سفوکلیز کا ڈرامہ (Trachinian Women)


سفوکلیز (Sophocles) یونان کے اہم ترین ڈراما نویس مانے جاتے ہیں۔ ان کا عہد اسکیلس (Aeschylus) اور یورپیڈیز (Euripides) سے پیوستہ ہے۔ البتہ اسکیلس ان سے قبل المیہ نگاری میں آ چکے تھے۔ اور یورپڈیز، سفوکلیز کے بعد اس پیشے میں داخل ہوئے۔ ان دونوں کی اہمیت تو کسی فرد سے پوشیدہ نہیں۔ لیکن ان دنوں کے ہوتے ہوئے بھی سفوکلس کو ان سے زیادہ انعام، اور پذیرائی ملی۔ سفوکلس نے تعداد میں ان سے زیادہ ڈرامے بھی لکھے۔ جن کی تعداد ایک سو تئیس بتائی جاتی ہے۔ لیکن وقت کے دھندلکوں نے ان کے اوراق کو اپنے اندر سمیٹ لیا۔ اور صرف 7 کی تعداد میں ڈرامے ہمارے اور آپ کے حصے میں آئے۔ انہی سے سفوکلس کی عظمت کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ اور ہر ناقد نے ان کو صف اول کا ڈراما نویس کہا ہے۔ سفوکلیز کے تراجم اکا دکا ہی ہوئے ہیں، جن میں ”آڈیپس ریکس“ جناب عقیل احمد روبی اور ایک پرانے نامعلوم مصنف نے ترجمہ کیا ہے۔ اور ایک ڈرامہ ”اینٹی گونی“ کا بھی منظوم ترجمہ دستیاب ہے۔

ٹریکینین وومن (Trachinian Women) بھی سفوکلیز کی قلم سے نکلی ایک شاہکار تمثیل ہے۔ ڈرامے کے آغاز ڈیینائرا سے ہوتا ہے۔ جو اپنے خاوند ہرکلیز بن زیوس کی جدائی میں تڑپ رہی ہے۔ شروعاتی ڈائیلاگ جو کہ مونولاگ کی ساخت لیے ہوئے ہیں۔ ان میں ڈیینائرا اپنے خاوند سے جدائی کا رونا روتی ہے۔ اور اپنی گزرے ایام کو یاد کر کے کہتی ہے کہ کیسے ہرکلیز  نے سمندری دیو کو جو خود مجھ سے عقد کا آرزومند تھا مقابلے میں مات دے کر مجھ حاصل کیا تھا۔

اور وہ خبر بھی آ پہنچی کہ ہرکلیز جنگ سے صحیح سلامت واپس آ گیا ہے۔ اور غلام اپنے آقا کے حکم کے تحت کچھ عورتوں کو بھی ساتھ لائے ہیں۔ جو کہ تسخیر کیے ہوئے ملک کی عورتیں تھیں۔ اور اب ہرکلیز کے لونڈیاں بنائی جائیں گی۔ ایک غلام کی زبانی ہرکلیز کی ملکہ کو یہ سب پتا لگتا ہے۔ ان میں ایک جو کہ بہت غمگین دکھائی پڑتی ہے۔ ملکہ کو اس پر کافی رحم آتا ہے۔ کچھ ہی دیر میں ایک شخص جو کہ دور دراز کی بات سن کر آیا ہے۔ ملکہ کو بتاتا ہے کہ اس غلام نے جو اس ملک کو دشمنی کی سبب تاراج کرنے والی کہانی آپ کو سنائی ہے وہ من گھڑت ہے۔

دراصل اس بادشاہ کی بیٹی (جو کہ اذیت میں مبتلا دکھی) پر ہرکلیز کا دل آ گیا تھا۔ اور فقط اس عورت کی خاطر ہی اس نے اس ملک کو تسخیر کیا ہے۔ ملکہ کے دل میں قیامت برپا ہوجاتی ہے کہ اتنے سالوں بعد خاوند کا قرب نصیب ہوا وہ بھی اس کی سوتن لے جائے۔ تب اچانک اسے ایک واقعہ یاد آتا ہے کہ جب ایک سمندری تیراک ”نیسز“ عقد کے بعد اسے ہرکلیز کے ہمراہ اسے گھر لے جانے لگتا ہے تو راستے میں اس کی نیت میں خلل پڑ جاتا ہے۔ اور دست درازی کر بیٹھتا ہے۔ ڈیینائرا چلا اٹھتی ہے۔ ہرکلیز وہیں تیر اندازی سے اس کا کام تمام کر دیتا ہے۔ دم مرگ نیسز اس پر احسان کر جاتا ہے، کیونکہ ازل سے وہ اس کی سواری کا کام سرانجام دے رہا تھا اور آخری سواری بھی ڈیینائرا ہی تھی۔ نسیز اس سے کہتا ہے کہ جہاں تیر کا زخم ہے وہاں سے خون جمع کرو۔ اور جب کبھی ہرکلیز کسی اور پر شیفتہ ہو تو یہ خون سحر کا کام کر کے اسے سوائے تمہارے کسی اور پر فریفتہ ہونے سے باز رکھے گا۔ ”

اس کے بعد وہ اس خون سے ایک ریشم کا بال ڈبو کر ہرکلیز کے لبادے میں چھڑک کر ملازم کے حوالے کرتی ہے۔ ”ملازم اس کو لے کر نکل جاتا ہے۔ لیکن محل کے اندر اس پر ایک راز منکشف ہوتا ہے، وہ یہ کہ جس ریشمی بال سے اس نے لبادے پر نسیز کی دی ہوئی امانت چھڑکی تھی۔ وہ ریشمی بال سورج کی تپش سے راکھ کے مشابہ ہو گیا ہے۔ اور وہ بھاگتی ہوئی“ کورس ”کو یہ سب بتاتی ہے۔ اور یہ بھی کہتی ہے جس نسیز کی موت فقط میری وجہ سے ہوئی وہ بھلا مجھ سے بھلائی کیوں کرنے لگا؟

اور اپنے آپ کو حقیقت سے آشنا نہ ہونے پر کوستی رہتی ہے۔ یہ صرف اپنے قاتل کو قتل کرنے کی اس نسیز کی سازش تھی جسے میری کم عقلی نے نہ سمجھا۔ اور وہاں ہرکلیز کے لبادہ پہنتے ہی لبادہ اس کے جسم پر چپک جاتا ہے۔ اور وبا نما بیماری اسے لگ جاتی ہے اور اذیت کی شدت کے باعث سے تلوار بازی سے اس غلام کو ہلاک کر دیتا ہے جس نے لبادہ اس کے سپرد کیا تھا۔ ہرکلیز کو موت اپنے آنکھوں کے سامنے دکھائی دیتی محسوس ہوتی ہے۔ اور اپنے بیٹے سے اپنے ملک میں لے چلنے کو کہتا ہے۔

اور کچھ لوگوں کے ہمراہ وہ اسے لے جاتے ہیں۔ اس کے بعد بیٹا اپنی ماں کو طعن و تشیع کرتا ہے کہ ایک دیوتا کی موت تمہاری وجہ سے ہوئی۔ بیٹا اپنی ماں کی حقیقت سے آشنا نہیں ہوتا۔ اس کی ماں اس جرم کا بوجھ سہ نہیں پاتی اور محل میں جا کر خنجر سے خود کو ہلاک کر دیتی ہے۔ اس کے بعد ہرکلیز بستر مرگ پر بھی اپنی بیوی کو لعنت و ملامت کرتا پھرتا ہے۔ تب اس پر اصل راز بیٹے کی زبانی کھلتا ہے اور ہرکلیز کف افسوس ملتا رہ جاتا ہے۔ اس کے بعد بیٹے کو حکم دیتا ہے کہ اس پہاڑ پر مجھے آتش کی نظر کیا جائے اور جس دوشیزہ نے اس کے بستر پر اس کا ساتھ دیا ہے صرف اس کا بیٹا ہی اس سے عقد کرے۔ نا چاہتے ہوئے بھی بیٹے کو ان دونوں کاموں کے لیے ہامی بھرنی پڑتی ہے۔ یہیں ڈرامہ اپنے اختتام کو پہنچتا ہے۔

سفوکلیز کے اس ڈرامے کے اہم کردار ہرکلیز اور اس کی بیوی ڈینیائرا ہیں۔ ڈیینائرا کی زندگی سراپا غم اور سراپا تنہائی ہے۔ وہ ہر روز اپنے خاوند کی راہ تکتی ہے۔ اس کی آدھی زندگی اسی طرح بسر ہو چکی ہے۔ اور ایک مکالمے میں ہرکلیز سے عقد کرنے کو بدقسمتی بھی کہ قرار دیتی ہے۔ اس کی اولاد کو اپنے باپ کا قرب تو ہے لیکن پدرانہ آشنائی نہ ہونے کے برابر ہے۔ ڈیینائرا زندگی کی ہر غم برداشت کر لیتی ہے حتیٰ کہ ہرکلیز کی لائی ہوئی سوتن کو بھی گوارا کر لیتی۔ لیکن جرم کا احساس، اگرچہ وہ جرم انجانے میں ہی کیوں نہ ہوا ہو اس کے خاوند کی موت کا باعث بنتا ہے۔ اور خاوند کی موت کا سہرہ اپنے سر لے کر اپنے اولاد کی بددعا لے کر کوئی عورت کس طرح زندہ رہ سکتی ہے۔

ہرکلیز کی اپنی بیوی بچوں سے تڑپ یہاں نمایاں ہوتی نہیں دکھتی، جو چیز مفقود ہے وہ نمایاں کہاں سے ہوگی۔ اس بات کا آپ اندازہ لگا لیں کہ اپنی بیوی بچوں کو ہوتے ہوئے کسی ملک کو ایک عورت کی خاطر تسخیر کرنا بھلا اس آدمی میں اپنی بیوی کے لیے کہاں تڑپ ہو سکتی ہے۔ جنگی محاذ پر جانے والے گھر رہ جانی والی بیویوں کی طرح تنہائی کا شکار نہیں ہوتے۔ اور انہیں ڈراموں سے یہ پتا چلتا ہے کہ جنگی سپاہیوں کی زندگی عیش میں بسر ہوتی تھی۔ کیوں کہ شراب، شباب، اور ہر چیز ان کو میسر تھی۔ یہاں ہرکلیز کے کردار کو سوگوار نہیں کہ سکتے بلکہ اس کا کردار موت سے پہلے مسرت سے معمور ہوتا ہے۔

اس ڈرامے میں دکھایا گیا ہے، کہ احساس جرم جینا دوبھر کر دیتا ہے۔ اور انسان کے جینے کی آس ختم کر دیتا ہے۔ یہاں بھی ڈئینائرا کے صاف دل سے انجانے میں ایک ہولناک عمل ظہور میں آتا ہے۔ اس سے یہ مطلب بھی نکل سکتا ہے کہ کئی بار انسان اچھا کام کرنے کا تہیہ کرتا ہے اور اس کا انجام الٹا ہوتا ہے۔ ہرکلیز کی موت جیسا کی پیشن گوئی کے مطابق مردہ انسان کے وجہ سے رونما ہوگی۔ اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ دیوتاؤں کی پیشن گوئی کبھی غلط نہی‍ں ہوتی۔

یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ کس طرح عورت ہی ایک عورت کو ایسے کام سر انجام دینے پر مجبور کرتی ہے جو ہولناک ہوتے ہیں۔ اور عورت جس کو ہرکلیز فتح کر کے اپنی جنسی مسرت کے لیے لایا تھا خود اس کی موت کا سبب بنتی ہے۔ یہاں عورت ہی تباہی کا سبب بنتی ہے، اور عورت ہی تباہ ہوتی ہے۔ مرد کا اس المیے میں کوئی ہاتھ نظر نہیں آتا۔ ایک بیوی اپنے خاوند اور اپنی بڑھتی عمر کو لے کر ایسا کام سرانجام دیتی ہے جو کوئی عقل و فہم والی عورت شاید ہی سرانجام دیتی۔

وہ اس لیے کہ جس مقتول کا خون وہ سینت کر رکھتی ہے اس کا قاتل اس کا خاوند ہی ہے۔ اور بھلا اس مقتول کا خون ان کو پھلنے پھولنے کی اجازت کیوں دے گا؟ یہی بات ڈییانئرا کو دیر سے سمجھ آتی ہے تب تک تیر کمان سے نکل چکا ہوتا ہے اور اس کا خاوند بستر مرگ پر کراہتا ہوا اپنے ملک پہنچتا ہے۔ لیکن ایک عورت سراپا غم، اور فراق زدہ۔ اپنے خاوند کی آمد پر خوشی کے ساتھ ساتھ غم، ایک سوتن کا غم، بھی برداشت کرتی ہے۔ اور اس کی الفت اسے اپنے خاوند کو تقسیم کرنے سے باز رکھتی ہے۔ اور اس کے جذبات کو یہ تقسیم گوارا نہیں۔ اور جذبات انسان کے حاکم ہیں اور انسان خود ان کا محکوم ہی رہا ہے۔ یہ جذبات ہی ہیں جو انسان کو تباہ کرتے ہیں۔

یہاں عورت مظلوم کی صورت میں پیش آتی ہے۔ کیونکہ تین واردات عورت پر وارد ہوتے ہیں، فراق، سوتن اور احساس جرم۔ اس کا اپنا بیٹا اس سے تلخ سے تلخ ترین مکالمے اور قاتل تک کہتا ہے۔ اور بنا سچائی جانے اپنی ماں سے بدکلامی کر بیٹھتا ہے۔ اس کی ماں پہلے سے ہی اپنے کیے پر نادم اور خوف میں مبتلا تھی۔ اور شاید یہ امید لگائے بیٹھے تھی کہ اتنی بری خبر نہ آئے گی جتنی آتی ہے۔ اور اس پر بیٹے کے لعن و طعن نے اس کا احساس جرم دوہرا کر دیا ہوتا ہے۔

وہ چپ چاپ بنا کچھ صفائی دیے اندر چلی جاتی ہے۔ چپ چاپ چلے جانے کا مقصد سفوکلیز کے ہاں خودکشی ہے۔ یہ بات ان کے ڈراما ”اینٹی گونی“ سے بھی واضح ہوجاتی ہے۔ جب کریون کی بیوی اپنے بیٹے کی موت کا خبر سنتی ہے تو وہ بھی خاموشی سے محل میں چلی جاتی ہے۔ اور انجام دونوں عورتوں کا یکساں ہوتا ہے۔ دیوتاؤں کی کوئی بات غلط ثابت نہیں ہوتی یہی بات آڈیپس ریکس میں بھی نمایاں ہے۔ کیونکہ دیوتا قسمت کا حال جانتے ہیں۔ اور قسمت کبھی نہیں بدلتی۔ ٹریکنین وومن میں یہ بھی دکھایا گیا ہے آپ کا دشمن چاہے وہ کتنا بھی عزت دار اور قابل رحم دکھے آپ کا دشمن ہی ہے، مرتے مرتے بھی دشمن ہے اور موت کے بعد دشمن ہی ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

فرید بلوچ، جامشورو کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments