بری عورت کی کتھا


کشور ناہید ایک خاتون شاعرہ، سماجی کارکن اور باغی نثر نگار کے طور پر جانی جاتی ہیں۔ ان کی کتاب ”بری عورت کی کتھا“ ان کی آپ بیتی ہے۔ اس آپ بیتی کو کشور نے فلسفیانہ انداز میں لکھا ہے اور حالات و واقعات کے بیان کے بجائے ان کا تجزیہ کیا ہے۔ ایک عورت کو بچی سے عورت بننے کے درمیان پیش آنے والی مشکلات کا مصنفہ نے بھرپور انداز میں تذکرہ کیا ہے۔ کشور ناہید تفصیلات میں جانے سے گریز کرتی ہیں اور اشارہ کر کے چھوڑ دیتی ہیں تاکہ قاری تمام حالات و واقعات کا خود تجزیہ کر سکیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کہانی ایک فرد کی نہیں اس سارے معاشرے کی ہے جہاں بڑی بڑی باتیں بھلا دی جاتی ہیں اور چھوٹی چھوٹی کمینگیاں یاد رکھی جاتی ہیں۔

انھوں نے اس کتاب میں مختلف خیالات اور نظریات کا تجزیہ بھرپور انداز میں کیا ہے۔ وہ آج کے شخص کا مسئلہ بیان کرتے ہوئے لکھتی ہیں کہ ”نہ وہ فطرت کو مانتا ہے اور نہ اپنے آپ کو۔ وہ کون ہے؟ اور اس کے وجود کو کون دریافت کرے گا؟ حالانکہ آج کا شخص ساری دنیا میں اپنے نظریات کی وجہ سے پھانسی چڑھ رہا ہے۔“ انھوں نے اس کتاب میں فرقہ وارانہ فسادات کا ذکر بھی کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ مذہب کے نام پر ہو نے والی قتل و غارت گری کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے نت نئے فرقے ہیں اور ہر فرقے سے تعلق رکھنے والا دوسرے فرقے سے تعلق رکھنے والے کو کافر تصور کرتا ہے۔

ہندوستان سے متعلق اپنی زندگی کے ایک دور کا ذکر کرتے ہوئے وہ لکھتی ہیں کہ ”ایک دور ایسا بھی گزرا ہے کہ جب ہندوؤں اور مسلمانوں میں کوئی تعصب نہ تھا ہم سب لڑکیاں بالیاں اکٹھے جھولے جھولتی چھتوں کی منڈیروں سے آپس میں باتیں کرتیں۔ اکٹھے اسکول جاتی تھیں، دیوالی، دسہرہ، ہو لی سب مل کر مناتے تھے۔ اسی طرح عید بقرعید پر مبارک باد دینے والوں میں عیسائی ہندو سبھی شامل ہوتے تھے۔ محرم بھی اسی طرح سب کے لیے محترم ہوتا تھا۔

کونڈے ایک گھر میں ہوتے تھے اور سب لڑکیاں بالیاں اور سارے گھروں کی مل کر رات بھر پکوان بنانے میں مصروف رہتی تھیں۔ مجلس ہو کہ تعزیہ نکلنا، سب کے لیے یکساں منزلت تھی۔ نویں دسویں کو سارے سنی گھروں میں روزہ رکھا جاتا تھا۔ محرم کا خاص دھنیا اور کھچڑا سارے گھروں میں خاصے کی چیز ہوتے تھے۔“

کشور ناہید کی تحریروں میں عورت کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا تذکرہ بھرپور انداز میں نظر آتا ہے۔ عام طور پر خواتین قلم کار اتنی بے باکی سے اظہار خیال نہیں کرتیں۔ جب کہ کشور ناہید عورت پہ ہونے والے ظلم و زیادتی کا ذکر اس طرح کرتی ہیں جس طرح کوئی مرد قلم کار معاشرے کی بے حسی اور عورت کی پامالی کا ذکر کرتا ہے۔ بنگلہ دیش کی آزادی کے وقت عورتوں کی بے کسی کی داستان بیان کرتے ہوئے لکھتی ہیں کہ

”بوڑھی گنگا کے کنارے کیمپ بھرا ہوا تھا۔ عورتیں ہی عورتیں۔ کیا میں انھیں عورتیں کہوں؟ مشکل سے تیرہ، پندرہ سال کی پتلی پتلی لڑکیاں، جن کی ابھی چھاتیاں بھی سانس لینے نہیں پائی تھیں۔ مگر ان کے پیٹ چھٹے اور ساتویں مہینے کی گواہی دے رہے تھے۔ ان کے گھر والے کہاں تھے! وہ تو رات کے اندھیرے میں سازشی اور غدار قرار دیے گئے تھے۔ ان کی نسلیں خراب کرنے کے لیے ان کے ساتھ حرام کاری کی گئی تھی۔ وہ بے اماں، بے جگہ، بوڑھی گنگا کی گود میں، سوکھے ہونٹ اور سوکھی آنکھیں لیے سرنگوں بیٹھی تھیں۔“

اس کتاب میں کشور ناہید نے معاشرے میں موجود مظلوم مردوں کا ذکر بھی کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ اس معاشرے میں صرف عورت مظلوم نہیں بلکہ مرد بھی مظلوم ہے کہ سارے ملک کی زمین پر صرف تیری فیصد لوگوں کا، وڈیروں کے نام پر قبضہ ہے۔ میرے ملک کے اناج اگانے والے، سارا زر مبادلہ لانے والے تو چار صدیوں پرانے ماحول میں سڑتے ہیں۔ ان کے مفادات کا سودا کرنے والے، اسمبلیوں اور ائر کنڈیشنڈ کمروں میں آسائشیں لوٹتے ہیں۔

اس کے علاوہ عورت کی حیثیت کا تعین کرتے ہوئے وہ لکھتی ہیں کہ میرے ملک میں عورت کا کوئی نام نہیں ہے وہ تو خود سے وابستہ رشتوں کے ذریعے شناخت پاتی ہے۔ وہ بہن ہے، ماں ہے، بیٹی ہے، مگر کیا وہ خود کچھ بھی نہیں؟

کشور ناہید 19 جون 1940 ء کو بلند شہر بھارت کے ایک قدامت پسند گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ انھوں نے اپنی زندگی کے تمام فیصلے روایت سے ہٹ کر کیے۔ اور تمام زندگی عورتوں کے حقوق کے لیے جد و جہد کی۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ ”لب گویا“ 1968 میں منظر عام پہ آیا اور بہت پذیرائی حاصل کی۔ اس مجموعے پر انھیں 1969 ء میں ”آدم جی ایوارڈ“ بھی ملا۔ ”دیس دیس کی کہانیاں“ پر یونیسکو ایوارڈ برائے اطفال حاصل کیا 1997 ء میں منڈیلا ایوارڈ اور 2000 ء میں ستارہ امتیاز حاصل کیا۔ انھیں بہترین مترجمہ کا ایوارڈ کولمبیا یونیورسٹی نے دیا۔

کشور ناہید سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر کئی اسناد و ایوارڈ حاصل کر چکی ہیں۔ ماضی میں نیشنل کونسل آف آرٹس کی ڈائریکٹر جنرل بھی رہیں۔ اور ادبی جریدے ”ماہ نو“ کی مدیرہ بھی رہیں۔ ان کے کلام کا انگریزی اور کئی دوسری زبانوں میں ترجمہ بھی ہو چکا ہے۔ خود کشور ناہید نے کئی غیر ملکی مصنفین کی کتابوں کے اردو میں ترجمے کیے ہیں۔ ان کی درج ذیل کتابیں منظر عام ہر آ چکی ہیں۔ لب گویا، زیتون، عورت زبان خلق سے زبان حال تک، عورت خواب اور خاک کے درمیان، خواتین افسانہ نگار 1930 سے 1990 تک، آ جاؤ افریقہ، بری عورت کے خطوط نازائیدہ بیٹی کے نام، بے نام مسافت، خیالی شخص سے مقابلہ، میں پہلے جنم میں رات تھی، سوختۂ سامانی دل، کلیات دشت قیس میں لیلی، لیلی خالد، ورق ورق آئینہ، شناسائیاں رسوائیاں، باقی ماندہ خواب، سیاہ حاشیے میں گلابی رنگ۔

کشور ناہید نے اپنی آپ بیتی یا خود نوشت کا نام ”بری عورت کی کتھا“ طنزیہ رکھا ہے۔ اس معاشرے میں عورت کی برابری اور حقوق کی بات کرنے والی عورت کو بری عورت سمجھا جاتا ہے۔ انھوں نے عورت کی راہ میں آنے والی مشکلات اور رکاوٹوں کا ذکر بڑے کاٹ دار انداز میں کیا ہے۔ ان کا انداز بے باکانہ ہے۔ جب تک ہمارے معاشرے میں سماجی اور اخلاقی معیار مقرر نہیں ہوں گے اس وقت تک عورت سے ناروا سلوک جاری رہے گا۔ اور کشور ناہید جیسی خواتین عورت کے حقوق کا مطالبہ کرتی رہیں گی اور انھیں بری عورت قرار دیا جاتا رہے گا۔

کشور ناہید پر ایم فل کا مقالہ ”فہمیدہ ریاض، کشور ناہید اور پروین شاکر کی شاعری میں شعور ذات“ مقالہ نگار: شہناز پروین، نگراں :ڈاکٹر روبینہ ترین، بہا الدین زکریا یونیورسٹی ملتان، 2004 ء میں تحریر کیا گیا۔

جبکہ ایم اے کے مقالاجات بھی تحریر کیے گئے۔

کشور ناہید شخصیت اور فن، مقالہ نگار :محمد افضل شیخ، نگران: انوار احمد، بہا الدین زکریا یونیورسٹی ملتان، 1988 ء

اردو کی دو آپ بیتیوں ”بری عورت کی کتھا“ (کشور ناہید) اور ”ہم سفر“ (حمیدہ اختر حسین رائے پوری) کا تجزیاتی مطالعہ، مقالہ نگار: نادیہ فریال، نگران: قاضی عابد، بہا الدین زکریا یونیورسٹی ملتان، 2000 ء

Facebook Comments HS

One thought on “بری عورت کی کتھا

  • 03/07/2022 at 9:09 صبح
    Permalink

    بہترین میڈم۔سدا سلامت رہے

Comments are closed.