مہنگائی کا پھندا اور سیاسی دھندا
ہماری قوم کی یہ عادت ثانیہ بن چکی ہے کہ کسی بھی بحران اور مشکل کو دماغ پہ سوار نہیں کرتی اور ہر مشکل اور مصیبت کو ہنسی میں اڑانے کی کوشش کرتی ہے۔ بھلا ہو حکومت پاکستان اور انٹر نیٹ کی سہولت مہیا کرنے والی غیر ملکی و ملکی کمپنیوں کا جنہوں نے ہماری دل بستگی کا مکمل سامان ٹک ٹاک، فیس بک اور یوٹیوب کی شکل میں فراہم کر دیا ہے۔ آج کل تو ہر شہری کے ذہن پر مہنگائی اور بدامنی کی وجہ سے ایسی قنوطیت اور یاسیت سوار ہے کہ کوئی ہنسے بھی تو سامنے موجود فرد یہ سمجھتا ہے کہ یہ یا تو پاگل ہو گیا ہے یا اس کی کوئی سونے کی کان ہے جس کی وجہ سے اس کو موجودہ مہنگائی جیسے عفریت کی کوئی پرواہ ہی نہیں۔
باہر جاؤ تو مہنگائی گھر بیٹھو تو بیوی اور بچوں نے جینا محال کیا ہوا ہے، اس کے علاوہ ملکی سیاست بھی ایک سوکن کی طرح ہر انسان کے ساتھ ساتھ پھر رہی ہے۔ لاکھ کوشش کرو کہ محفل دوستاں میں سیاست کا ذکر نہیں ہو گا لیکن دوستوں کے درمیان کوئی نہ کوئی ایسا فرد موجود ہوتا ہے جس کو سیاست اور نوابزادہ نصراللہ خان کی طرح آپ سے سیاسی اختلاف رکھنے کا اتنا شوق ہوتا ہے کہ وہ لازمی ہر بات میں سیاست کو لے آئے گا او ر بات پھر عمران خان سے ہوتی ہوئی شہباز شریف کی پرواز پر آ کر رکتی ہے۔
ڈالر کی اڑان، مختلف سیاسی نظریات اور موجودہ سیاسی صورت حال کے بارے میں اکثر دوست احباب کی اپنی اپنی رائے ہے لیکن ملکی سلامتی کے لئے قربانی دینے والی عوام نہیں بلکہ وہ سفید پوش طبقہ ہے جس نے اپنی مہران، کلٹس اور آلٹو کے اوپر کپڑا ڈال کر گیراج میں کھڑا کر دیا ہے اور موٹر سائیکل کے ساتھ ساتھ سائیکل کو بطور سواری استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ اٹھتے بیٹھتے، سوتے جاگتے گھر کے بچوں اور بیوی کو کفایت شعاری کا بھاشن دیتے ہوئے کبھی کسی کمرے کا پنکھا بند کر رہے ہوتے ہیں تو کبھی کسی باتھ روم کی لائٹ لیکن بڑبڑاتے ہوئے ساتھ ساتھ حکمرانوں کو کوسنے کی عادت بھی کہیں نہیں جاتی۔
گزشتہ دو ماہ سے ہمارے گھر کی الیکٹرانک اور خودکار اکثر اشیاء خراب ہونے لگ گئیں، زوجہ محترمہ نے کافی سوچ بچار کے بعد نتیجہ نکالا کہ یا تو ہمارے گھر میں آسیب کا سایہ ہے یا پھر کسی دشمن نے کوئی کالا جادو کروایا ہے، میں بھی اسی دوران اپنی سوچ کے گھوڑے دوڑانے شروع کیے تو پتہ چلا کہ پانی کے پمپ کی الیکٹرانک موٹریں تین بار جل چکی ہیں، 2004 ء میں خریدے گئے ریفریجریٹر کا کمپریسر جواب دے گیا، گاڑی کی کلچ پلیٹ کے بیئرنگ ٹوٹنے کے ساتھ ساتھ گھر کے فلٹریشن پلانٹ کی مکمل مرمت پر بھی ایک خطیر رقم خرچ ہو گئی تو مجھے بھی ایسا محسوس ہونے لگے کہ ہمارے یا تو حالات اور ستارے گردش میں ہیں یا پھر نصیب دشمناں واقعی ہمارے گھر پہ کسی آسیب کا سایہ ہے اور ہو نہ ہو ہمارے کسی عزیز نے کوئی کالا جادو نہ کروا دیا ہو۔
لیکن سائنسی نقطہ نظر سے سوچنے پر علم ہوا کہ گزشتہ دو سال کرونا کی وبا کے دوران ہماری گھریلو لولی لنگڑی معیشت، نئے آلات ضروریہ خریدنے کی متحمل نہیں ہو سکتی تھی۔ وولٹیج کی کمی اور آلات کی بوسیدگی کی وجہ سے یہ دن دیکھنے پڑے لیکن اپنی بیگم کے حکم کی سامنے سر تسلیم خم کرتے ہوئے اللہ اللہ کروانے کے لئے کچھ احباب سے رجوع بھی کیا۔ آج ہما را سفید پوش طبقہ مہنگائی اور ضروریات زندگی کی عدم دستیابی کی وجہ سے واقعی اتنا تنگ آ چکا ہے کہ وہ سوچنے پر مجبور ہو گیا ہے کہ ہمارے ملک پہ نہ تو کسی سیاست دان، نہ کسی بیوروکریٹ اور نہ ہی کسی اسٹیبلشمنٹ کا سایہ ہے بلکہ کسی آسیب کا سایہ ہے، ملک اس وقت ایسے کاریگروں کے ہاتھ میں ہے جو ملکی معیشت اور سیاست کے نہ صرف نبض شناس ہیں بلکہ اس کے علاج میں بھی ید طولی رکھتے ہیں۔
لیکن وائے بدقسمتی کہ ان کو بھی سوائے بجلی اور پٹرول کی قیمتیں بڑھانے کے علاوہ کوئی راہ نہیں سوجھتی۔ ہمارے ملک کے وہ تین کروڑ افراد جو غیر ممالک میں موجود ہیں وہ چین کی بانسر بجاتے ہیں اور روزانہ اپنی سیاسی جماعتوں کے حق میں سوشل میڈیا پر نعرے لگانے کے علاوہ کوئی کام نہیں کر رہے، اگر یہی لوگ روزانہ ایک ڈالر بھی پس انداز کر کے پاکستان بھیجیں تو شاید ہماری لڑکھڑاتی معیشت کو سہارا مل جائے، لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قرض اتارو، ملک سنوارو کے نعرے لگانے والے سیاست دانوں پہ کوئی بھی اعتبار کرنے کو تیار نہیں، دراصل ہمارے ملک میں ایک مخلص اور بے لوث قیادت کا فقدان ہے جس کی وجہ سے گھوم پھر کے ہمیں اپنے آزمائے ہوئے بازوؤں پہ بھروسا کرنا پڑتا ہے۔
جب ایک ناکام ہو جاتا ہے سارا ملبہ اس پہ ڈال کر دوسرے کو لایا جاتا ہے، لیکن اسی دوران پہلے والے کی مقبولیت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ موجودہ سال بھی ہمیں یہی دیکھنے کو مل رہا ہے کہ رات کو بارہ بجے عدالت عالیہ کو کھلوا کر اتنی عجلت میں وزیر اعظم بننے والے کاریگر کی پٹاری میں بھی کوئی ایسا نیا شعبدہ نہیں ہے جس کہ کی وجہ سے روز افزوں بڑھتی ہوئی مہنگائی او ر گرتی ہوئی معیشت کو سنبھالا مل سکے۔
بچپن سے ایک ہی رٹ سنتے آئے ہیں کہ بھارت ایک ایسا ملک ہے جہاں بہت غربت ہے لیکن اس کی حکومت بہت امیر ہے لیکن آج بھارت کی پالیسی اور دنیا کی بہترین جمہوریت ہونے کی سمجھ آئی کہ کم از کم بھارت کی معیشت کی لگامیں کسی نام نہاد سرمایہ دار ادارے کے ہاتھ میں تو نہیں ہیں کہ وہ جب چاہیں اس کی عوام پہ پٹرول یا بجلی کا بم گرا دیں، لیکن آئی ایم ایف کی دن بدن بڑھتی ہوئی فرمائشیں بھی صرف سفید پوش طبقے کے لئے ہوتی ہیں کیونکہ اس ادارے کے کرتا دھرتا افراد کو علم ہے کہ اگر حکمرانوں کے اللے تللے اور عیاشیاں ختم کی گئیں تو لامحالہ یہ ہم سے جان چھڑوانے کی کو شش کریں گے۔
پاکستان جیسی سونے کی چڑیا کو سود کے جال میں عرصہ دراز سے جکڑا رکھنے کے لئے صیہونی ماہرین ہر ہتھکنڈہ استعمال کر رہے ہیں۔ ہوا یوں کہ گزشتہ دنوں میں جب سابقہ حکمران آئی ایم ایف کے معیار پر پورا اترنے کی کوششوں میں ناکام دکھائی دیے تو مسلم لیگ (ن) کے قائد شہباز شریف کی گردن میں پھندا فٹ کرنے کے لئے تمام اتحادی جماعتوں کو راضی کیا گیا۔ اتحاد اور حکمرانی تک کے تمام مراحل کے دوران سب سے زیادہ موثر کردار آصف علی زرداری نے ادا کیا لیکن جیسے ہی شہباز شریف کو اقتدار ملا، اسے تمام مسائل سے نبرد آزما ہونے کے لئے یکہ و تنہا کرتے ہوئے تمام تر بوجھ مفتاح اسماعیل پر ڈال دیا گیا۔
شہباز شریف اینڈ کمپنی ابھی تک اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارتے ہوئے مہنگائی کے خاتمے کا کوئی بھی متبادل اور قابل عمل حل پیش نہیں کر سکی، عوام کے دلوں میں دن بدن بڑھتی نفرت اور مایوسی اب انتہا پہنچ چکی ہے۔ لیکن سونے پر سہاگہ، اب اس وقت ہو گا جب بجلی کے بل عوام کے ہاتھوں میں ہوں گے اور ان کا غیض و غضب عروج پر ہو گا۔ شنید یہ بھی ہے کہ واپڈا اہلکار اپنے لائن لاسز پورے کرنے کے لئے اضافی یونٹ کا بوجھ بھی صارفین پر ڈالنے کے لئے پر تول رہے ہیں، تاجر اور میڈیا بھی دم سادھے اس انتظار میں ہے کہ عوام ایک بار پھر مہنگائی سے لڑیں اور سڑکوں پر آئیں۔
افسوس کا مقام یہ ہے کہ تقسیم پاکستان سے لے کر اب تک جس بھی حکمران کو ہم پر مسلط کیا گیا اس نے ہمیں آئی ایم ایف کے چنگل سے رہائی کے لئے زبانی جمع خرچ تو کی لیکن کوئی بھی حکمران کوئی ایسا عملی قدم اٹھانے کی ہمت نہیں کر سکا جس کی بنیاد پر ہم اس مہیب اژدھے سے جان چھڑوا سکیں۔ یاد رہے کہ اس وقت مسلم لیگ (ن) سے عوام کی دوری کی سب سے بنیادی وجہ بھی مہنگائی ہے اور ہو سکتا ہے، جس کا لازمی نتیجہ یہی نکلے گا کہ مستقبل قریب میں اس جماعت کو مرکز کے ساتھ ساتھ پنجاب میں بھی شکست فاش کا مزہ چکھنا ہو گا۔
سیاست کی چالوں کو سمجھنے والے جغادری اس امر سے بخوبی واقف ہیں کہ پبلک اپنے دل میں موجود نفرت کے اس لاوے کو الیکشن کے دن نکالے گی، اور آصف زرداری سمیت تمام سیاسی گرو جو اس وقت شہباز شریف اینڈ کمپنی کی ناکامی کا تماشا دیکھ رہے ہیں ایک بار پھر عوام کی ہمدردیاں سمیٹنے کے لئے نکلیں گے اور پنجاب کی سیاست کا رخ موڑنے کی حتی الامکان کوشش کریں گے۔ بقول شخصے اگر موجودہ حکومت بھی اپنی کرپشن کے مقدمات ختم کروانے کے لئے آئی تو مہنگائی کا یہ پھندا اس کے لئے ایک سیاسی موت ثابت ہو گا اور مستقبل قریب میں ان کا پنجاب میں ایسے ہی نام و نشان مٹ جائے گا، جیسا پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ ہوا تھا۔ دیکھا جائے تو فی الوقت عوام کی تمام ہمدردیاں تحریک انصاف کے ساتھ نظر آتی ہیں لیکن ہو سکتا ہے کہ مستقبل قریب میں سیاسی مداری کوئی ایسی ترکیب آزمائیں کہ کہ اقتدار کی ہما پھر شہباز شریف کیس پر آ کر بیٹھے لیکن ابھی تو عوام کے سر پر سورج کے ساتھ ساتھ شہباز شریف کی حکومت بھی آگ برسا رہی ہے۔


