لوٹے بمقابلہ لوٹے


مسلم لیگ نون کے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ اب سیاسی پنڈت پنجاب میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں سخت مقابلے کی نوید سنا رہے ہیں۔ آخر بات یہاں تک پہنچی کیسے ہے؟ عقلی دلائل تو کہتے ہیں کہ بزدار حکومت کے بعد پی ٹی آئی کو ضمنی انتخابات میں امیدوار نہیں ملنے چاہیے تھے مگر میدان میں تو حالات یکسر مختلف دکھائی دے رہے ہیں۔ سپریم کورٹ نے لوٹوں کو اسمبلیوں سے نکال کر گلی محلوں میں پھیلا دیا ہے۔ یہ وہی بات ہوئی کہ مرحوم ضیا الحق نے طوائفوں کو ٹکسالی سے نکال کر پورے ملک میں پھیلا دیا تھا۔

کیا سیاسی جماعتوں میں اب مخلص سیاسی ورکرز کا قحط پڑ گیا ہے؟ کب تک لوٹے سیاسی جماعتوں کو یرغمال بنائے رکھیں گے؟ اگر یہ تمام لوٹے جیت گئے تو پھر یہ کتنا بڑا طمانچہ ہو گا۔ اس کی حدت کو محسوس کون کرے گا؟ قانون بنانے والے یا قانون کی تشریح کرنے والے یا اس بار بھی یہ طمانچے عوام کے لئے ہی ہیں۔ راولپنڈی سے لے کر بھکر تک لوٹوں کا ہی راج ہے۔ لوٹے شہری اور دیہاتی تقسیم کو بالائے طاق رکھ کر لوگوں کو جمہوریت کے فضائل بتا رہے ہیں۔

ملک کے انقلابی لیڈر جناب عمران خان نے حکومت جانے کے بعد ارشاد فرمایا تھا کہ اب پارٹی کے ساتھ وابستہ مخلص سیاسی ورکروں کو ٹکٹ دیا جائے گا۔ مگر عرفان اللہ نیازی، عامر اقبال شاہ، کرنل (ر) شبیر اعوان کون سے انقلابی ہیں۔ ان کو تو پی ٹی آئی کے منشور کے دو نقاط کا بھی پتہ نہیں ہو گا۔ عمران خان صاحب تقریروں میں انقلاب اور سیاسی جدوجہد کو جہاد تک کہہ جاتے ہیں مگر فیصلہ سازی کرتے وقت موروثیت اور پاور پولیٹکس کو ترجیح دینے کا وہ عملی نمونہ ہیں۔

اگر ان انتخابات کو لوٹا بمقابلہ لوٹا کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ کیا ان ضمنی انتخابات میں ہمیں ووٹ کو عزت دو کا نعرہ سننے کا ملے گا؟ کیا عمران خان انتخابی جلسوں میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ امپورٹڈ امیدوار کے مقابلے میں پی ٹی آئی کا امیدوار سیاسی ورکر اور پی ٹی آئی سے پرانی وابستگی رکھتا ہے۔ پی ٹی آئی نظریات سے ہٹ کر مال دار اور وڈیروں میں بری طرح گھر چکی ہے۔ جس کی مثال ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی کے امیدوار ہیں۔

مسلم لیگ نون کا حال بھی کچھ ایسا ہی ہے مگر یہ تو ایک روایتی پارٹی ہے۔ پی پی 7 راولپنڈی سے مسلم لیگ نے ن راجہ صغیر کو میدان میں اتارا ہے۔ جو 2008 ء کے عام انتخابات میں پی ٹی آئی کے امیدوار تھے۔ ان کا مقابلہ اب تحریک انصاف کی ٹکٹ حاصل کرنے والے لیفٹیننٹ کرنل (ر) شبیر اعوان سے ہو گا۔ شبیر اعوان 2008 ء کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر ممبر پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ بھکر سے سعید اکبر نوانی مسلم لیگ نون اور اس حلقے سے مسلم لیگ کی ٹکٹ پر 2018 ء کے عام انتخابات میں حصے لینے والے عرفان اللہ نیازی اب پی ٹی آئی کے امیدوار ہیں۔

وہ اس حلقے سے 44 ہزار 915 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر تھے۔ لاہور میں بظاہر مسلم لیگ نون میں شامل ہونے والے لوٹوں کی پوزیشن بہتر لگتی ہے مگر تحریک انصاف بہتر تنظیمی نظم و نسق سے کایا پلٹن کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ فی الوقت ایسا کچھ بھی دکھائی نہیں دے رہا۔ مسلم لیگ نون کو لودھراں میں کافی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور مقابلہ تحریک انصاف بھی جیت سکتی ہے۔ یہاں پر مسلم لیگ نون کو اپنے ہی سابق ٹکٹ ہولڈر کا سامنا ہے۔

عامر اقبال کے والد 2018 ء کے ضمنی انتخاب میں جہانگیر ترین کے بیٹے کو شکست دے چکے ہیں۔ مظفر گڑھ میں بھی روایتی سیاستدان میدان میں ہیں۔ لیہ میں بھی مسلم لیگ نون کو اپنے ہی سابق رکن اسمبلی قیصر عباس مگسی کا سامنا ہے۔ یہ 2008 ء اور 2013 ء میں مسلم لیگ کی ٹکٹ پر رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہو چکے ہیں۔ ڈیرہ غازی میں کھوسہ برادری آپس میں برسر پیکار ہیں۔ مسلم لیگ نون کو اپنے سابق گورنر ذوالفقار علی کھوسہ کے بیٹے سیف الدین کھوسہ کا سامنا ہے۔

مسلم لیگ نون نے موجودہ رکن اسمبلی امجد فاروق خان کے فرزند عبدالقادر کھوسہ کو ٹکٹ جاری کیا ہے۔ پنجاب کے طول و عرض میں وڈیرہ ازم، امارت اور موروثیت نے پنجے گاڑے ہوئے ہیں۔ پی ٹی آئی کے نامزد امیدوار عمران خان کی تقریر اور عمل میں تضاد کی گواہی دے رہے ہیں۔ پی ٹی آئی نے ان ضمنی انتخابات کا نادر موقع بھی گنوا دیا جب یہ ثابت کیا جا سکتا تھا کہ پی ٹی آئی ورکرز کی جماعت ہے اور اس میں ٹکٹ میرٹ پر دیے جاتے ہیں۔

Facebook Comments HS