نئے انتخابات کی توقع، مگر اکتوبر ہی کیوں


مسلم لیگ (نون) کے سرکردہ رہ نماﺅں سے ”آف دی ریکارڈ“ گفتگو کریں تو بلا جھجک اعتراف کر لیتے ہیں کہ ایک خاص شخصیت کی اہم ترین ریاستی عہدے پر تعیناتی کے خدشات نے انہیں عمران خان صاحب کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے وزارت عظمیٰ سے ہٹانے کو مجبور کیا تھا۔ نجی محفلوں میں ہوئے اس اعتراف کو خرم دستگیر خان صاحب ایک ٹی وی انٹرویو میں برسرعام بھی لے آئے۔ مصر رہے کہ تحریک عدم اعتماد نے عمران خان کو دس سال تک وطن عزیز کا بااختیار حاکم رکھنے کا منصوبہ ناکام بنا دیا ہے۔ ذاتی طور پر اگرچہ میں اس سوچ پر اب بھی قائم ہوں کہ جن صاحب کی تعیناتی کے امکانات نے مسلم لیگ (نون) کو بقول منیر نیازی ”ڈرا دیا“ تھا وہ ممکنہ عہدہ بالآخر سنبھال بھی لیتے تو اقتدار میں پانچ سالہ آئینی مدت مکمل کر لینے کے بعد تحریک انصاف کے لئے آئندہ انتخاب میں اکثریت کا حصول ممکن نہ رہتا۔

ہماری معیشت گزشتہ کئی برسوں سے سنبھل نہیں پا رہی ہے۔ عالمی اداروں اور ”برادر ممالک“ سے مانگ تانگ کر رونق لگانے کی کوششیں ہوتی رہیں۔قطعی داخلی اسباب سے نبرد آزما ہونے کی ترکیب ابھی دریافت ہی نہیں ہو پا رہی تھی کہ روس رواں برس کے آغاز میں یوکرین پر چڑھ دوڑا۔ اس کے نتیجے میں تیل اور گیس کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں۔ اس کے علاوہ غذائی بحران بھی دیوہیکل اژدھے کی صورت غریبوں کو ہڑپ کرنے کے ارادے سے آگے بڑھے چلا جا رہا ہے۔ روس اور یوکرین کے مابین جنگ نے امریکہ، برطانیہ اور جرمنی جیسی طاقت ور معیشتوں کو بھی چکرادیا ہے۔ افراطِ زر ان ممالک میں نئے ریکارڈ قائم کر رہا ہے۔ اس کی وجہ سے رائے دہندگان میں جو غصہ ابل رہا ہے اس کا مثالی اظہار حال ہی میں برطانیہ کے ضمنی انتخاب میں ہوا ہے جہاں حکمران جماعت کو اسمبلی کی ایک نشست 90 سال بعد ہارنا پڑی۔ رواں برس کے نومبر میں امریکی پارلیمان کے انتخاب بھی ہونا ہیں۔ سروے بتا رہے ہیں کہ بائیڈن کی جماعت ان کی وجہ سے اس معمولی اکثریت سے بھی محروم ہو جائے گی جو فی الوقت اسے امریکہ کی پارلیمان میں میسر ہے۔ پاکستان دنیا سے کٹا کوئی جزیرہ نہیں۔ 2023 کے اکتوبر/نومبر میں ہوئے انتخاب تحریک انصاف کو ویسی ہی مشکلات کی زد میں لاتے جن کا سامنا ان دنوں امریکہ اور برطانیہ کی حکمران جماعتیں کر رہی ہیں۔

بہرحال مسلم لیگ (نون) گھبراہٹ میں دور اندیش رویہ اختیار کرنے میں ناکام رہی۔ عمران صاحب کی فراغت کے بعد شہباز شریف نے گیارہ جماعتوں پر مشتمل ”بھان متی کا کنبہ“ دکھتی حکومت کی قیادت سنبھال لی۔ دس برس تک آبادی کے اعتبار سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کے بااختیار وزیر اعلیٰ رہے شہباز شریف صاحب کو ”اچھی حکومت“ اور تاج محل کی طرح شاندار دکھتے ”میگا پراجیکٹس“ کی علامت تصور کیا جاتا رہا ہے۔ وزیر اعظم کا منصب سنبھالنے کے بعد مگر وہ ”تجربہ کار“ منیجروالی شہرت تیزی سے کھو رہے ہیں۔ مسائل کے موجودہ گرداب کا فقط ان کی ذات کو ذمہ دار ٹھہرانا اگرچہ زیادتی ہو گی۔ عوام کی اکثریت مگر تفصیلات سے لاتعلق ہوتی ہے۔ وہ کسی بھی حاکم کو انگریزی والے Here and Now کے پیمانے سے جانچتی ہے۔ مسلم لیگ کے کئی دیرینہ حامی بھی میرے روبرو یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ عمران خان صاحب کی رخصت کے فوری بعد لوڈشیڈنگ کے طویل وقفے کیوں نمودار ہونا شروع ہو گئے۔”اپریل تک تو بتی کبھی نہیں جاتی تھی“۔ میں لوڈشیڈنگ کے ٹھوس اسباب گنوانے کی کوشش کرتا ہوں تو اکتا کر جمائیاں لینا شروع ہو جاتے ہیں۔

ہمارے عوام کی خاطر خواہ تعداد خواہ وہ عمران خان صاحب کی حامی نہ بھی ہو اکثر مجھ سے یہ سوال بھی کرتی ہے کہ پاکستان روس سے ”سستا تیل“ کیوں حاصل نہیں کر رہا۔ انہیں یہ گماں ہے کہ سابق حکومت نے ہماری ضرورت کا تیل عالمی منڈی پر چھائے نرخوں سے ”تیس فی صد“ رعایت کے ساتھ حاصل کرنے کا بندوبست کر لیا تھا۔ ”امریکی سازش“ کے تحت قائم ہوئی ”امپورٹڈ حکومت“مگر مبینہ بندوبست سے فائدہ اٹھانے کے بجائے پیٹرول، بجلی اور گیس کے نرخ بھاری بھر کم تعداد میں یکمشت بڑھاتے ہوئے عوام کی کمر توڑرہی ہے۔ عوام کی اکثریت کے ذہنوں میں ابلتے ان سوالات کے موجودہ حکومت خاطر خواہ جوابات فراہم نہیں کر پائی ہے۔

امید کھو دینے کے اس ماحول کا تحریک انصاف جارحانہ حکمت عملی اپناتے ہوئے بھرپور فائدہ اٹھا رہی ہے۔ روایتی اور سوشل میڈیا کو کمال مہارت سے استعمال کرتے ہوئے عمران خان صاحب نے ریاستی اداروں کو بھی مدافعانہ خاموشی اختیار کرنے کو مجبور کر دیا ہے۔

اس تناظر میں دو دن قبل موجودہ حکومت کے کئی ”اتحادی“ رواں مالی برس کے لئے تیار کردہ بجٹ پر گفتگو کرتے ہوئے پھٹ پڑے۔ ان کی تقاریر نے شہباز حکومت کی بابت ”صبح گیا یا شام گیا“ والا تاثر پھیلانا شروع کر دیا ہے۔ ”ستے خیراں“ کی وضاحتیں اس ضمن میں کام نہیں آرہیں۔ دریں اثناءمسلم لیگ (نون) کے ”ذمہ دار ذرائع“ یہ خبر بھی پھیلانا شروع ہوگئے ہیں کہ اسحاق ڈار صاحب جولائی کے وسط میں وطن لوٹ رہے ہیں۔”ذمہ دار ذرائع“ کی جانب سے پھیلائی یہ ”خبر“ واضح انداز میں پیغام دے رہی ہے کہ معاملات موجودہ وزیر اعظم اور ان کی ٹیم سے سنبھل نہیں رہے۔ اسحاق ڈار صاحب کو وطن لوٹ کر کوئی ”چمتکار“ دکھانا ہو گا۔ جان کی امان پاتے ہوئے اگرچہ یہ التجا کرنے کو مجبور ہوں کہ فی الوقت ٹھوس وجوہات کے باعث ”چمتکاری“ دکھانا کسی بھی ”نورتن“ کے لئے ممکن نہیں ہے۔ اس کا انتظار مگر نئے انتخاب کی توقع بڑھائے گا جس کے لئے رواں برس کے اکتوبر کا ذکر ہو رہا ہے۔”اکتوبر“ ہی کیوں؟اس سوال کا جواب اب تک آپ مجھ سے کہیں بہتر انداز میں جان چکے ہوں گے۔

(بشکریہ نوائے وقت)


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments