سرزمین ناپرساں: بلو چستان
بلوچستان میں ایک بار پھر دلخراش سانحہ، بلوچستان کی کوئی ایک سڑک بھی قابل سفر نہیں، 22 کروڑ کی آبادی میں کسی ایک بھی باشعور انسان (جسے یہاں کے غریبوں کا احساس ہو) کا نہ ہونا سمجھ سے بالاتر ہے۔ یوں تو حکمراں طبقہ بارے ڈھول پیٹنا، انہیں جاہل، غلام، بے حس، لاشعور وغیرہ وغیرہ پکار کر حسب عادت زبانوں کی بے جا بوچھاڑ اور لفاظی کو کچھ مدتی پریشانی کو بھلانے عارضی طور دلاسا بنانا جو ہمارا معاشرتی فطرت بنی ہوئی ہے آسان ہے لیکن جن چیزوں کو ہم بلوچستان دشمن عناصر سمجھ رہے ہیں کیا واقعی یہی اس کے تباہی کے اسباب ہیں بھی؟ کیا یہ فطری رونے رو کر چند عرصے بعد سب کچھ کو معمول پر سمجھنا اس لاچار اور صوبہ ناپرساں کو درپیش مسائل سے نجات دلا سکتا ہے؟ نہ ہی وہ تباہی کے اسباب ہیں جنہیں ہم وجہ بنا کر بے جا چیخ و پکار سے اصل مقصد اور حقیقی مجرموں سے روگردانی کر بیٹھتے ہیں اور نہ ہی ہمارے رونے رنگ لائیں گے!
بلوچستان میں سردارانہ اور نوابانہ نظام تاحد ناتمام مستحکم اور طاقتور ہے۔ اس کی بنیادی وجہ علاقائی لوگوں کی لا تعلیمی اور زندگی کے بنیادی احساسات و مشاعر سے لاتعلقی اور محرومیت ہے۔ یو سمجھیں کہ سرکار کسی سردار کے علاقے میں سردار کی اجازت لئے بغیر ایک ٹاور تک نہیں لگوا سکتا، اسی طرح ہر منصوبے کی مثال لیں، کیونکہ جنہیں سردار نے اپنے علاقے میں سمجھ بوجھ رکھنے، یا یوں کہیں کہ زندگی کو سمجھ کر سردار کو خیرباد کہنے کے خوف سے ہمیشہ تعلیم و تربیت سے محروم رکھا، وہ ہر سرکاری منصوبے کو ناکام بنانے سردار کے شانہ بشانہ کھڑے ہوتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ہمارے علاقوں میں تربیتی حلقے اور تعلیمی درسگاہیں یا تو ہوتی ہی نہیں ہیں۔ اگر ہوتی بھی ہیں تو تعلیم و تربیت نہ ہونے کے برابر، اب جنہیں سردار اور نواب نے ہمیشہ محروم رکھا وہ ان کے بغیر کسی کو اپنا رہبر و سربراہ ماننے کو فطری اور ذہنی طور گوارا کرنے سے عاجز رہتے ہیں جب کہ عقیدت کا عالم یہ کہ گن پہلو میں لے کر اس کی حفاظت کو اپنے لئے سعادت اور اس کے لئے مر مٹنے کو شہادت سمجھتے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ سردار ان کا سہارا لے کر حکومت سے ہر ناجائز مطالبات تسلیم کروانے میں کامیاب رہتے ہیں جبکہ حکومت انہیں زر خرید غلاموں کی طرح ناجائز کاموں کی چھوٹ دے کر ان کے لئے سہولت کار بن جاتی ہے۔
اپنے ارادوں میں ایک دوسرے کو سہارا دے کر کامیابی ان کی مقدر جبکہ درمیان میں ذلت اور رسوائی کی چکی زندگی بھر پیستی رہے انہی غریب لاچار اور نادار عوام کو جن کا سہارا لے کر دونوں اپنے اہداف میں کامیاب رہے، اور وہ رونے روتے رہیں غربت کے، گم شدہ لوگوں کے، سڑکوں پر ایکسیڈنٹ کے، مہنگائی کے، ڈبل روڈوں کے، اور ان تمام مصیبتوں کے ضامن ٹھہراتے ہیں حکمران اور مقتدر حلقوں کو، لیکن یاد رکھیں بلوچستان کے ان تمام مسائل کے اصل ذمہ دار اور سبب حکمران اشرافیہ اور مقتدر حلقے نہیں ہمارے سردار، خان اور نواب ہیں کیونکہ گھر کا فرد چور کا سہولت کار نہ بنے تو انہیں گھر پر ڈاکا ڈالنے اور ٹیڑھی آنکھوں سے دیکھنے کی جرات تک نہیں ہو سکتی، انہی عناصر نے صوبے کی یہ حالت کردی کہ آنے والے رقوم سب ان کی سرداری اور نوابی کی نذر جبکہ مشکل وقت میں صوبہ کو سہارا دینے ہر بوجھ عوام برداشت کرے، ایک اور مثال سے لطف اندوز ہوں، کبھی سوچا ہو گا کہ 75 سالہ پاکستان میں اگر غلطی سے کسی ایک نے بلوچستان کو گوادر جیسا منصوبہ دیا بد قسمتی وہ بھی بد حالی کا شکار ہے کیوں؟
یہ بھی سب آپ کے سردار اور نواب کی کارستانی ہے کہ پناہ لئے بیٹھے ہیں اقوام متحدہ میں، اور اس کو عالمی منڈی برقرار رہنے دینے کو اپنا گوادر کا منصوبہ ناکام کرنے کبھی کہیں دھماکے اور کبھی کہیں، کبھی کوئی سازش اور کبھی کوئی، عوض صرف اپنی شاہانہ زندگی بچانے، صوبہ سے ان کا کیا، انہیں اپنی ہڈی مل رہی، اسی طرح ملک کے لئے لیے گئے قرضے کا ایک پیسہ یہاں کے عوام پر خرچ نہیں ہوا جبکہ قرض اتارنے کے بوجھ میں برابر کے شریک انہی سرداروں کی وجہ سے، قرض سے بنائے گئے موٹرویز کا لطف اور لیں اور آئے روز خونی سڑکوں پر شہادتوں کا ٹھیکہ یہاں کے لوگ لیں، اگر ہمارے سردار ان کے ہر ہاں میں ہاں نہ ملاتے تو یہاں ہر سہولت میسر ہوتی پھر بوجھ اتارنے میں مددگار ہوتے بھی تو دل نہ دکھتا، اب تو بس چوستے پہ چوستے جا رہے ہیں۔ تاریخ لکھی جاتی ہے شہید بگٹی کی کہ زندگی گزاری غار میں غربت کی، پر غریبوں کے مفادات پر سمجھوتہ نہ کیا، تاریخ یاد رکھتی ہے ظفر اللہ جمالی کو کہ ایک محسن پاکستان کی امریکہ حوالگی روکنے پر وزارت عظمی کو خیر باد کہہ دیا، لیکن ہاں میں ہاں نہیں ملایا، اب کس کی تاریخ لکھیں؟
ان دو چند مثالوں پر اکتفا اختصار کے لئے ہے ورنہ لکھنے کو ایسی سینکڑوں مثالیں ہیں کہ جن میں ان عناصر نے اپنے مفادات کے لئے غریب لوگوں کو قربان کر دیا ہو اور اسٹیبلیشمنٹ کے اہداف کو پورا کر کے اپنی عیاش زندگی کو مقدم رکھا ہو، کچھ احساس، کچھ انسانیت، کچھ شعور، ہمارے سرداروں، وڈیروں اور نوابوں میں یہ احساس آئے بھی تو وہ عوام الناس کی زندگی کو ٹھیک کرنے اپنی راہداریوں، کالے شیشوں، اور گن مین بھری لطف اندوز زندگیوں کو قربان نہیں کر سکتے، لت پڑنے پر یہ سب داؤ پر لگانا آسان نہیں، آخرت کو بھول جاتے ہیں عوام کو کیا یاد رکھیں، اس لئے ان مسائل کا حل رونا دھونا نہیں بلکہ ان سے امید لگائے بغیر عوام اپنی زندگی بنانے، اپنی ملالاؤں کے دوپٹوں کی حفاظت اور اپنے بچوں کو سکون والی زندگی فراہم کرنے پر توجہ دے کر ان بے حس، جانی و روحانی قاتلوں کی ہمکاری سے باز رہیں، اور اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کر کے ان عناصر کے ہر ہر منصوبے کو کچل کر ان کو اپنے ناپاک عزائم اور اس معزز قوم کی بیٹیوں کی بے حرمتی، نوجوانوں کی اغوا کاری اور اپنے جاگیردارانہ نظام کو دوام دینے جیسے ناپاک ارادوں میں چھپے رستموں کی ہمکاری میں ناکام بنائیں تاکہ اس صوبے کو خوشحال اور پر امن صوبہ بنایا جا سکے، یہی ہماری تباہی کے اصل اسباب اور بلوچستان دشمن عناصر ہیں جنہیں بے نقاب کرنے سے ہی تمام مسائل کا حل ممکن ہے۔ اللہ پاک بلوچستان کے دشمنوں کو نیست و نابود کردے اور اس کو خوشحال، پرامن اور پر سکون صوبہ بنائے اور اس کو تمام ڈاکووں، لٹیروں اور غریب دشمن عناصر سے نجات دلائے، آمین۔

