رشتے۔ کانچ کی چوڑیاں


بات فلمی سی لگتی ہے مگر ہوا یہی تھا کہ ساس بہو کی روز روز کی چخ چخ، کوشش کے باوجود کم نہ ہونے پر ایک دن اسی گرما گرمی میں دونوں باپ بیٹا نے اپنی بیویوں کو بیک وقت طلاق دے دی تھی۔ اور تب اس چخ چخ کو آنچ دینے والے رشتہ داروں کے ( بظاہر ہمدردی کرتے ) قہقہوں اور ٹھٹھوں کی گونج برادری بھر میں عرصہ سنائی دیتی رہی۔

اور جب شیخ صاحب سے دوستانہ ہوتے کسی ان کے مہربان نے مجھے یہ کہانی سنائی تو میرے منہ سے نکلا تھا، ”رشتے کانچ کی چوڑیاں ہوتے ہیں اور ان کو توڑ خوشی مچانے والوں سے بچا کے رکھنا پڑتا ہے۔“

شیخ صاحب نے آٹو پارٹس کی امپورٹ شروع کی تو ہمیں بھی اپنا گاہک بنا لیا اور کچھ مزاج یوں ملے کہ عمر کے خاصے فرق کے باوجود ہمارا تعلق دوستانہ سے بڑھتے بے تکلفی تک پہنچ گیا اور ان کی بذلہ سنجی، جب بھی کراچی سے فیصل آباد آتے گھنٹوں چائے کھانے کے ساتھ رونق بنی رہتی۔ ان ہی دنوں ان کی دوسری شادی اور بیوی کے فیصل آباد ہی میں مقیم ہونے کی خبر بھی آ چکی تھی، مگر میری ذاتی معاملات پر ان سے گفتگو کبھی نہ ہوئی۔

اور اس دن صبح کافی دیر قہقہے لگاتے سہ پہر پھر میری دکان میں داخل ہوئے تو بہت پریشان لگے تھے اور ہم علیحدہ اوپر میرے دفتر میں جا بیٹھے تھے۔ مجھے بتایا کہ ان کو یک دم ایک شدید پریشانی نے گھیر لیا ہے۔ ان کی بیٹی کی منگنی کچھ عرصہ ہی پہلے فیصل آباد کے فلاں کاروباری گھرانے میں ہوئی ہے۔ شادی کی تاریخ چند روز ہی بعد کی ہے اور وہ اسی انتظام کے سلسلہ میں یہاں آئے ہیں۔ اچانک آج برادری سے کسی دوست نے رابطہ کر کے بتایا کہ لڑکے کا چال چلن تو خاصہ مشکوک ہے اور بہت سے قصے اور افواہیں سنا انہیں کہا ہے کہ ابھی وقت ہے بچ جائیں اور یہاں رشتہ نہ کریں۔

اب نہ وہ صرف اس وجہ سے پریشان تھے بلکہ یہ بھی تھا کہ اگر آج وہ یہ رشتہ توڑ دیتے ہیں تو ان کے ماضی کی شہرت کے داغ ( پہلی مرتبہ مجھ سے ذکر کیا ) مزید بڑھتے آئندہ بچی کے لئے کسی مناسب رشتہ میں رکاوٹ بن جائیں گے۔ اب اتفاق ایسا تھا کہ نہ صرف دلہا کے باپ اور دادا بلکہ ان کے دوسرے عزیزوں سے بھی میرا کاروباری لین دین رہا تھا اور بات میری سمجھ اور یقین سے بالا اس لئے بھی تھی کہ میری سابقہ رہائش ان کی کوٹھی کے قریب رہی تھی اور اکثر سیر کرتے سلام دعا ہوتی۔

اچانک ذہن میں آیا کہ میرا بیٹا اور یہ لڑکا تو سکول میں کلاس فیلو بھی تھے۔ چنانچہ ان کو مشورہ دیا کہ جلد بازی میں فیصلہ نہ کریں۔ سوچیں اور دعا کرتے رہیں اور ایک دن کا وقت مجھے دیں کہ میں بیٹے سے کہہ اس کے باقی دوستوں سے اپنے طور معلومات لے لوں۔ شیخ صاحب نکلنے لگے تو اچانک پوچھ بیٹھا کہ یہ آپ کی ہمدردی کرتے رشتہ تڑوانے والے کون تھے۔ اور آپ نے پتہ کیا کہ لڑکے والوں سے ان کی ان بن یا پرخاش تو نہیں اور آپ سے اتنی ہمدردی کیوں کہ بغیر آپ کے پوچھے آپ کے ہمدرد بنے۔

وہ چونک سے گئے اور وہیں بیٹھ میرے فون سے تین چار تعلق والوں سے بات کی تو کہانی کچھ یوں سامنے آئی کہ ان ہمدرد کے کسی بہت قریبی عزیز کی بچی سے اس کے رشتے کے بات پکی ہوئی تھی مگر رشتہ طے نہ ہو سکا اور وہ دوبارہ اسی لڑکے سے رشتہ کرنے کے خواہشمند تھے۔ طے پایا کہ ایک آدھ روز مزید دوست احباب سے پوچھ کی جائے۔ تیسرے روز صبح وہ خاصے مطمئن نظر آتے کہہ رہے تھے کہ اب مجھے یقین ہو گیا ہے کہ اس ہمدرد نے ( برادری کی اصطلاح کے مطابق ) اپنے مفاد کی خاطر ”لات ماری“ تھی جو ناکام رہی۔ میری رپورٹ بھی مثبت اور میرا بیٹا بھی کئی مشترکہ دوستوں سے رابطہ کے بعد اسے محض بغض میں رشتہ تڑوانے کی گھٹیا کوشش قرار دے چکا تھا۔

ایک ہفتہ بعد ہم میاں بیوی اس شادی کی تقریب میں شریک تھے اور کئی برس بعد میرے نقل وطن تک تو نہ صرف جوڑا ہنسی خوشی گزر کر رہا تھا بلکہ دونوں گھرانے بھی شیر و شکر تھے۔ اور شیخ صاحب اور میں گپ لگاتے کبھی کبھار سنجیدہ ہوتے یہی فقرے دہرا دیتے، ”رشتے کانچ کی چوڑیاں ہوتے ہیں اور ان کو توڑ خوشی مچانے والوں سے بچا کے رکھنا پڑتا ہے۔“ ان چوڑیوں کو بچانے اور ان رشتوں میں دراڑ ڈال یا تڑوا اپنی انا یا بغض کی تسکین کرتے خوش ہونے والوں کو پہچاننے کی کوشش ضرور کر لینا چاہیے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments