بڑے ہو کر میں امی کو ماروں گی


ایک تقریب میں جانا ہوا اتفاق سے اکثر کسی ایسی محفل کی دعوت آ جائے تو ہماری پہلی اور شدید قسم کی کوشش ہوتی ہے کہ ہم کسی طرح بچ جائیں مگر اس بار قدرت کو یہی منظور تھا تو ہم چلے گئے۔

تھوڑی ہی دیر بعد ہمیں بوریت شروع ہو گئی اور بڑھتی ہی جا رہی تھی، کیونکہ کوئی تھا ہی نہیں جس سے ہم بات کر سکیں، ساری آنٹی لوگ اور ان کی صدیوں پرانے وتیرے، کسی کے بالوں پر رائے زنی ہو رہی تھی تو کسی کے رنگ پر، کپڑے اور جوتے بھی آنٹی سی۔ سی۔ ٹی۔ ویز سے محفوظ نہیں تھے۔

یہ سب وہ خواتین تھیں جو کے چالیس اور پچاس سال کی عمر کو پہنچ چکی تھیں یا پہنچنے والی تھیں، اور بہت کوشش سے خود کو تیس سال کے اندر دکھانے میں کامیاب رہی تھیں اسی لیے سب پر رائے زنی اپنا اخلاقی فریضہ سمجھ کر ادا کر رہی تھیں۔

خیر ان سب میں جو کام کی بات ہے وہ اب ہم آپ کو سنانے لگے ہیں۔

بوریت بڑھی تو ہم نے آس پاس کوئی مصروفیت ڈھونڈنے کی کوشش کی، نظر ایک چھوٹی سی پیاری سی معصوم بچی سے ٹکرائی، اسے دیکھ کر ہم مسکرائے، وہ تھوڑا سا گھبرائی پھر وہ بھی ہنس دی۔

ہم نے ہاتھ ہلاتے ہوئے اسے اپنے پاس آنے کا کہا اور وہ دوڑتی ہوئی پہنچ گئی۔
نام کیا ہے آپ کا، ہم نے دریافت کیا۔
اجوا ( فرضی نام) اس نے جواب دیا۔
کون سی کلاس میں ہو؟ ہم نے سوال کیا۔
” ہممم ون“ بچی نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
بڑے ہو کر کیا کرو گی؟ ہم نے دلچسپی سے پوچھا۔
بڑے ہو کر؟ بڑے ہو کر میں امی کو ماروں گی، اجوا کے جواب سے ہمارے چھکے چھوٹ گئے۔

پاس بیٹھی آنٹی قہقہہ مار کر ہنس دیں شاید وہ اجوا کو پہچانتی تھیں، یہ ایسے ہی باتیں کرتی ہے ”کیوٹ“ آنٹی نے کہا۔

مگر ہمارے لیے یہ ایک ”کیوٹ“ جملہ ہرگز بھی نہیں تھا، اس جملے سے بڑے شدید ترین زخموں کی بو آ رہی تھی۔
اچھا بیٹا آپ نے امی کو کیوں مارنا ہے؟ ہم نے ذرا سی ہمت کر کے بچی سے دریافت کرنے کی کوشش کی۔
کیونکہ وہ مجھے مارتی ہیں، اجوا نے کھڑاک سے جواب دیا۔
یہ شرارتی ہے جواب دیتی ہے اس لیے مار پڑ جاتی ہے۔ ایک اور آنٹی جواب دیا۔
شرارت پر مار؟ اتنے چھوٹے بچے کو وہ بھی اتنی شدید کے بچہ اپنی زندگی کا مقصد ہی مار اور انتقام بنا لے؟

اور جواب تو ملے گا اگر آپ بچے کو اس طرح تشدد کا نشانہ بناؤ گے، ہم نے سوچا مگر آنٹی لوگوں کے سامنے زبان نا کھولی ورنہ ان کے زبانی تشدد کا نشانہ ہم ہوتے۔

اجوا نے شاید ہمارا دماغ پڑھ لیا تھا اس لیے اس نے ہمیں اشارے سے جھکنے کو کہا کہ ہمارا کان اس کے منہ کے قریب ہو سکے، ہم نے اس کی بات پر عمل کیا۔

آپی، امی بابا اور دادی سے لڑنے کے بعد مجھے مارتی ہے، بتانا نہیں کسی کو، وہ کہتی ہے ہم جب الگ گھر لے لیں گے تو وہ مجھے نہیں ماریں گے۔ اجوا نے کہا اور ہم ششدر رہ گئے۔

اللہ اکبر۔ یہ عورتیں کس کس طرح بچوں کو استعمال کرتی ہیں۔ اپنا غصہ بھی بچوں پر نکالو، کسی اور کا بھی؟! شوہر کو بلیک میل کرنا ہو تو بچوں کو ڈھال بناؤ؟ کیا ایسی عورت ماں کہلوانے کا حق رکھتی ہے؟

اور پھر یہی عورت ماں کی عظمت کے ڈھنڈورے پیٹتے نہیں تھکے گی، جس نے اپنی بیٹی کا مقصد حیات انتقام بنا دیا ہوا ہے۔

بیشک ماں کا ایک مقام ہے، مگر یہ مقام صرف بچہ پیدا کر دینے سے نہیں مل جانا! تربیت کے مشکل ترین اور صبر آزما مراحل سے گزر کر ہی اس مقام کا حصول ممکن ہے۔

بچوں کو مختلف طریقوں سے ”ٹراما“ دیتے رہنے سے آپ کے پیروں تلے صرف چپل ہی رہے گی جنت نہیں۔
جنت کا حصول ایک طویل ریاضت سے مشروط ہے اور بچے کی تربیت بھی کسی ریاضت سے کم نہیں۔

یہ کوئی جواز نہیں بچے پر تشدد کرنے کا کہ آپ خود کسی پریشانی میں مبتلا ہیں، اگر پریشان ہیں تو حل نکالا جاسکتا ہے، الگ گھر چاہیے تو اس کا طریقہ بچے پر تشدد ہرگز نہیں۔

یا آپ بچے پر اس لیے تشدد کرتے ہیں کے وہ آپ کی بنسبت کمزور ہے اور پلٹ کر جواب نہیں دے سکتا؟
یہ کھلی بدمعاشی ہے اور بدمعاشی کی سزا ہوتی ہے۔
سزا تب ملے گی جب آپ اس بچے جتنے کمزور ہوں گے اور بچہ طاقتور، معاشی اور جسمانی لحاظ سے۔
پھر یہ شکایت سننے کو ملتی ہے کہ فلاں کے بچوں نے اس کے ساتھ یہ کیا، فلاں کے بچوں نے وہ کیا!
دراصل بچے کچھ نہیں کرتے بلکہ ماں باپ کو ان کے اعمال کا آئینہ دکھ رہا ہوتا ہے۔

بچے کو آپ نے ٹراما دیا تو وہ پھر بڑا ہو کر آپ سے دور ہی رہنے لگے گا، اس کا لاشعور اسے دھکے مار مار آپ سے دور رہنے پر مجبور کرے گا، اور کوئی بھی شعوری کوشش کوئی کام نا دکھائے گی۔

یہی سوچتے ہوئے ہم اجوا اور محفل کو چھوڑ کر واپس آ گئے۔

Facebook Comments HS