آئیے بکرے بنیں
ارے۔ رے۔ رے۔ بھیا بقر عید ہے ہر سو بکرے، گائے اور دنبے نظر آرہے ہیں۔ نظر آنا بھی خوب لفظ ہے۔ پیٹرولیم کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے بعد ہمیں جو نظر آتا ہے وہ نظر دھندلانے کو کافی ہے۔ اکثر اوقات تو کچھ ایسا نظر آتا ہے کہ بے ہوش ہونے کو دل کرتا ہے مگر اس ہوشربا مہنگائی میں اسپتال کا اضافی خرچ ہوش بحال رکھتا ہے۔ دن بھر قیمتوں کا موازنہ جیب ناتواں سے کرتے کرتے اب تو ذہن و دل بھی کہتے ہیں۔
کسی اور جا کو نکل اے دل
مگر جناب! بات پھر پیٹرولیم کی قیمتوں پر آ رکتی ہے۔ اور ساری عیش ہوا ہو جاتی ہے۔ اب تو بچت کے لفظ نے بھی ہاتھ جوڑ لیے ہیں کہ وہ لغت میں شامل ہو نے سے قاصر ہے۔ وجوہات ہم سے نہیں بچت سے پوچھیے۔ میرے پاس تو رہی نہیں اگر آپ کے پاس بچت ہو تو آپ کی بچت ممکن ہے۔
خیر ہم ذکر کر رہے تھے بقرعید کے بکروں کا۔ جناب والا! یہ صنف ہے جو اب خریدنے کے نہیں دیدار کے کام آتی ہے۔ قیمتی اس درجہ ہو چکی ہے کے سبزی منڈی کے باہر بندھے ایک بکرے کی قیمت یہ سوچ کے پوچھی کہ عید سے دو ماہ پہلے تو صحیح قیمت میں مل جائے گا۔ مگر جب ہم نے بکرے پر ہاتھ پھیرا تو وہ منمنا کے یوں آگے ہوا گویا ہماری اوقات پہلے سے جانتا ہو۔ اور پھر اس کے مالک نے جب قیمت بتائی تو لگا گویا بکرا کہ رہا ہو۔ ”کیسا لگا بکرا بن کر۔ کیمرے کو دیکھ کر ہاتھ ہلا دو۔“
بکرا بننے میں یوں بھی تو ہم سب اس قدر ماہر ہوچکے ہیں کہ ہمیں دیکھ کے بکروں کو کمبھ کے میلے میں بچھڑے بھائی بند کا خیال تو ضرور آتا ہو گا۔ کم از کم بکروں کی دادا گیری کے آگے اپنی بیچارگی دیکھ کے تو ہمیں یہی گمان گزرتا ہے۔
خیر بکرا بننے پر یاد آیا سیاسی ہما ہمی، گرما گرمی میں تبدیل ہو چکی ہے۔ کہنے کو بلدیاتی انتخابات کا زمانہ ہے مگر امیدوار ووٹ کے لیے ووٹر کو یوں رجھا رہے ہیں گویا وہ ووٹر نہیں بکرے ہوں۔ غالب گمان یہی ہے بکرا عید اور انتخابات کا زمانہ ساتھ آنے کی وجہ سے امیدواروں کو سمجھ نہیں آ رہا کہ بکرے مہنگے ہیں یا ووٹر۔ بکرا جسے گھر آنے کے بعد محلے میں بڑے لاڈ سے رونمائی واک کرائی جاتی ہے۔ جی بھر کے گھاس ڈالی جاتی ہے۔
خوبصورت زیورات سے سجایا جاتا ہے۔ گھر بھر کے شفقت بھرے ہاتھوں سے گزارہ جاتا ہے۔ صبح ابا حضور لاڈ کر کے ہدایات کی لمبی فہرست کے بعد آفس ایسے روانہ ہوتے ہیں گویا بکرے سے بچھڑنا گوارا نہ ہو۔ اماں حضور بچوں کو ناشتہ دینا فراموش کر جاتی ہیں مگر بکرے کے لاڈ اٹھانا گویا فرض اول ہو۔ اور بچے۔ کیا ہی کہنا۔ یوں تو محلے بھر کے تمام جانور ان کے ہوتے ہیں مگر جونہی اپنا بکرا گھر میں قدم دھرتا ہے۔ بچے اپنے گھر، پڑھائی اور سارے رشتے بھول بھول صرف بکرے کے نوکر ہو کے رہ جاتے ہیں۔
اب بکرے صاحب کا اترانا تو بنتا ہے۔ مگر بیچارا بکرا جیسے ہی ذرا اس ماحول کا ساتھی بنتا ہے۔ قربان کر دیا جاتا ہے۔ اب ذرا بکرے کی صورت حال کو ووٹر کے حال سے ملائیے۔ وعدوں کی گھاس کھائیے۔ امیدوں کے سنہرے زیور پہنیے۔ بحیثیت عوام خوب لاڈ اٹھوائیے کہ اس کے بعد اگلے پانچ سال تک امیدواروں کا چاند محلے کی چوپال میں نظر نہیں آنے والا۔ اور سارے مطالبے پورے ہونے کے وعدے سنیے ضرور مگر یاد رکھیے آخر میں کٹنا ووٹر میرا مطلب۔ بکرے کو ہی ہے۔ ووٹنگ میں تو بکرا ہو یا اس کی ماں یا خاندان کب تک خیر منائے گا۔ آپ خوشی خوشی اپنا ووٹ دے کر امیدوار پر قربان ہوجائیں گے اور آپ کو اپنے بکرے بننے کا پتہ بھی نہیں چلے گا۔
تو آئیے اس بقرعید اور انتخابی ہما ہمی میں بکرے بنیں۔ ”کیمرے کو دیکھ کے ہاتھ ہلا دیں۔“ کیسا لگا بکرا بن کے۔

