ارزل
سب مٹیالے جسم، ہڈیوں سے چمٹی جلد لیے، دھنسی ہوئی پیلی آنکھوں کے ساتھ دیمے کے ہوٹل پر فلم دیکھ رہے تھے۔ ہیرو کے ہر ڈائیلاگ پر خوش ہوتے ہوئے وہ ایک دوسرے کے جسموں کے پسینے کی بدبو کو فراموش کرتے ہوئے خوشی سے فلم دیکھ رہے تھے اور بعض لوگوں کے نظر آتے پیلے دانت اور خشک سلوٹوں کے آثار دیتے گالوں سے ان کے کچھ زیادہ ہی خوش ہونے کا اندازہ لگایا جا سکتا تھا۔ دیمے کے ہوٹل پر بیٹھا ہر شخص فلم کی کہانی کو دیکھنے کے ساتھ ساتھ بطور پیرو اپنی کہانی تخلیق بھی کر رہا تھا اور یوں ایک چلتی فلم، ایسی دہائیوں کہانیوں کو جنم دے رہی تھی جو ان لوگوں کے لیے وقتی خوشی کا سامان تو تھیں مگر کبھی اظہار نہیں پا سکتیں تھیں۔ ایک طرف کو بیٹھا وسیم بھی اپنی ہی کہانی بنا ریا تھا مگر وہ فلم کے ساتھ نہیں چل پایا تھا اور ابھی تک انٹرول سے پہلے کے محبت کے سینز کو اپنی من موہنی تصویر کے ساتھ بار بار تخلیق کر رہا تھا اور مسرور ہو رہا تھا۔
جلدی سے ایک لڑکا بھاگتا ہوا آیا اور اعلان کیا کہ کل باشوار ہے۔ لوگ آپس میں خوش ہو کر دہرانے لگے : کل باشوار ہے۔ ہاں ہاں، کل باشوار ہے۔ اتنے عرصے بعد آیا ہے یہ باشوار۔ نہیں پتہ کتنے عرصے بعد آیا ہے مگر کل باشوار ہے۔ واسو بھی یہ سب سن کر خوش ہوا مگر اس کی اس خوشی میں کچھ کچھ نا امیدی اور دھتکار کا خوف بھی تھا۔
کئی نسلوں پہلے، شاید سات یا آٹھ یا اس سے پہلے یا بعد کچھ اندازہ نہیں کیونکہ لوگ وقت کے پیمانے کو بھول چکے ہیں۔ اسپوں نے ایک دن یہ قانون منظور کیا کہ چاند اور چاندنی غیر ضروری ہیں اور یہ بھی خوشی، آوارہ گردی، فراغت جیسی ہی ایک برائی ہے جو کہ ذہنی یکسوئی میں خلل ڈالتی ہے اور جذبات کی برانگیختی کو جنم دیتی ہے چنانچہ یہ ارزلوں کی اس کامیابی کی راہ میں رکاوٹ ہے جس تک ہم پہنچ چکے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ان کے وسیع تر مفاد میں ارزلوں کو اس سے وقتی طور پر محروم کر دیا جائے۔
اور پھر یہی ہوا اندھیری خاموش راتوں نے ان کے خوف کو اور بڑھایا اور جب لمبے عرصے تک کوئی روشنی نظر نہ آئی تو ان کا خوف مستقل حیثیت اختیار کرتے ہوئے نیا نارمل بن گیا۔ مگر پھر کچھ لوگوں کی بغاوت یا لڑائی کے سبب یہ معاہدہ طے پایا کہ مہینے میں ایک بار ارزلوں پر چاند لازمی نمودار ہو گا۔ جیت کی خوشی میں ہر چاند دکھائی کی رات کو باشوار کہا جانے لگا۔
رفتہ رفتہ لوگ ہفتوں کا فرق بھولنے لگے اور مہینوں کو ہفتے بنانے لگے اور پھر مہینوں کا پیمانہ بھی باشواروں سے بدل دیا گیا۔ کسی کی موت کے سال اب سالوں یا مہینوں میں نہیں بلکہ باشواروں میں گنے جاتے ہیں۔
دیمے نے اپنا ہوٹل 24 باشوار پہلے لگایا تھا۔ پہلے تو یہ باشوار تواتر سے آتے رہے مگر پھر ان میں بھی وقفہ آنے لگا۔ اس وقفے کا حساب نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ لوگ روزانہ کے دنوں کی گنتی بھول چکے تھے ان کے پاس بس دن، رات اور باشوار کا پیمانہ باقی تھا۔ یہ باشوار اب اسپوں کی مرضی سے ہوتے تھے اور کبھی تو اتنا دیر سے باشوار آتا کہ کافی لوگ اس کے بارے میں سوچنا بھی چھوڑ چکے ہوتے تھے۔ وسیم کو دن، ہفتے یا مہینے تو یاد نہیں تھے مگر اتنا یاد تھا کہ آخری باشوار والے دن اس نے ہلک ہوگن کے فوٹو والی جو ٹی شرٹ پہنی تھی وہ اس کا چھوٹا بھائی پہن کر تار تار کرچکا ہے مگر باشوار پھر نہیں آیا تھا۔
ہوٹل پر لوگوں کے ناچنے اور بچوں کے اودھم کے سبب جو دھول اڑ چکی تھی اس میں بھی وہ اگلی رات کی چاشنی اور اپنی من مراد کی قبولیت کو شفافیت سے دیکھ رہا تھا۔ رات گھر کی طرف جاتے ہوئے اس نے اجی کو آواز دی اور اسے کہا کہ کل رات گندے ٹبے پر چلو گے؟ پکا میری طرف سے۔ اجی سے تھوڑی گپ لگانے کے بعد وہ گھر کو چل پڑا۔ باپ تو فوت ہو چکا تھا مگر ماں زندگی اور موت سے لڑ رہی تھی کچھ بھی بولنے سے عاری تھی۔ امید تھی کہ جلد ہی ماں مر جائے گی اور واسو کا کچھ خرچہ جو وہ سستی گولیاں لانے پر برباد کرتا ہے بچ جائے گا۔
ماں کی دوائیوں والے پیسے سے میں کیا کروں گا؟ میں اپنے لوڈر کے چاروں طرف بتیاں لگواؤں گا۔ دیمے سے شام کو چائے پیا کروں گا۔ گھر کے سامنے نالی کو چکا کروا کر سیمنٹ سے ڈھک دوں گا۔ گھر کا جنوب کی طرف والا ترپال تبدیل کروں گا۔ جوادی کا فیشل کرواؤں گا۔ فیشل نہیں کریم لے دوں گا کیونکہ وہ زیادہ چلے گی۔ کپڑے لے کر دینا کیسا رہے گا؟ یہ سوچتے سوچتے وہ سو جاتا ہے۔
صبح جب وہ جاگا تو زرد مٹیالا اجالا ہر طرف پھیل چکا تھا۔ یہ اس کے لیٹ جاگنے کا پیغام تھا کیونکہ اسے اجالے کے ہر طرف پھیل جانے سے قبل ہی گھر کے لیے دال اور تھوڑی سی چربی لانی ہوتی ہے اور پانی بھی بھر کر آنا ہوتا ہے۔ وہ جلدی جلدی اٹھا اور گودام کو بھاگا۔ رش بہت تھا اور کچھ لوگ باشوار کے حوالے سے بات کر رہے تھے جب آخری دفعہ باشوار آیا تھا تو جس جس نے اس منحنی سے دوسری کے چاند کو دیکھا تھا وہ آثار کا اظہار کرتے ہوئے جذبات کی فراوانی سے کام لے رہا تھا۔ وہ چربی تو نہ لے سکا مگر دال لینے میں کامیاب ہو گیا۔
وہ اس نے اپنے لوڈر رکشے کے میٹر کے ساتھ والے تھیلے میں ڈالی اور دن بھر کی مشقت کے لیے تیار ہو گیا۔ وہ اور جیسے لاکھوں لوگوں کی یہی روز کی زندگی تھی۔ صبح اٹھو، دال کے لیے قطار لگو اور پھر دن بھر کی مشقت کے لیے تیار ہو جاؤ تاکہ اگلے دن پھر دال کی لائن میں لگ سکو اور دھکم پیل کر کے چربی لے سکو اور ابلی دال نگلنے سے بچ سکو۔ یہی معمول تھا جو آج جاری تھا اور نہیں معلوم کب سے لے کر کب تک جاری رہے گا۔ کیا یہ معمول غلط تھا؟
کم از کم یہ سوال وسیم اور اس جیسے لاکھوں کے لیے بے معنوی تھا۔ وہ تجربیت پسندی کی نئی تشکیل تھے۔ وہ دن ہونے سے لے کر دن کی روشنی ختم ہونے تک مسلسل کام میں جتے رہتے۔ اور باشوار کا دن بھی ایسا ہی گزر رہا تھا۔ رات والی چاشنی ہوا ہو چکی تھی ہر طرف کام کرتی، وزن ڈھوتی ان میلی روحوں کو دیکھ کر لگتا تھا کہ یہ کہیں بھول ہی نہ گئے ہوں کہ آج رات چاند ابھرے گا۔ بہت زیادہ دیر ہو چکی تھی کام کرتے کرتے۔ اس کے پیلے دانتوں تک مٹی در آئی تھی اس کے دھوپ سے جل چکے بازوؤں، منہ اور گردن پر بہنے والا پسینہ مٹی کی دھاریاں بنا کر بہہ رہا تھا۔
دن ڈھلنے میں دیر تو تھی مگر اتنی زیادہ نہیں۔ اچانک اس نے دیکھا کہ سب لوگ آسمان کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ کچھ ہاتھ کر رہے ہیں تو کچھ آنکھوں پر سایہ بنا کر دیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آسمان پر وہ ایک سفید گول جسم دیکھ رہے تھے۔ وہ سب حیران تھے کیونکہ ایسا انہوں نے ایسی زندگی میں نہیں دیکھا تھا۔ وہاں موجود بزرگ بھی ایسے ہی پریشان تھے۔ کسی نے کہا کہ یہی تو چاند ہے۔ مگر یہ چاند کیسے ہو سکتا ہے کیونکہ ایک تو وہ اس طرح گول نہیں ہوتا اور دوسرا وہ دن میں نہیں آتا۔ اگر ان کے پاس اور وقت ہوتا اور مشقت مجبوری نہ ہوتی تو وہ شاید یہ معلوم کر پاتے کہ پورا چاند ایسے ہی ہوتا ہے مگر یہ آسان نہ تھا کہ انہوں نے زندگی میں ایسا کچھ بھی نہیں دیکھا تھا۔
کچھ ہی دیر میں سب نے اسے دیکھ لیا، حیران ہولیا اور پھر سے مشقت شروع کردی۔
دن کی روشنی ختم ہونے کے بعد جب وقت میسر ہوا تو وہ چاند کا انتظار کرنے لگے۔ جب ان کے روایتی چاند جیسا کچھ سامنے نہ آیا تو اب اس مکمل چاند کی چاشنی کو خوشگوار حیرت کے ساتھ قبول کرنے لگے اور خوشی کا سامان کرنے لگے۔
واسو گھر آیا گرد آلود پانی خود پر بہایا، شرٹ بدلی، پکے کا سامان اٹھایا اور گندے ٹبے کی طرف چل پڑا۔ گندا ٹبہ کوڑے کرکٹ کا ڈھیر تھا جو اتنا پرانا تھا کہ لوگوں کے پاؤں کے نیچے دب دب کر ایسا ہو چکا تھا کہ اس پر بیٹھا، لیٹا اور ناچا جا سکے یا کوئی دعوت اڑائی جا سکے۔
واسو وہاں پہنچا تو دیکھا کہ اجی بھی آ رہا ہے۔ اجی بھی ویسا ہی سانولا تھا مگر اس کو مشقت کم کرنی پڑتی تھی اور علاقے میں مشہور اپنی ”چم کی کمائی“ کے سبب کچھ صاف کپڑے پہنا کرتا تھا اور جسم پر بال نہ ہونے، پتلی کمر، کچھ نازک جلد اور مٹک کر چلنے کے سبب وسیم کے لیے خوبصورتی کا معیار بن چکا تھا۔
جب وہ آیا تو سگریٹ بنائے گئے، پیے گئے اور باتیں کی گئیں۔ دونوں چاند کی طرف آنکھیں بند کیے جسم کے ہر پور سے چاند کو دیکھ رہے تھے جب وسیم نے کہا کہ اجی کیا اسپ تم سے خوبصورت ہوں گے ؟
ہاہاہا، کیا کہ رہا ہے۔ میں نے سنا ہے کہ ان کے جسم سفید ہوتے ہیں ایسے کہ چمکتے ہوئے۔
ہاں سنا ہے میں نے۔ پھر وہ مل کر اسپوں کے حسن کے حوالے سے سنی باتیں پھر سنانے لگے۔ ان کے جسم مہکتے ہیں۔
نرم ملائم ہوتے ہیں ہڈیاں نظر ہی نہیں آتیں۔ ان کے چہروں پر ہنسی نظر آتی ہے۔
انکے بال چمک رہے ہوتے ہیں۔
انہوں نے کبھی زندگی میں اپنے وزن سے زیادہ وزن نہیں اٹھایا۔ وہاں پولیس نہیں ہوتی ہے۔ یار وہاں تو چاند بھی ایسا ہی روشن ہوتا ہو گا۔
ایسی اور کئی باتیں کرتے ہوئے اچانک واسو سوال کرتا ہے کہ اگر تم ایک دن کے لیے اسپ بن جاؤ تو کیا کرو گے؟
میں میں، ہر رات ایسا ہی چاند ارزلوں کے لیے ابھارا کروں گا۔
تم کیا کرو گے؟
میں، میں تم سے شادی کروں گا۔
دونوں چاند کی طرف دیکھتے ہوئے زوردار قہقہہ لگاتے ہیں۔


