معشوقِ اعظم


اردو شاعری کا رسومیاتی محبوب از حد حسین اور بلا کا جھوٹا ہوتا ہے،شبِ وصل آنے کا وعدہ تو کرتا ہے وفا نہیں کرتا، عشاق تمام رات قیامت کا انتظار کرتے رہتے ہیں، محبوب کے وعدوں کی حقیقت جانتے ہیں مگرایک مخصوص قلبی حالت میں رہنا پسند کرتے ہیں، دلیلیں محبوب کے خلاف ہوتی ہیں مگر سوچتے اس کی حمایت میں ہیں، اور میر صاحب نے تو یہ کہہ کر بات ہی تمام کر دی کہ ”تیرے ایفائے عہد تک نہ جیے،عمر نے ہم سے بے وفائی کی“۔

یہی عاشق و معشوق کا رشتہ کبھی کبھی عوام کسی سیاست دان سے بھی قائم کر لیتے ہیں، پھر وہ سیاست دان سچ بولے یا جھوٹ، صحیح کرے یا غلط، اس کے چاہنے والے عالمِ وارفتگی میں ”حق حق“ کے فلک شگاف نعرے بلند کیے جاتے ہیں، ہر حال میں سرِ تسلیم خم رکھتے ہیں، اور یہ تو ہم جانتے ہیں کہ عشق کا پہلا شکار عقل ہوا کرتی ہے، قول ہے کہ ”محبت میں عقل بحال رکھنا تو جیوپٹر کو بھی عطا نہیں کیا گیا تھا“ ( رومن دیو مالا میں جیوپٹر خداﺅں کا خدا تھا)۔ پھر اس سفر میں ”میں نہیں سب توں“ کا مقام آتا ہے، اور عاشق اس سفر کا آخری قدم اٹھاتا ہے، یعنی بہ قول حضرت شعیب بن عزیز ”دوستی کا دعویٰ کیا، عاشقی سے کیا مطلب، میں ترے فقیروں میں، میں ترے غلاموں میں“۔

عمران خان اور ان کے حواریوں کے درمیان بھی کچھ اسی قسم کا تعلق ہے، خان صاحب معشوق ہیں اوران کو چاہنے والا گروہِ عاشقاں، شمع اور پتنگے، داستانِ عشق کے مستند کردار، معشوق کچھ بھی کہے عشاق آمنا و صدقنا کا وردجاری رکھتے ہیں، معشوق کے ہر گناہ کوعشوہ و غمزہ و ادا قرار دیتے ہیں، یعنی اس زلف میں پہنچ کر ہر نوع کی تیرگی حسن کہلاتی ہے۔ذرا فرض کریں کہ اخلاقی مدار میں جس طرح کے ”الزامات“ عمران خان پر لگتے رہے ہیںاگرکسی اور معروف شخص پر لگتے تو وہ سیاست میں آنے کے بجائے شرعی داڑھی سے چہرے کو مزین کرتا، حرم میں سیلفیاں کھینچتا، اور اپنی ہرہر حرکت سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتا کہ وہ صدقِ دل سے توبہ کر چکا ہے لہٰذا اسے معاف کر دیا جائے، مگر عشاق نے”یہ ان کا نجی معاملہ ہے“ کہہ کرخان صاحب کے سب اخلاقی گناہ معاف کر دیے (حال آں کہ رہنما کو لوگ اس کی نجی زندگی سے پہچانتے ہیں)۔ خیر، پھر خان صاحب کوچہءسیاست میں داخل ہوئے تو ان کے باہم متصادم بیانات سامنے آنے لگے، پھر ایسے بیانات کی تعداد بڑھنے لگی، اور پھر یہ ایک معمول بن گیا جس میں حیرت کا کوئی پہلو باقی نہیں رہا، عمران خان کے عشاق نے گویا انہیں پروانہ جاری کر دیا کہ وہ جو چاہیں کہیں، جو چاہیں کریں، ایک دن مغرب رو ہو کر سیاسی نماز پڑھیں، اور اگلے دن تحویل قبلہ کا حکم جاری کر دیں، پھر خان صاحب نے بھی اس لائسنس کا بھرپور استعمال کیا اور عاشق اسے ادائے دلبرانہ کہہ کرفضائی بوسے اچھالتے رہے۔

حد تو یہ ہے کے معشوق نے ایک ہفتے میں پانچ بار آئین توڑا، سپریم کورٹ نے آئین شکنی کی تصدیق کی، مگر عشاق نے کہا ”خان خاناں (یعنی جانِ جاناں) نے کیسا سرپرائز دیا ہے“، محبوب نے امریکی سازش کا ایک محیر العقول افسانہ تراشا، عشاق دھمال ڈالنے لگے، معشوق نے کہا میں کرکٹ میں نیوٹرل ایمپائر لایا تھا اور پھر فرمایا نیوٹرل جانور ہوتا ہے، عشاق حال کھیلنے لگے، کنجِ لب سے پھوٹا کہ موجودہ حکومت بھیک لیتی ہے،اور ہم جو لیتے تھے وہ پیکیج کہلاتا ہے، ساز کی لے چڑھتی گئی، رقصِ فریفتگاں میں دیوانگی بڑھتی رہی۔ عمران خان ہمارے وہ واحد سیاستدان ہیں جن کا ہر نیا بیان ان کے کسی گزشتہ ارشاد کی نفی کرتا ہے۔پنجاب میں بیس ضمنی انتخابات کی کمپین چلانے کیلئے عمران خان تین دن پہلے لاہور تشریف لائے تو ایک جلسے میں فرمانے لگے کہ لوٹوں کو سبق سکھانا ہے، اصل جہاد حقیقی آزادی حاصل کرنا ہے، اور نیب قانون میں کی جانے والی ترامیم این آر او ٹو ہیں، اور ان کے سیاسی مخالفین نے چوری کے گیارہ سو ارب روپے باہر رکھے ہوئے ہیں۔ ان کی باتوں پر جلسہ گاہ میں موجود ان کے مداح بے اختیار سر دھنتے رہے۔

اب عاشق اور عام آدمی کا فرق ملاحظہ فرمائیے۔ عام آدمی جس کی یادداشت کام کرتی ہے خان صاحب سے سوال کرے گا (کم از کم دل ہی دل میں)کہ خان صاحب 2018میںآپ کی جماعت کا تو خمیر ہی ہر رنگ و دھات کے لوٹوں سے اٹھایا گیا تھا، پنجاب میں کئی امیدواروں کو پی ایم ایل (ن) سے ہانک کر پی ٹی آئی میں جانے پر مجبور کیا گیا تھا، آپ کی کابینہ آدھی مشرف اور آدھی پیپلز پارٹی سے آئی تھی، آپ کب سے لوٹوں کے خلاف ہو گئے؟ پاکستان کی تاریخ کا اسّی فی صد قرض لینے والے، صدر ٹرمپ سے ملاقات کو ورلڈ کپ ٹو قرار دینے والےاورخیرات کے چاول مسکرا کے قبول کرنے والے’ ’حقیقی آزادی“ کا نعرہ لگا رہےہوں توبندہ اپنے چہرے کے تاثرات طے نہیں کر پاتا۔ اور ساڑھے تین سال میں سیاسی مخالفین سے جیلیں بھرنے والا، ان کے مبینہ لوٹے ہوئے 1100 ارب میں سے ایک روپیہ بھی واپس نہ لا سکنے والا، اگر پھر وہی منجن بیچنے نکلے تواس کا سودا صرف اور صرف ہوش و خرد سےما ورا عشاق ہی خرید سکتے ہیں۔

آگے سنیے، دو دن پہلے عمران خان فرماتے ہیں کہ میری اپوزیشن اس بات سے خوف زدہ تھی کہ میں فیض حمید کو اگلا چیف لگا دوں گا جبکہ میں نے تو اس تعیناتی کے بارے ابھی سوچا بھی نہیں تھا (انہوں نے یہ وضاحت نہیں فرمائی کہ اپوزیشن اس تعیناتی سے آخر کیوں خوف زدہ تھی) جب کہ کچھ روز پہلے ہی عمران صاحب نے فرمایا تھا کہ میں چاہتا تھا کہ فیض صاحب کو انٹیلی جنس ایجنسی کی سربراہی سے ابھی نہ ہٹایا جائے اور وہ ”میری سردیاں گزروا دیں“ (خان صاحب کی انگیٹھی زمانے بھر سے جدا ہے)۔ چیف تو بڑی بات ہے، خان صاحب آپ نے تو انٹیلی جنس سربراہ کے بارے انتہائی غور و خوص کر رکھا تھا۔ مگر یہ سوال کسی عاشقِ صادق کے دل میں نہیں اٹھ سکتے۔ ”شاید اسی کا نام محبت ہے شیفتہ“۔

(بشکریہ روزنامہ جنگ)


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments