جگن ناتھ آزاد اور چند مغالطے


ہماری غفلت کے باعث جگن ناتھ آزاد کی تصویر حفیظ جالندھری کے نام سے لگانا تو ایک ایسا معمول بن چکا ہے جس میں ٹی وی چینلز، ٹیکسٹ بک بورڈز اور مختلف سرکاری اور غیر سرکاری ادارے برابر کے شریک ہیں حال ہی میں آزاد کشمیر ٹیکسٹ بک بورڈ کی طرف سے سال اول کی اردو لازمی کی کتاب مارکیٹ میں آئی ہے۔ جس کے سرورق پر سرسید اور اقبال کی تصاویر کے ساتھ جگن ناتھ آزاد کی تصویر کو نمایاں کیا گیا ہے ۔ کچھ عرصہ قبل ڈاکٹر عامر سہیل اور مجھے اس وقت حیرت ہوئی جب اسی طرح کی غلطی ”نور محل“ بہاولپور میں بھی دہرائی گئی تھی۔ بہاول پور علم و ادب کا گہوارہ ہے اس لیے میری نور محل انتظامیہ سے درخواست ہے کہ وہ اس کی تصحیح کر کے بطور قومی ترانے کے خالق کے جگن ناتھ آزاد کی بجائے حفیظ جالندھری کی تصویر لگائیں۔

جگن ناتھ آزاد اور قومی ترانے والا یہ سارا معاملہ ہندوستان کے ایک صحافی لو پوری (Luv Puri) کی ایک رپورٹ سے شروع ہوا تھا جو انہوں نے 24 جولائی 2004 ء میں جگن ناتھ آزاد کے انتقال کے ایک ماہ بعد پہلے دہلی سے شائع ہونے والے پندرہ روزہ ’دی ملی گزٹ‘ اور پھر چند ماہ بعد 19 جون 2005 کو ہندوستان کے تیسرے بڑے انگریزی اخبار ’دی ہندو‘ میں چھپوائی۔

پھر یہی ہوائی بات جولائی اگست 2009 ء میں پاکستانی ائر لائن پی آئی اے کے جریدے پرواز میں خوشبو عزیز کے نام اور پرائیڈ آف پاکستان کے عنوان سے ایک مضمون شائع کیا گیا جس میں لو پوری سے عادل انجم تک کی تمام باتوں کو دہرا دیا گیا۔ حالانکہ یہ سارا من گھڑت قصہ ہے۔ آزادی کے بعد کسی بھی جگہ سے جگن ناتھ آزاد کا ملی نغمہ بطور قومی ترانے کے نشر نہیں ہوا۔ البتہ 1954 تک ہمارے سکولوں میں حضرت علامہ اقبالؒ کی مشہور نظم ”چین و عرب ہمارا، ہندوستاں ہمارا، مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا“ بطور ترانہ کے پڑھی جاتی رہی۔ جبکہ ہندوستان میں اقبالؒ کی ہی نظم ”سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا کو غیر رسمی طور پر ہندوستانی قومی ترانے کا درجہ حاصل رہا۔ بعد میں“ وہاں رابندر ناتھ ٹیگور ”کے گیت“ جن گن من ادھینائیک جیئے ہے ”کو قومی ترانے کا درجہ دے دیا گیا۔

1950 ء کے اوائل میں ایران کے حکمراں رضا شاہ پہلوی شہنشاہ ایران، حکومت پاکستان کی دعوت پر سرکاری دورے پر تشریف لائے۔ شہنشاہ ایران کے استقبال کی تقریب پر رواج و آداب کے لحاظ سے ضروری تھا کہ معزز مہمان کا استقبال قومی ترانے سے کیا جائے۔ چنانچہ سرکاری طور پر پاکستان کے قومی ترانے کی ضرورت شدید طور پر محسوس کی گئی۔

احمد غلام علی چھاگلہ نے صحت کی خرابی کے باوجود شب و روز محنت شاقہ سے کام کیا اور آخر کار پاکستان کے قومی ترانے کے لیے ایک مناسب دھن مرتب کر لی۔ جب شہنشاہ ایران پاکستان تشریف لائے تو ہمارے بحریہ کے بینڈ نے اس ترانے کو شہنشاہ ایران کے استقبال کے موقع پر بجایا، جو اسے سن کر بہت متاثر ہوئے۔ اسی لیے ہمارے قومی ترانے میں فارسی الفاظ کی بہتات ہے۔ یہ دھن 1950 میں ترتیب دی گئی جبکہ ترانے کے بول حفیظ جالندھری نے 1952 میں تخلیق کیے، لیکن اس قومی ترانے کی منظوری آزادی کے تقریباً 7 سال بعد 1954 میں ہوئی۔

چھاگلہ نے یہ دھن بنائی لیکن وہ اپنی زندگی میں اس دھن کی منظوری نہ دیکھ سکے ان کا انتقال 5۔ فروری 1953 کو ہو گیا۔ اس حوالے سے حکومت پاکستان کی جانب سے ان کی اس بے بہا خدمت کے اعتراف میں کوئی اعزاز نہیں دیا گیا۔ تقریباً 46 برس بعد 1996 میں محترمہ بینظیر بھٹو کے دور حکومت میں احمد علی چھاگلہ صاحب کو صدارتی ایوارڈ دینے کا اعلان کیا گیا۔ یہ ایوارڈ چھاگلہ صاحب کے فرزند عبدالخالق چھاگلہ جو کہ امریکی ریاست ہیوسٹن میں مقیم تھے، انہوں نے واشنگٹن ڈی سی میں 23 مارچ 1997 میں پاکستانی سفارت خانے میں منعقد ہونے والی تقریب میں وصول کیا۔ جگن ناتھ آزاد کے بارے میں یہ مغالطہ بھی ہے کہ ان کی اقبالیات کی خدمات کے ضمن میں قومی صدارتی ایوارڈ دیا گیا اس میں رتی بھر صداقت نہیں۔ قومی صدارتی ایوارڈ جن لوگوں کو ملا اقبال اکادمی پاکستان نے باقاعدہ ان لوگوں کے تعارف کا کتابچہ جاری کیا ہے جس میں کہیں بھی جگن ناتھ آزاد کا ذکر نہیں ہے

Facebook Comments HS