سوشل میڈیا کے جھوٹ


جادو ہے یا طلسم تمہاری زبان میں
تم جھوٹ کہہ رہے تھے مجھے اعتبار تھا

آج میں بے خود دہلوی صاحب کے اس شعری استعارے والے جھوٹ کی بات نہیں کروں گا کہ جس کے بغیر ہماری رومانی اور غزل کی روایات ایک قدم بھی نہیں چل سکتیں بلکہ اس جھوٹ کی بات کروں گا جس کے بارے میں کہتے ہیں کہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے یعنی وہ چل نہیں سکتا۔ لیکن آج کے اس ٹیکنالوجی کے دور نے جھوٹ کو کچھ سائبر قسم کے پاؤں عطا کر دیے ہیں جن کی مدد سے نہ صرف یہ کہ جھوٹ چلنے لگا ہے بلکہ دوڑنے لگا ہے۔ یہ پاؤں ہیں فیس بک، ٹویٹر، انسٹا گرام، ٹک ٹاک، یوٹیوب وغیرہ وغیرہ اور ان کو مجموعی طور پر سوشل میڈیا کہا جاتا ہے۔

جھوٹ آج بھی بولا جاتا ہے جھوٹ کل بھی بولا جاتا تھا اور جھوٹ آئندہ بھی بولا جاتا رہے گا آخر کیا وجہ ہے کہ جھوٹ کی رفتار مسلسل بڑھ رہی ہے یہ جھوٹ اگر چودہ پندرہ سو سال پہلے سرین کے بل گھسیٹتا تھا تو آج دوڑ رہا ہے ہو سکتا ہے کہ کل ہوا کے گھوڑے پر سوار ہو۔ کبھی ہم نے غور کیا کہ آخر اس جھوٹ کو یہ برق رفتاری کہاں سے مل رہی ہے؟ اس کو راستہ کون دے رہا ہے؟ میرے خیال میں یہ سب سچ کی خاموشی کی وجہ سے ہو رہا ہے۔

سچ کل بھی تھا آج بھی ہے اور آئندہ بھی رہے گا۔ سچ ہمیشہ سے لبوں کا ساتھ چاہتا ہے، اس کو قلم کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کی سب سے قریبی ساتھی زبان ہے جو کبھی کبھار اس سچ کا ساتھ دینے کی پاداش میں کاٹ بھی دی جاتی ہے۔ جب تک ان تینوں کا ساتھ سچ کو میسر رہا جھوٹ گھسیٹتا رہا چل نہیں سکا۔ جھوٹ لکھنے کی کوششیں پہلے بھی ہوتی تھیں لیکن قلم بڑی مشکل سے ملتا تھا قلم مل جاتا تو چھاپنا بہت مشکل تھا کہ قدم قدم پر اس کی راہ روکنے کے لیے سچ کی دیوار موجود ہوتی اخبار کے دفاتر میں، پبلشرز کے آفسز میں ایسے لوگ موجود ہوتے جو اس جھوٹ کی راہ میں کھڑے ہو جاتے اور اس کو بے نقاب کرتے اور اس کے مصنوعی پاؤں بھی کاٹ کر پھینک دیتے۔

کسی محفل میں یا مجلس میں اگر جھوٹ بولا جاتا تو وہاں موجود ہر سچی زبان بول پڑتی، سچے لب چلانے لگتے اور جھوٹ کو عافیت خاموشی میں ہی نظر آتی۔ لیکن آج اس سوشل میڈیا کے دور میں جھوٹ صرف اس وجہ سے چل رہا ہے کہ یہاں پر نہ جانے کیوں وہ سچی زبانیں، صادق لب اور دروغ سے پاک قلم جو ہر جگہ جھوٹ کے آگے بند باندھتے تھے خاموش ہیں ان کو نجانے کیوں سوشل میڈیا پر چپ سی لگ جاتی ہے۔ میں کئی ایسی پوسٹ دیکھتا ہوں جو جھوٹ کا پلندا ہوتی ہیں اور ان کو سیکڑوں لائیک ملتے ہیں اور ان کی تعریف میں چھتیس کمنٹس ہوتے ہیں اور کوئی ایک آدھ ہی کمینٹ ان کے رد میں۔

ایسا نہیں کہ لوگوں کو پتہ نہیں کہ یہ جھوٹ ہے مگر لوگ کسی وجہ سے اس کا رد لکھنا پسند نہیں کرتے شاید بلا وجہ کے جھگڑے میں پڑنا نہیں چاہتے۔ اگر دیکھا جائے تو یہ بلا وجہ کا جھگڑا نہیں جھوٹ اور سچ کے درمیان ہلکی پھلکی ہاتھا پائی ہے اور جھوٹ انہی چھوٹی چھوٹی کامیابیوں سے مسلسل طاقت حاصل کر رہا ہے اور خدانخواستہ ایسا نہ ہو کہ جھوٹ ایک دن اتنی بڑی طاقت بن جائے کہ اس کو روکنے کے لیے سچ کو بہت بڑی قربانی دینی پڑے۔

تو سچ کے پرستاروں کو چاہیے کہ جھوٹ کو ہر جگہ روکیں اور اس کی حوصلہ شکنی کریں ایسا نہ ہو کہ دیر ہو جائے۔ اگر آپ کو سوشل میڈیا پر کوئی جھوٹی پوسٹ نظر آئے تو اس کی حوصلہ شکنی کیجئے بتائیے کہ یہ جھوٹ ہے۔ لکھیں کہ یہ شعر جو آپ اقبال، فیض، فراز یا جون صاحب کے نام سے لکھ رہے ہیں یہ ان میں سے کسی کا نہیں بلکہ یہ تو شعر بھی نہیں۔ جو باتیں کسی نے فلاں ابن فلاں لیڈر کے بارے میں لکھی ہیں بتائیے کہ ان میں سے آدھی جھوٹ ہیں چاہے وہ آپ کے پسندیدہ لیڈر کے ہی بارے میں کیوں نہ لکھی گئی ہوں۔ کسی کی تعریف لکھی گئی ہو یا برائی اگر جھوٹ ہے تو اس کا پول کھولنا ضروری ہے۔ تاریخ کا کوئی واقعہ نظر آئے اور جھوٹ ہو تو ببانگ دہل اس کا اعلان کیجیے ورنہ تاریخ کو مسخ کرنے کے گناہ میں آپ بھی شریک مانے جائیں گے۔ آپ کو اس آئینے کی طرح ہونا چاہیے جس کے متعلق کرشن بہاری نور نے کہا تھا

چاہے سونے کے فریم میں جڑ دو
آئینہ جھوٹ بولتا ہی نہیں

دلوں کو گداز کرنے والے جھوٹے واقعات چاہے ماں اور اولاد سے متعلق ہوں چاہے کسی معصوم سے جانور سے تعلق رکھتے ہوں اور سچ کہہ کر بیان کیے جائیں توان کی حوصلہ شکنی کیجیے۔ کسی ویڈیو پر اندھا یقین نہ کیجیے کہ آج کل سافٹ وئیر کی مدد سے کچھ بھی فلمایا جاسکتا ہے کسی کی بھی آواز کی نقالی کی جا سکتی ہے اگر آج ٹیکنالوجی کی مدد سے یہ سب کچھ کرنا آسان ہے تو ان کا پردہ چاک کرنا بھی کوئی بہت مشکل کام نہیں ذرا سا غور و تفکر ان جھوٹی ویڈیوز کی حقیقت سمجھنے کے لیے کافی ہے۔

یقین کیجیے یہ انٹرنیٹ جو اس جھوٹ کو پیر فراہم کر رہا ہے وہ سچ کے ہاتھ میں وہ تلوار بھی تھماتا ہے جس سے اس جھوٹ کے پیر کاٹے جا سکیں۔ کسی بھی تاریخی بیان یا واقعے کو آگے بڑھانے سے پہلے آپ گوگل سے اس کی تصدیق کر سکتے ہیں، تھوڑی سی کوشش سے آپ کو پتہ چل سکتا ہے کہ یہ شعر کس کا ہے اور اس کا اصلی خالق کون ہے۔ جس لیڈر کی شان میں قلابے ملائے جا رہے ہیں یا اس کی ہجو کی جا رہی ہے اس کا ماضی کھنگالنا آج کل کوئی مشکل کام نہیں ذرا سی کوشش سے پتہ چل سکتا ہے کہ کون کتنے پانی میں ہے۔ آپ کو سچ کہنا اور سچ کا ساتھ دینا ہو گا آپ بشیر بدر کے اس شعر کا سہارا لے کر اپنی جان نہیں چھڑا سکتے کہ

جی بہت چاہتا ہے سچ بولیں
کیا کریں حوصلہ نہیں ہوتا

آپ کو حوصلہ کرنا پڑے گا یہ سب اتنا مشکل بھی نہیں البتہ آپ کے وقت کا متقاضی ہے۔ بہت سے لوگ جن کا علم اتنا نہیں ہوتا اور وہ کسی کی چرب زبانی یا قلم کے زور کی وجہ سے جھوٹ کو سچ سمجھ لیتے ہیں ان کی رہ نمائی بھی آپ کو ہی کرنی ہے۔ آپ کو وقت دینا ہو گا اگر آج آپ نے وقت نہیں دیا تو کل یہ وقت آپ کو معاف نہیں کرے گا۔ میرا یقین ہے کہ جھوٹ کبھی سچ پر غالب نہیں آ سکتا صرف کوشش کرتا ہے غالب آنے کی۔ اگر اس غلبے کی کوشش کو روکنے کے لیے آج چھوٹی چھوٹی قربانیاں نہ دیں تو کل بہت بڑی بڑی قربانیاں دینی ہوں گی۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کو اور ہم کو مٹا دیا جائے اور اوپر والا ہماری جگہ کسی اور قوم کو لاکر سچ کا بول بالا رکھے۔

Latest posts by جنید اختر (see all)

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments