کیا آپ موت کے بارے میں گفتگو کرنے سے گھبراتے ہیں؟


مرزا غالب کا ایک شعر ہے
؎ موت کا ایک دن معین ہے
نیند کیوں رات بھر نہیں آتی

میں نے اس شعر کے معنی اور مفہوم بہت سے شاعروں ’ادیبوں اور دانشوروں سے پوچھے لیکن کسی کے جواب سے میں مطمئن نہیں ہوا۔ میری تسلی نہیں ہوئی۔ سوال یہ ہے کہ غالب نے موت اور نیند میں کیوں رشتہ جوڑا ہے؟ کیا وہ موت کو ابدی نیند سمجھتے تھے؟

ہم سب جانتے ہیں کہ موت ایک اٹل حقیقت ہے
جو بھی زندہ ہے اسے ایک دن مرنا ہے۔
اس کے باوجود نجانے کتنے انسان ہیں جو موت سے گھبراتے اور اس کے بارے میں گفتگو کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔
بعض کے لیے تو وہ ایک نفسیاتی مسئلہ بن جاتا ہے خاص طور پر اگر موت غیر معمولی حالات میں واقع ہوئی ہو۔
آئیں میں آپ کو آج اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا ایک حیرت انگیز واقعہ سناؤں۔

کئی سال بلکہ دہائیاں پیشتر جب میں وھٹبی کے نفسیاتی ہسپتال میں کام کیا کرتا تھا تو میرے رفقا کار کی اکثریت گورے کینیڈین ڈاکٹرز کی تھی لیکن وہاں ایک پاکستانی ڈاکٹر رضیہ خان بھی کام کرتی تھیں۔ وہ میری بہت عزت کرتی تھیں لیکن بہت کم گو اور شرمیلی تھیں۔ ایک دن انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ ہسپتال چھوڑ کر جا رہی ہیں تا کہ اپنا ذاتی مطب کھول سکیں۔ میں نے انہیں نیا کلینک کھولنے کی مبارک دی اور اس کلینک کی کامیابی کے لیے سیکولر دعائیں پیش کیں۔

ڈاکٹر خان کے رخصت ہونے کے بعد کئی برس ان سے نہ بات ہوئی نہ ملاقات۔ اور پھر ایک دن ان کا اچانک فون آیا کہنے لگیں

ڈاکٹر سہیل آپ سے ایک سپیشل فیور مانگنے کے لیے فون کیا ہے؟
میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں؟

کہنے لگیں۔ میرے دو دوست جو کہ میاں بیوی ہیں پاکستان سے آئے ہوئے ہیں۔ وہ آپ سے ملنا چاہتے ہیں لیکن ان کے پاس کوئی OHIP CARD یا انشورنس نہیں ہے۔ وہ آپ کی فیس اپنی جیب سے ادا کر دیں گے۔

میں نے کہا فیس کی فکر نہ کریں میں آپ کی دوستی کی خاطر ان سے مفت مل لوں گا اور اپنی خدمات پیش کر دوں گا۔

چنانچہ اگلے ویکینڈ میں سکاربرو میں ڈاکٹر خان کے کلینک چلا گیا۔ انہوں نے اس جوڑے سے میرا تعارف کروایا۔ میں نے کہا

میں پہلے آپ کا علیحدہ علیحدہ انٹرویو لوں گا پھر دونوں سے مل کر بات کروں گا۔ وہ راضی ہو گئے۔

میں نے شوہر کا انٹرویو لیا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ چند سال پیشتر وہ دونوں میاں بیوی اپنی بیٹی کے ساتھ کراچی سے لاہور جا رہے تھے، راستے میں کار کا ایکسیڈنٹ ہوا اور ان کی جوان بچی فوت ہو گئی لیکن ان دونوں کو چوٹ تک نہ آئی۔

اس حادثے کے بعد سے گھر میں ایک مہیب خاموشی طاری ہے۔
آپ اپنی بیگم سے اس موضوع پر گفتگو کیوں نہیں کرتے؟ میں نے پوچھا تو فرمانے لگے
میں ماں کا دل نہیں دکھانا چاہتا وہ اس کی چہیتی بیٹی تھی۔
اس کے بعد میں نے ان کی بیگم کا انٹرویو لیا۔ انہوں نے بھی وہی کہانی سنائی۔
میں نے ان سے بھی وہی سوال کیا
آپ اپنے شوہر سے اس موضوع پر بات کیوں نہیں کرتیں؟
اور انہوں نے بھی وہی جواب دیا۔
میں باپ کا دل نہیں دکھانا چاہتی۔ وہ ان کی لاڈلی بیٹی تھی۔

پھر میں نے دونوں کو اکٹھے دفتر میں بلایا اور دونوں کو بتایا کہ وہ ایک دوسرے سے اپنی بیٹی کے بارے میں بات نہیں کرتے تھے کیونکہ وہ دوسرے شخص کا دل نہیں دکھانا چاہتے تھے۔

میرا یہ کہنا تھا کہ دونوں اپنی اپنی کرسی سے اٹھے اور بے اختیار ہو کر انہوں نے ایک دوسرے کو گلے سے لگایا اور یوں دھاڑیں مار مار کر روئے جیسے ان کی بیٹی کئی سال پہلے نہیں کئی گھنٹے پہلے فوت ہوئی ہو۔

وہ کافی دیر تک ایک دوسرے کو گلے لگا کر روتے رہے۔

جب وہ ایک دوسرے سے جدا ہوئے تو دل پر دکھوں کے برسوں کے چھائے ہوئے بادل چھٹ چکے تھے اور ان بادلوں کے پیچھے سے چاہت کا چاند ابھر آیا تھا۔

اگلے دن ڈاکٹر خان نے فون پر میرا شکریہ ادا کیا کہ ان دو گھنٹوں کے انٹرویو نے دو انسانوں کی ذہنی صحت بحال کر دی تھی۔

انسانی ذہن اور شخصیت ایک دریا کی طرح ہے۔ بہتا رہے تو صاف رہتا ہے۔ جذبات کا اظہار ہوتا رہے تو انسان ذہنی طور پر سکھی رہتا ہے۔ جذبات پر بند باندھ دیے جائیں تو انسان دکھی ہو جاتا ہے۔

موت کو خوش دلی سے قبول کرنا ایک کامیاب زندگی کی نشانی ہے۔

میں مذہبی انسان نہیں ہوں لیکن میں انسان دوست ہونے کے ناتے کلکتے کی مدر ٹریسا اور کراچی کے عبدالستار ایدھی کا دل کی گہرائیوں سے احترام کرتا ہوں کیونکہ ان دونوں نے انسانوں کی بہت خدمت کی ایک نے موت سے پہلے اور ایک نے موت کے بعد ۔

مدر ٹریسا کلکتے کی گلیوں اور بازاروں سے ان سب غریبوں مسکینوں اور یتیموں کر گھر لے آتی تھیں جو سڑک پر مرنے والے ہوتے تھے کیونکہ وہ نہیں چاہتی تھیں کہ کوئی انسان اکیلا مرے۔ ان کی خواہش تھی کہ ایک انسان کے مرتے وقت دوسرا انسان اس کا محبت سے ہاتھ تھامے رکھے تا کہ زندگی کا آخری سفر آسان ہو سکے اور ایدھی موت سے پہلے یا بعد انسانوں کی خدمت کے لیے اپنی ایمبولنس لے کر پہنچ جاتے تھے۔ انہوں نے ایسی ایسی لاشیں اٹھائیں جنہیں ان کے رشتہ دار اٹھاتے گھبراتے تھے۔

میری نگاہ میں اس انسان نے زندگی کا راز پا لیا جس نے موت کو ایک دوست کی طرح مسکراتے ہوئے گلے لگانا سیکھ لیا۔

کیا آپ اپنی موت یا اپنے کسی پیارے کی موت کے بارے میں گفتگو کرنے سے گھبراتے یا ہچکچاتے ہیں؟
۔ ۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 558 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments