیل بھی ڈالیں گی۔
تو پھر ایسا پرچم کیوں نہ تھاما جائے جو سب کے مفاد کی نگرانی کرے اور اگر وہ پرچم ایک گزرے اور تھکے ماندے ستارے سے منسلک ہو تو مزہ دوبالا ہو جائے۔ ایک فنکارہ جو ورلڈ پرفارمنگ آرٹ کے نام پر بے پناہ دولتمند ہے، ٹویٹر پر سوالات پوچھتی ہے اور تبلیغ کرتی ہے کہ گزرے ستارے کو دوبارہ موقعہ نہ دیا تو یہ ملک اندھیروں میں چلا جائے گا۔ بندہ پوچھے محترمہ آپ کو اس ملک میں روشنی کب نظر آئی ہے کہ اندھیروں کا خوف ستانے لگا؟
اپنے اپنے کمفرٹ زون میں عیاشی کرتے ان چند لوگوں کو اصل خوف اس ملک کی پارلیمان کے مضبوط رول سے ہے۔ ایک خود ساختہ سابقہ ”نیوٹرل“ کی اوقات بتاتے ہوئے ایک صارف نے لکھا کہ جب وردی میں ہوں تو مینار پاکستان گراؤنڈ بھروا دیتے ہیں، جب اتر جائے تو اپنے گھر کا صحن بھی نہیں بھر سکتے۔ ان نیوٹرل صاحب کا پیغام بالکل ایسے ہی تھا جیسے مرحوم طارق عزیز اپنے شو نیلام گھر میں میٹرو ملن اگربتی کا پیغام دیا کرتے تھے کہ جسے سننے والے کا زیادہ انٹرسٹ اس میں ہوتا تھا کہ اگربتی والے انعام کتنا دیں گے۔
اور اگر انعام نہیں تو پیغام رکھیں اپنے پاس۔ لہذا نیوٹرل صاحب کی بھی کسی نے نہیں سنی۔ کہاں وہ دن کہ جب پورا سسٹم فیل کر دیا جاتا تھا، اور کہاں وہ وقت ایک ایم پی اے کے لئے ووٹ مانگے جا رہے ہیں۔ برا 1973 ء کے اس آئین جو ان جیسے بلند پایہ نیوٹرلز کو یوں زمین پر مار رہا ہے۔ اور برا ہو ان گیارہ سیاسی جماعتوں جو اس آئین کی رکھوالی کرتے ہوئے اس ملک کی جمہوریت کو بچائے ہوئے ہیں۔
گزشتہ بائیس، پچیس سال سے شور و غوغا ہے کہ حق اور سچ کا ”وہ پرچم“ بلند ہے۔ اور اسے بلند تر دکھانے کے لئے گزرے ستارے کو ہر حاضر و غائب ہاتھ فراہم کیا گیا مگر وائے ہو اس عوام پر جو مجال ہے اسے بلند کرنے پر راضی ہو۔ اس عوام کو آئین کی کتاب کا سایہ صرف کبھی کبھار نصیب ہوتا ہے، مگر یہ اس سائے کے ایسے محبتی ہیں کہ انہیں کسی اور سائے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی۔
پاکستان اس برس اپنی آزادی کے 75 برس پورے کرے گا۔ اگر آپ کو غیر جمہوری قوتوں کے اشتہا انگیز پیغامات سے رغبت ہے تو پھر جائیں ”اس پرچم“ کی طرف جس کے نیچے سب ایک ہیں اور سب نیک ہیں۔ اور اگر آپ کی خواہش ہے کہ روشن جمہوری پارلیمانی پاکستان آپ کی نسلیں دیکھیں تو پھر ان گیارہ جماعتوں کو مضبوط کریں تاکہ وہ گیارہ صفحات کی دستاویز بنام ”آئین جمہوری پارلیمانی پاکستان“ 1973 ء میں لکھے ہمارے حقوق کی۔ پاسداری کرانے کی طاقت حاصل کر سکیں۔

