موسیقار اے حمید کے بارے میں ان کے صاحب زادے رضوان حمید کی گفتگو


رواں سال کی 27 فروری کو میں پاکستانی فلم انڈسٹری کے بے مثال گیت نگار حضرت تنویرؔ نقوی کے بیٹے شہباز ؔ تنویر نقوی کے ساتھ نامور موسیقار اے حمید صاحب کے صاحب زادے رضوان حمید کے ہاں گیا۔ اس سے پہلے بھی گیت نگار قتیلؔ شفائی صاحب کے بیٹے نوید قتیل کے ہاں رضوان سے ملاقات ہو چکی تھی۔ رضوان نے فلمی موسیقی میں اپنے والد صاحب اور ان کے اسسٹنٹ امجد بوبی صاحب ( جو بعد میں خود ایک نامور موسیقار ہوئے ) کی معاونت بھی کی ہے۔ رضوان نے بھی فلمی گانے کمپوز کیے ہیں۔ اس ملاقات کی منتخب باتیں آپ کی نذر:

” میرے والد صاحب امرتسر میں پیدا ہوئے۔ دادا ابا کی خواہش تھی کہ والد صاحب فوج میں جائیں اس لئے بہتر تعلیم کی خاطر انہیں ایک کو ایجوکیشن اسکول میں داخل کرایا گیا۔ وہاں موسیقی کی تعلیم و تربیت کا بھی انتظام تھا۔ والد صاحب کو موسیقی کا شوق یہیں سے پیدا ہوا اور انہوں نے پیانو میں دلچسپی لینا اور ہاتھ صاف کرنا شروع کر دیا۔ دادا کے انتقال کے بعد والد صاحب پونا چلے گئے۔ وہاں استاد محمد علی صاحب کا بڑا نام و مقام تھا ان کے گنڈہ بند شاگرد ہو گئے۔

موسیقی کے اسرار و رموز حاصل کر کے ان کی اجازت سے بمبئی چلے آئے۔ یہاں سی رام چندرا ( 1918 سے 1982 ) کو اسسٹ کیا اور اس وقت کے بڑے موسیقاروں کو قریب سے کام کرتے ہوئے دیکھا اور سیکھا۔ پاکستان بننے کے بعد غالباً 1951 / 1952 میں انہوں نے پاکستان فلم انڈسٹری میں کام کرنا شروع کر دیا۔ والد صاحب کا پہلا سپر ہٹ گانا ’کیا ہوا دل پہ ستم تم نہ سمجھو گے بلم۔ ‘ تھا۔ یہ فلم“ رات کے راہی ”کے لئے فیاضؔ ہاشمی صاحب نے لکھا اور آواز زبیدہ خانم کی تھی۔

یہ 1956 / 1957 میں ریڈیو پاکستان سے بہت مشہور ہوا“ ۔ مذکورہ فلم 1960 میں نمائش کے لئے پیش ہوئی اور سلور جوبلی کی۔ صدارتی تمغہ حسن کارکردگی یافتہ بانسری کے استاد اور میرے محترم جناب سلامت حسین صاحب المعروف سلامت بھائی نے مجھے بتایا کہ اس گیت میں بانسری انہوں نے بجائی تھی جس پر اے حمید صاحب بہت خوش ہوئے تھے۔

رضوان نے بات جاری رکھتے ہوئے بتایا: ”فلم“ رات کے راہی ”سے شروع ہونے والا سفر والد صاحب کی آخری فلم“ لو ان لنڈن ” ( 1987 ) پر ختم ہوا۔ اس فلم پر انہیں گریجوایٹ فلم ایوارڈ ملا۔ وہ اپنی مصروفیت کی بنا پر نہ جا سکے لہٰذا یہ ایوارڈ میں نے الحمرا میں جا کر وصول کیا۔ وہاں میری ناہید اختر سے ملاقات ہوئی۔ اس نے مجھ سے میرے والد صاحب کی خیریت کا پوچھا۔ پنڈی میں جب ہم اپنے والد صاحب کے ساتھ رہتے تھے تو مادام نورجہاں کسی کام سے اسلام آباد آئیں اور خاص طور پر والد صاحب سے ملنے راولپنڈی ہمارے گھر تشریف لائیں“ ۔

عابدہ پروین کا واقعہ:

” عابدہ جی نے ایک سوال کیا کہ مجھے موسیقی سے وابستہ کوئی شخص جواب دے کہ اس راگ سے تیور یا مدہم کون سا سر تبدیل کرنے سے راگ یا ٹھاٹھ بدل جاتا ہے۔ ایک مرتبہ میں ائر پورٹ پر نوکری کے سلسلے میں تعینات تھا تو میری عابدہ جی سے ملاقات ہوئی۔ مجھ سے وہ واقف تھیں۔ مجھے دیکھ کر خوشی سے آگے آئیں اور کہا کہ پورے پاکستان میں ایک شخص اے حمید تھا جس نے مجھے اس کا صحیح جواب دیا۔ اور جب میں نے تمہارے والد صاحب کو کچھ رقم نذر کرنا چاہی تو انہوں نے کہہ کر انکار کر دیا کہ تو میری بیٹی ہے اور میں بیٹیوں سے پیسے لیتا اچھا لگوں گا؟“ ۔

” والد کے طور آپ کے والد صاحب کیسے تھے؟“ ۔

” والد کی حیثیت میں وہ بہت شفیق اور منکسر المزاج انسان تھے۔ پورے خاندان پر ان کا ہاتھ تھا۔ میں دیکھتا تھا کہ کوئی بھی پریشانی یا تکلیف میں ہوتا تو والد خود پریشان ہو جاتے۔ ان کی پوری کوشش ہوتی کہ کسی طرح اس شخص کی پریشانی دور ہو جائے۔ والد صاحب پر اللہ تعالیٰ کا بڑا کرم تھا۔ وہ پورے خاندان میں ایک اہم حیثیت رکھتے تھے۔ جو بھی مشورہ دیتے اس کو من و عن پورا خاندان قبول کرتا۔ ساری زندگی اپنے خاندان کو جوڑ کر رکھا۔

میں نے ان کے منہ سے کبھی کسی کی بدخوئی، غیبت اور چغلی نہیں سنی۔ کبھی جھوٹ بولتے بھی نہیں سنا۔ مجھے کہتے کہ بیٹا دوسروں کی برائیاں نہیں اچھائیاں ڈھونڈو! یہ دیکھو کہ انسان پر اللہ کا کرم اس کی کس اچھائی کی وجہ سے ہے اور وہ اچھائی اپنانے کی کوشش کرو۔ بڑے خواہ جیسے بھی ہوں ان کی عزت کرو! اس سے تمہارا رزق وسیع ہو گا۔ یہ ان کی مجھے نصیحت تھی جس پر میں اب بھی عمل کرتا ہوں“ ۔

” وہ پڑھے لکھے، خوش اخلاق اور گاڑیوں کے شوقین تھے۔ کوشش ہوتی کہ ہمیشہ نئے ماڈل کی گاڑی لیں۔ رنگوں میں سفید بہت پسند تھا۔ کپڑے بھی وہ ( خصوصاً گرمیوں میں ) سفید ہی پہنتے تھے۔ ان کا لباس سفید شرٹ، سفید پتلون اور سفید ہی جوتے ہوتا۔ میں نے انہیں اس لباس میں اکثر دیکھا۔ ان کے حلقہ احباب میں نوکر شاہی کے افسران بھی تھے۔ یہ اب بھی مجھ سے رابطے میں ہیں۔ اسی طرح فوج میں بھی ان کے ملنے جلنے والے تھے۔ خاص طور پر جنرل سوار خان کا نام لوں گا جو اکثر ہمارے گھر آتے تھے۔ میرے والد مادام نورجہاں کو بھی بلوا لیتے تھے یوں گھر بیٹھے محفلیں لگتیں“ ۔

” میں نے فلم“ ثریا بھوپالی ” ( 1976 ) سے والد صاحب کی معاونت شروع کی۔ تب میں گریجوایشن کر چکا تھا۔ انہوں نے مجھے اس میدان کے تمام پیچ و خم اور فلم کی پس منظر موسیقی سکھلائی۔ سب سے زیادہ زور انہوں نے گیت کے الفاظ کے مطلب سمجھنے پر دیا۔ شاعر جب مکھڑا لکھ کر دیتا ہے تو پہلے اس کو سمجھنے کو کوشش کرنا چاہیے پھر یہ کہ کس طرح الفاظ کی ادائیگی کروانی ہے۔ کس لفظ پر زور دینا ہے، کس کو لمبا کرنا ہے۔ وہ کہتے کہ بیٹا پاکستانی ماحول میں سیدھا ٹیمپو چلتا ہے۔ اس لئے زیادہ مشکل گانے نہیں چلتے۔ لیکن جب وہ سوچتے کہ یہ گانا راگ میں بننا چاہیے تو پھر انہوں نے راگ کا تعین بھی کیا۔ انہوں نے ’للت‘ ، ’بھوپالی‘ ، ’پہاڑی‘ ، ’ایمن‘ ، ’درباری‘ وغیرہ میں بھی گانے بنائے“ ۔

’ بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی۔‘ ، ’ہم بھول گئے ہر بات مگر تیرا پیار نہیں بھولے۔ ‘ ، ’تیرے لئے او جان جان لاکھوں ستم اٹھائیں گے۔ ‘ ایسے بہت سے مقبول نغمات انہوں نے اپنے وقت کے تقریباً سب ہی گیت نگاروں کے ساتھ بنائے : جیسے : حمایتؔ علی شاعر، سیف الدین سیفؔ، فیاض ؔ ہاشمی، تنویرؔ نقوی، قتیلؔ شفائی، احمد فرازؔ وغیرہ۔ ان اور دیگر شعرا کے بہت سے گیت سپر ہٹ ہوئے۔ فلمی قوالیوں میں فلم ”توبہ“ ( 1964 ) میں فیاض ؔ صاحب کی قوالی ’نہ ملتا گر یہ توبہ کا سہارا ہم کہاں جاتے۔ ‘ اس وقت بھی اور آج بھی مقبول عام ہے۔ فلم ”دوستی“ ( 1971 ) ، ”یہ امن“ ( 1971 ) ، ”سماج“ ( 1974 ) کی موسیقی بھی مثالی ہے ”۔

اے حمید صاحب کے گانوں کی بھارت میں نقل:

” والد صاحب کے ایسے کئی گانے ہیں جن کی بھارت میں نقل ہوئی۔ سر فہرست گولڈن جوبلی فلم“ سہیلی ” ( 1960 ) میں نسیم بیگم کی آواز میں فیاضؔ ہاشمی کا یہ گیت: ’ہم بھول گئے ہر بات مگر تیرا پیار نہیں بھولے۔ ‘ ۔ ہے“ ۔ اس گیت کو فلمساز و ہدایتکار ساون کمار نے استھائی وہی رکھ کر دونوں انتروں کے بول خود لکھے اور موسیقار ویدپال سے لتا منگیشکر کی آواز میں فلم ”سوتن کی بیٹی“ ( 1989 ) کے لئے رکارڈ کرایا۔ انٹرو، انٹرول میوزک، باریں بدل دی گئیں۔

انتروں کی طرز بھی مختلف ہے۔ وید پال کی محنت اپنی جگہ لیکن اے حمید صاحب کے اصل گیت میں بانسری اور پیانو کے فلیش اور وائلن کے پیسوں سے ”سوتن کی بیٹی“ محروم رہی۔ ”اس کے علاوہ ’بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی۔ ‘ پھر ’اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں۔ ‘ اور ’اے دنیا کیا تجھ سے کہیں جا چھیڑ نہ ہم دیوانوں کو۔ ‘ وغیرہ بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔

ایک دلچسپ شرط:

رضوان حمید نے اپنے والد اور مہدی حسن صاحب کے درمیان لگنے والی ایک دلچسپ شرط کا بھی ذکر کیا۔ ہوا یوں کہ فلم ”انگارے“ ( 1972 ) میں احمد فرازؔ کی غزل کی دھن میرے والد نے مہدی حسن صاحب کے لئے بنائی۔ اس دھن کو سن کر مہدی حسن صاحب نے میرے والد سے کہا کہ اگر آپ کی بنائی ہوئی ’اب کے ہم بچھڑیں تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں۔ ‘ کی دھن ہٹ ہو گئی تو میں آپ کو اپنا استاد مان لوں گا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ مہدی حسن اس غزل کو پہلے کسی اور طرز میں گا چکے تھے۔ اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ یہ گیت ریڈیو اور باکس آفس دونوں جگہوں پر سپر ہٹ ہو گیا ”۔

” جب میں اپنے والد صاحب کا اسسٹنٹ ہوا تو فلمی صنعت کا انحطاط شروع ہو چکا تھا۔ ایسے ماحول میں والد صاحب نے فلموں کے لئے کام کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ تب انہوں نے مجھے تھوڑا سا آگے کیا۔ ظفر شباب صاحب کی بعد میں آنے والی فلموں اور ایس سلیمان صاحب کی فلم“ لو ان لنڈن ” ( 1987 ) کے لئے میں نے کافی کام کیا۔ بیک گراؤنڈ میوزک بھی کیا۔ پلاٹینم جوبلی فلم“ آواز ” ( 1978 ) کا مقبول گیت ’تو میرے پیار کا گیت ہے تو میرے دل کی آواز ہے۔ ‘ کو میں نے خود کمپوز کیا۔ میں نے فلمی موسیقی کے تمام شعبوں کی باقاعدہ تربیت اپنے والد صاحب سے حاصل کی۔ لیکن اس میدان میں مزید آگے نہ بڑھ سکا۔ یقیناً اس میں بھی کوئی مصلحت ہو گی“ ۔

موسیقار رشید عطرے :

” مجھے آج تک یاد ہے کہ بچپن میں ایک مرتبہ موسیقار رشید عطرے صاحب ہمارے گھر تشریف لائے۔ میری والدہ کو کہنے لگے کہ میرا وقت ختم ہو گیا ہے اب ہمارے خاندان کا ’ٹکا‘ حمید ہے۔ اب مستقبل میں یہ کام کرے گا۔ میرے والد بڑے با ادب تھے اور عطرے صاحب سے دعائیں بھی بہت لیتے تھے۔ ایک دفعہ والد صاحب سے کسی نے انٹرویو میں سوال کیا کہ آپ کے گانوں میں رشید عطرے صاحب کا عکس نظر آتا ہے تو والد صاحب نے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے کہا کہ زہے نصیب یہ تو میرے لئے بہت بڑی بات ہے کہ رشید عطرے صاحب کی جھلک میرے کام میں نظر آتی ہے۔

میرے والد صاحب نے رشید عطرے، خواجہ خورشید انور اور ماسٹر عنایت حسین صاحبان کے ساتھ پیانسٹ کی حیثیت سے کام کیا۔ سلور جوبلی فلم“ کوئل ” ( 1959 ) میں خواجہ صاحب کی دھن میں تنویرؔ نقوی صاحب کا مشہور زمانہ گیت ’مہکی فضائیں گاتی ہوائیں بہکے نظارے سارے کے سارے تیرے لئے۔ ‘ میں پیانو میرے والد صاحب نے بجایا ہے۔ ان ہی موسیقاروں کے درمیان میرے والد صاحب نے بھی کام کیا۔ وہ اتنے با ادب تھے کہ ان تینوں موسیقاروں میں سے کوئی آتا تو وہ اپنی نشست چھوڑ کر ان کو بٹھا دیتے“ ۔

امجد بوبی:

” امجد بوبی بہت اچھے انسان تھے۔ انہوں نے میرے والد صاحب کو 20 سے 25 سال اسسٹ کیا۔ ان کی شہرت نذر شباب کی ڈائمنڈ جوبلی فلم“ بوبی ” ( 1984 ) میں سلمیٰ آغا کے گانے سے ہوئی: ’اک بار ملو ہم سے تو سو بار ملیں گے۔ ‘ ۔ بعد میں سلمیٰ بھارت بھی گئیں جہاں انہوں نے بہت اچھا کام کیا۔ امجد بوبی کام پر گرفت رکھنے والے بہت سمجھ دار کمپوزر تھے کیوں کہ انہوں نے رشید عطرے اور اے حمید جیسے جید استادوں سے کام سیکھا۔ نہایت ہی باصلاحیت کمپوزر تھے۔

انہوں نے پاکستان ٹیلی وژن کے لئے بھی کافی کام کیا۔ جیسے اے نیر کی آواز میں ’بینا تیرا نام۔ ‘ ۔ امجد تو ہمارے گھر میں بڑے بھائی کا درجہ رکھنے والے فرد تھے۔ کبھی اگر میرے والد صاحب امجد بوبی صاحب کو ڈانٹ دیتے تو وہ ناراض ہو کر اپنے ماموں رشید عطرے صاحب کے پاس جا کر کہتے کہ حمید صاحب نے ڈانٹا ہے۔ پھر ان کے ساتھ کام کرنا شروع کر دیتے۔ جب وہاں کام ختم ہو جاتا تو پھر واپس آ جاتے۔ میرے والد صاحب ان سے بہت پیار کرتے تھے۔ بعد میں جو ڈانٹ ان کو پڑتی وہ مجھے پڑنا شروع ہو گئی۔ اس وقت رشید عطرے صاحب حیات نہیں تھے ورنہ میں بھی ڈانٹ کھا کر سیدھا ان کے پاس چلا جاتا (قہقہے )“ ۔

پروین شاکر کا واقعہ:

” میں پاکستان کسٹمز میں ملازمت شروع کر چکا تھا۔ قتیلؔ شفائی صاحب کے ساتھ کسی کام سے اسلام آباد کے سرکاری دفتر میں پروین شاکر کے پاس گیا جو وہاں ایک اعلیٰ افسر تھیں۔ قتیلؔ صاحب نے باتوں باتوں میں ان سے کہا کہ اس بچے سے تعارف ہے؟ پروین شاکر نے کہا کہ نہیں! قتیلؔ صاحب نے کہا کہ یہ موسیقار اے حمید صاحب کا بیٹا ہے۔ یہ سن کر تھوڑی دیر تو وہ قتیلؔ صاحب کو بھول کر میری جانب متوجہ ہو گئیں۔ کہنے لگیں کہ اپنے والد صاحب کو کہیں کہ وہ میری بیٹی کے لئے تھوڑا وقت نکالیں! “ ۔

” پیانو سکھانے کے لئے؟“ ۔ میں نے سوال کیا۔
” جی ہاں! پیانو سکھانے کے لئے“ ۔


اسٹاپ واچ پر فلم کا بیک گراؤنڈ:

” والد صاحب پاکستان کے واحد کمپوزر ہیں جو اسٹاپ واچ پر فلم کا بیک گراؤنڈ کرتے تھے۔ ان کی پشت اسکرین کی طرف اور چہرہ آرکسٹرا کی طرف ہو تا تھا۔ ان کا میوزک 100 فی صد فلم سے سنکرو نائز ہوتا تھا۔ اس بات کی گواہی اس دور کے میوزیشن آج بھی دیتے ہیں۔ انہوں نے پیانو بجایا تو کمال بجایا۔ گیتوں کی دھنیں دل پسند بنائیں اور آرکسٹریشن بھی بہت خوب کی۔ گانے کا جو ماحول ہوتا اسی کے حساب سے دھنیں بناتے۔ باقی تو نصیب اور اللہ کے کرم کی بات ہے“ ۔

” گیت نگاروں میں سیف الدین سیفؔ صاحب، تنویرؔ نقوی صاحب، قتیل ؔ شفائی صاحب اور موسیقاروں میں نثار بزمی صاحب اور ایم اشرف صاحب اکثر ہمارے گھر تشریف لاتے۔ میوزک ڈائریکٹرز ایسوسی ایشن کے چیرمین کی حیثیت سے بھی والد صاحب نے ذمہ داریاں نبھائیں۔ پھر انہوں نے این سی اے، اسلام آباد میں ملازمت اختیار کر لی۔ وہاں ان کو بہت محبت ملی۔ وہیں والد صاحب کا انتقال ہوا۔ اسلام آباد /راولپنڈی والوں کا کہنا تھا کہ والد صاحب نے ان سب کو اپنی زندگی میں اتنا پیار اور عزت دی ہے کہ ہم ان کو لاہور کے بجائے یہیں دفنائیں گے۔ پھر ہوا بھی ایسا ہی“ ۔

” اکثر اوقات موسیقار پہلے دھن بنا کر اس پر بول لکھا لیتا ہے۔ والد صاحب ایسا نہیں کرتے تھے۔ وہ پہلے مکھڑا لکھواتے پھر اس کی دھن بناتے۔ پھر کہتے تھے کہ اب انترا لکھیں۔ تب اس کی بھی دھن بناتے۔ ان کے ایسے بہت سے گانے ہیں جن کے دو دو تین تین انترے ہیں۔ یہ بڑا مشکل ہوتا ہے کہ پہلا اور تیسرا انترا کسی اور سر میں او ر درمیان والا کسی اور میں۔ یہ ہی نہیں پھر اس کو استھائی سے جوڑنا با کمال لوگوں کا کام ہے۔ یہ تمام لوگ اس لئے باکمال تھے کیوں کہ وہ با ادب اور محنتی تھے“ ۔

” ریاض شاہد صاحب کے ساتھ ان کا بہت یارانہ تھا۔ وہ اکثر بیک گراؤنڈ ریکارڈنگ پر آ کر کہتے کہ مجھے کچھ اور قسم کا بیک گراؤنڈ میوزک چاہیے۔ اسی طرح میرے والد ریاض شاہد کے سیٹ پر جا کر کہتے کہ مجھے ایسا سین نہیں چاہیے۔ یا اس رقص کی کوریو گرافی غلط ہے۔ اس قسم کی نوک جھونک چلتی تھی۔ اسی طرح والد صاحب کے بہت قریبی دوستوں میں حسن طارق اور اداکار یوسف خان تھے“ ۔

” فلم“ دوستی ” ( 1971 ) میں تنویرؔ نقوی صاحب کا گیت ’بس گیا تو سوتنیا کے دوار سجنا کہاں ہے تیرا پیار سجنا۔ ‘ میں آپ دیکھیں ’بس گیا تو۔ ‘ کی ادائیگی مادام نورجہاں سے کیسے کروائی گئی“ ۔

شہبازؔ تنویر نقوی نے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا : ”اسی فلم میں والد صاحب کے ایک گیت ’چٹھی ذرا سیاں جی کے نام لکھ دے۔ ‘ پر انہیں گیت نگار کی حیثیت سے، موسیقار کی حیثیت سے حمید انکل کو اور میڈم کو بہترین گلوکارہ کے اس سال کے نگار ایوارڈ حاصل ہوئے تھے“ ۔

” اس دور میں بھارت اور پاکستانی فلموں کا مقابلہ چلتا تھا۔ پاکستانی گانے بھی بھارت میں سنے جاتے تھے۔ وہاں ایک گانا بنا : ’خط لکھ دے سانوریا کے نام بابو، وہ جان جائیں گے پہچان جائیں گے‘ ۔ اس کے جواب میں یہاں سے خط یا چٹھی لکھنے کا گیت آنا تھا۔ اس پس منظر میں تنویرؔ نقوی صاحب نے کمال کا گانا لکھا، اے حمید صاحب نے اس کو کیا بنایا اور پھر میڈم نے کیا گایا۔“ ۔ رضوان صاحب نے کہا۔

” میں تو دل سے دعا کرتا ہوں کہ اللہ فلم انڈسٹری کا ویسا ہی پہلے جیسا ماحول بنا دے۔ یہ خوب پلے پھولے تا کہ بہت سارے لوگوں کو اس انڈسٹری میں کام کرنے کا موقع ملے۔ مجھے بھی اگر اچھے مواقع ملے تو میں بھی انشاء اللہ اچھا کام کر کے دکھاؤں گا“ ۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).