عالیہ اور حمزہ ،میں اور انقلاب

تم نے ایک مرتبہ مجھ سے کہا تھا کہ قاسم تمھارے ہونے یا نہ ہونے سے کس کو فرق پڑتا ہے۔ تمہاری تمام باتوں کے سنگ یہ بات بھی میرے دماغ کے گلدان میں آج تک پھول کی مانند سجی ہے۔ تم نے درست کہا یا غلط اس بات کو رہنے دیتے ہیں۔ خوشی کی ایک خبر سنو! میں نے اس جسم کو تیاگنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ میں خود کو ایک نئے جیون کے حوالے کرنے جا رہا ہوں۔ اکثر لوگ خود کشی کرنے سے پہلے ڈیتھ نوٹ لکھتے ہیں اور اس نوٹ میں وہ اپنی بھڑاس نکال کر، پھر۔ کتنے بے وقوف ہوتے ہیں بھڑاس نکالنے کے بعد بھی مر ہی جاتے ہیں۔
لیکن میں بالکل بھی ایسا کچھ نہیں کرنے والا۔
میں زندگی سے مایوس ہوں نہ اداس، مجھے کسی سے کوئی گلہ ہے نہ ناراضگی، میں اس دنیا سے اکتایا ہوں نہ ہی موت کا خواہش مند ہوں۔ مجھے تم سے بھی کوئی شکوہ نہیں ہے۔ بھلا اپنے محبوب سے بھی کوئی شکوہ کر سکتا ہے؟ میں تو اس زندگی سے بہت خوش ہوں اور اس زندگی کو میں نے بڑے مزے سے جیا ہے لیکن اب اسے خیر آباد کہنا مجھے بہتر لگتا ہے اور میں یہ سب اس لیے تمہیں بتا رہا ہوں کہ کہیں تم اپنے اپ کو قصور وار نہ سمجھتی پھرو۔ اتنا تو مجھے یقین ہے کہ تم یہ سب پڑھ کر رو گی تو نہیں جیسے آج تک میں نہیں رویا۔ جب جب تم سے بات کی، تمہارے بارے میں سوچا ہمیشہ تمہاری باتوں اور یادوں نے مجھے مسرت بخشی میں اس لمحے تنہا ہوتا یا کسی بھیڑ والی جگی، ہنسی خود بخود میرے لبوں پہ بکھر جاتی۔
تم بھی مجھے یاد کر کے مسکرانا، یوں ایک نئی ریت قائم ہو گی۔ ویسے تو محبت کرنے والوں نے بہت غم سہے اور بیان کیے ہیں، اداسی کو اپنے چہروں کی رونق بنایا ہے لیکن میں چاہتا ہوں ہم ہنسی کو محبت کا ثبوت چھوڑتے ہوئے ہر جا بکھیریں۔
تم یہ پڑھنے کے بعد مجھے میسج یا کال نہ کرنا کیونکہ میں تمہارا نمبر اور چیٹ ڈیلیٹ کر دوں گا تاکہ کسی کو معلوم نہ ہو کہ ہم میں تم میں بھی کبھی چاہ تھی۔ میں اپنے موبائل کی گیلری سے تمہاری ہر ہر تصویر سے لے کر اپنے دماغ میں میں موجود تمہارے ہر ہر نقش کو ڈیلیٹ کرنے والا ہوں۔ تم یہ سوچ کر بھی فکر مند نہ ہونا کہ میرے لواحقین کا کیا ہو گا۔
”میرے چلے جانے پہ چند دن اذیت کے سب کو کاٹنے ہوں گے ۔ میرے تذکرے پہ انہیں
جس طرح بھی ممکن ہو
آنسو بہانے ہوں گے ۔ فاتحہ خوانی پہ بیٹھنے سے اپنوں کو
خوب تھکاوٹ ہوگی۔ مگر رسم قل کے بعد
کون یاد رکھے گا
اک قاسم (خدا۔ پرست) بھی تھا! ”
یہ واوین میں لکھے الفاظ خدا پرست کے ہیں۔
تم سمجھو نا! میں اس دل، دماغ اور جسم کے ساتھ مزید جینا نہیں چاہتا یہ سب تمہارے ساتھ کی بھوک کا شکار ہو گئے ہیں میں نہیں چاہتا کہ آنے والے وقت میں جس طرح ملک کے حالات بدتر ہونے والے میں میرے بھی ہوں۔ کچھ دنوں میں لوگوں کو روٹی کی بھوک دنگے فساد پر آمادہ کر دے گی۔ ریاست بڑے ہی غلط، پوشیدہ ہاتھوں میں ہے۔ چند چہرے تو سامنے ہیں لیکن شطرنج کے حقیقی کھلاڑی چھپ چھپ کر بہت غلط چالیں چل رہے ہیں، اب دیکھو عدالتیں ایوانوں کی کارروائی میں دخل دے رہی ہیں باپ کے الیکشن کی حمایت کرتی ہیں اور بیٹے کے ساتھ دشمنوں سا رویہ روا رکھ رہی ہیں یہاں مجھے اپنے ایک دوست کی بات یاد آ گئی۔
اس کا نام حمزہ ہے عالیہ جو کہ لاہوری ہے کسی دور میں نا جانے کس وجہ سے لیکن اس کی محبوبہ رہی۔ پھر یہ 30 جون کی بات ہے کہ عالیہ نے فیصلہ کیا کہ اب حمزہ کے ساتھ مزید کوئی رعایت نہیں برتی جائی گی اس نے حمزہ کو چھوڑ دیا۔ حمزہ بڑا پریشان تھا کل مجھ سے کہنے لگا کہ دیکھو نا عالیہ نے ایسا کیوں کیا؟ میں نے اس سے کہا کہ دیکھو ہو سکتا ہے اس کے بڑوں نے اسے ایسا کرنے پر مجبور کیا ہو جیسا کہ اس کے بڑوں کو تمہارے آپس کے تعلقات کے بارے میں سب جانکاری تھی یا یہ بھی ممکن ہے کہ عالیہ کو کوئی مزید اچھا آپشن مل گیا ہو جو تم سے زیادہ مالدار ہو۔ اور یار برا مت منانا، تم ٹھہرے فارمی چکن والے اس نے تمہیں چھوڑنا ہی تھا ذرا غور تو کرو ہو سکتا ہے تم میں کچھ کمی ہو۔ اب فارمی ککڑیوں کی بدولت کوئی کتنے دنوں تک کسی کو اپنے ساتھ، مطمئن رکھ سکتا ہے۔
یہ سب حالات دن بدن بد سے بد تر ہوتے جا رہے ہیں۔ اگر ان کے حل کی بات کی جائے تو صرف ایک ہی حل ہے اور وہ ہے * ”انقلاب*“ ۔
تم فکر مت کرو بہت جلد مستقبل میں ہمارے ملک میں ایک انقلاب برپا ہو گا۔ انڈر گراؤنڈ بہت کام چل رہا ہے بلکہ ایک گروہ انقلابی میدان میں اپنی اٹھان اٹھا چکا ہے بنیادیں مضبوط کر چکا ہے وہ اس ملک کے پڑھے لکھے یونیورسٹی کے نوجوان کو نظریاتی طور پر ایک مکمل پروسس کے ذریعے انقلاب کے لیے تیار کر رہے ہیں جیسا کہ مولانا عبیداللہ سندھی نے فرمایا کہ انقلاب برپا کرنے کے لیے تین اہم بنیادی فیکٹرز کا ہونا ضروری ہے
انقلابی نظریے کا ہونا۔
اس نظریے پر تربیت یافتہ انقلابی جماعت کا ہونا۔
اور اس انقلابی جماعت کے پاس ایک مکمل لائحہ عمل کا ہونا۔
ان تینوں ٹولز کے ذریعے کسی بھی جگہ ایک جدوجہد کے بعد انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے اور میں نے ایسے لوگوں کے ایک گروہ کو بہت قریب سے دیکھا ہے جن کے پاس اپنا ایک نظریہ ہے اور اس نظریے پر وہ نوجوانوں کی ایک بہت بڑی کھیپ کی تربیت کر رہے ہیں اور ان کے پاس لائحہ عمل بھی موجود ہے بلکہ ان کا کہنا ہے اس لائحہ عمل کو وقت آنے پر حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے مل بیٹھ کر مزید طے بھی کیا جا سکتا ہے۔ میں بھی اس انقلابی طبقے کا حصہ ہوں۔ انقلاب کی تڑپ اب خون کی طرح میری رگوں میں دوڑتی ہے اور اسی انقلاب کے پیش نظر میں نے نیا جنم لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
تمہاری یاد اور محبت کے ہوتے ہوئے میرا دماغ، دل اور جسم مجھے انقلاب کے رستے سے بھٹکاتے ہیں۔ ہمہ وقت تمہاری یادیں میرے دماغ کی وادی میں محو سیر رہتی ہیں جن کے باعث مجھے انقلاب کے لیے سوچنا، کام کرنا، اس سب میں دشواری ہوتی ہے۔
میں نے فیصلہ کیا ہے کہ اس جسم کو تیاگ کر ایک نیا جنم لوں، بہت جلد میں کسی اور روپ میں واپس آنے والا ہوں ہو سکتا ہے کچھ بارہ پندرہ سال تک ملک میں انقلاب آ جائے اور عین یہ بھی ممکن ہے کہ تب تک میں ایک نیا جنم لے کر دس برس کا ہو چکا ہوں، میری خواہش ہے کہ علی ابن طالب عہ کی سنٹ پر عمل پیرا ہوں۔
تم پریشانی مت کرنا میری زندگی ایک مکمل فسانہ ہے اس مضمون کی طرح۔
خدا تمہیں میرے لیے اپنی امان میں رکھے

