سنہ 7 ہجری میں تعمیر کی جانے والی ہندوستان کی سب سے پہلی مسجد

2016 میں جب ہندوستانی وزیراعظم نریندرا مودی نے سعودی عرب کے دورے کے دوران محمد بن سلمان کو چیرامن مسجد کا سونے سے بنا ایک نمونہ دیا تو میڈیا میں اس مسجد کو ہندوستان کی سب سے قدیم ترین مسجد کہا جانے لگا۔ جبکہ دوسری طرف کچھ افراد کا کہنا ہے کہ بارواڑا مسجد جو بھاون نگر گجرات ہندوستان میں واقع ہے، ہندوستان (برصغیر) کی سب سے قدیم مسجد ہے۔ حقیقت کیا ہے، ماہرین بھی رائے دینے سے قاصر ہیں۔ ان مساجد کا مختصر تعارف یہاں دیا جا رہا ہے۔
چیرامن جامع مسجد ہندوستانی ریاست کیرالا کے ضلع تھریسور میں واقع ہے۔ ماہرین کے مطابق اس مسجد کی عمارت کو 629 عیسوی میں تعمیر کیا گیا تھا۔ روایت ہے کہ اس علاقے کے بادشاہ چیرامن پیرومل نے رات خواب میں چاند کو دو ٹکڑے ہوتے دیکھا۔ صبح اس نے اپنے نجومیوں سے اپنے خواب کے متعلق پوچھا لیکن اسے تسلی بخش جواب نہیں ملا۔ عرب تاجر جو وہاں مصالحہ جات وغیرہ کی تجارت کرتے تھے، ان کی زبانی اسے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم اور واقعہ شقل القمر کا پتا چلا۔ چیرامن نے عرب تاجروں کے ساتھ حجاز کا دورہ کیا اور آنحضرت ﷺ کے ہاتھوں اسلام قبول کیا۔ چیرامن ہندوستان واپسی پر عمان میں انتقال کر گیا لیکن اس نے اپنے جانشین کو خط بھیجے جن میں ہندوستان میں مسجد کی تعمیر کا کہا گیا۔

مسجد کی عمارت روایتی جنوبی ہندوستانی طریقے پر بنائی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق مسجد کو گیارہویں صدی عیسوی میں دوبارہ تعمیر کیا گیا تھا اور اس کے بعد بھی اس میں وقتاً فوقتاً تبدیلی ہوتی رہی۔ مسجد کے مینار اور گنبد کو بھی بعد میں بنایا گیا۔ اس مسجد کو 1504 میں پرتگیزیوں کے ہاتھوں نقصان بھی پہنچا لیکن خوش قسمتی سے لکڑی کا بنیادی ڈھانچہ برقرار رہا۔ اس کے علاوہ قدیم تالاب اور روشنی کے لیے ایک قدیم چراغ ابھی تک موجود ہے۔ روایت کے مطابق یہ چراغ مسجد کے تعمیر سے لے کر ابھی تک جل رہا ہے۔
کچھ افراد کا کہنا ہے کہ یہ مسجد بدھ مت کے ماننے والوں نے بنائی تھی کیونکہ اس عمارت کا رخ مغرب نہیں بلکہ مشرق کی جانب ہے۔
اس مسجد میں اب بھی باقاعدگی کے ساتھ پانچ وقت نماز ادا کی جاتی ہے اور علاقے کے مسلمانوں اور غیر مسلم دونوں کے لیے یہ مسجد انتہائی متبرک مقام ہے۔
کچھ افراد کے مطابق بارواڑا مسجد بھاون نگر گجرات ہندوستان کی سب سے قدیم مسجد ہے۔ دلیل کے طور پر وہ اس مسجد کی عمارت، جو کہ اب انتہائی مخدوش حالت میں ہے، کا حوالہ دیتے ہیں۔ اس مسجد کا رخ قبلہ اول بیت المقدس کی طرف ہے۔ یہ علاقہ زمانہ قدیم سے مشہور بندرگاہ ہے اور اس کا عرب تاجروں کے ساتھ تجارت میں انتہائی اہم کردار تھا۔ اندازہ لگایا جاتا ہے کہ عرب تاجروں نے اس مسجد کو قبلہ تبدیل ہونے سے پہلے تعمیر کیا۔
ماہرین کے مطابق ان مساجد کی عمارت چھٹی صدی عیسوی میں تعمیر ہوئیں۔ لیکن کیا یہ مسجد کے لیے ہی تعمیر ہوئیں یا کسی اور مقصد کے لیے، فی الحال اس کا جواب ماہرین نہیں دے سکے۔


