عمران ریاض خان کی گرفتاری کی ڈرامائی تشکیل


  

صحافی، ولاگر عمران خان کی گرفتاری مزید ڈرامائی انداز میں پیش کی جا رہی ہے۔ گزشتہ شب ان کی گرفتاری متعلق خبریں منظر عام پر آنے کے بعد ان کے بارے میں دلچسپی کا عنصر بڑھانے کی یہ ایک نئی کوشش ہے۔ وہ دیگر ولاگرز کی طرح نواز شریف پر تنقید کو ترقی کی سیڑھی بنا کر انصاف کا نعرہ لگانے والے پہلے یوٹیوبر صارف نہیں ہیں۔ جہاں تک میری آبزرویشن ہے مجھے یقین ہے کہ وہ مینجمنٹ سائنسز کے مضمون میں پڑھائی جانے والی میزلو کی بنیادی ضروریات کی متعلق پیش کردہ ہیرارکی کے مطابق نچلی سطح سے اوپر کی طرف بڑھتے ہوئے تھوڑے سے خود غرض ثابت ہوئے ہیں اور اب جب انھیں شہرت مل چکی ہے، یو ٹیوب چینل بھی بالواسطہ یا بلا واسطہ ان کا ذریعہ معاش بن چکا ہے لوگ انھیں اپنا لیڈر بھی ماننے کو تیار ہیں تو وہ کہیں نہ کہیں خود حقیقت پسندی جو اس ہیرارکی کی سب سے بلند سطح ہے اس پر پہنچ کر سوچنے پر مجبور ہیں کہ انہوں نے جو کیا، کیا وہ حقیقی معنوں میں صحیح تھا یا نہیں۔

ان شبہات میں پھنسے رہنے کی وجہ سے وہ جذبات پر قابو بھی کھو رہے ہیں اور خود کی لاچارگی کو بھی چھپا نہیں پا رہے ہیں۔ یہ یقینی طور پر جذباتی لحاظ سے ایک مشکل کیفیت ہے۔ کوئی بھی انسان اس مرحلے سے گزرتے ہوئے غیر متوقع طور پر خود کو بدلتے حالات اور تاثرات کے بھاؤ میں سپرد موج کر سکتا ہے۔ غصہ بھی جذباتی کمزوری کی علامت ہوتا ہے۔ غصے کی وجوہات میں اگر آپ قوم پرستی اور جذبہ حب الوطنی شامل کر دیں تو یقیناً تباہی ہی ہوتی ہے۔

حالات کو سدھارنے کے لیے آپ کو کہیں نہ کہیں مسائل کے آگے گھٹنے ٹیکنے پڑتے ہیں انہیں خندہ پیشانی سے قبول کرنا پڑتا ہے اور پھر ایک ایک کر کے ان کو حل کرنے کی کوشش کرنا پڑتا ہے۔ یہ ایک متوازن مزاج قائد کی خاصیت ہوا کرتی ہے۔ اگر آپ کو آسانی سے مشتعل کیا جا سکتا ہے تو آپ اشتعال انگیزیوں کے نشانے پر ہر وقت رہتے ہیں۔

اب دوسری اہم بات یہ ہے کہ انہوں نے اگر تنقید کو اپنا ہتھیار بنایا ہے اور صرف نواز شریف کو ہی تنقید کا نشانہ بنایا ہے تو یقیناً وہ اس بات کا احساس ہونے پر خود کو اس شخص کے مقابلے میں بہت چھوٹا محسوس کر رہے ہوں گے۔ کیوں کہ اس جذبہ حب الوطنی کا نیوکلیائی مرکز حق سچ اور انصاف ہے جو کہ اسلامی اقدار میں انتہائی اہم ہیں۔ اور جب آپ اسلامی اقدار کو فراموش کر دیں تو آپ کی نظریاتی اساس باقی نہیں رہتی۔ یہ تو وہی بات ہو گئی کہ  مذہب کے نام پر لیے گئے ملک میں آپ سیکولر نیشنلزم کو فروغ دیتے رہیں۔

اس مقصد کا حصول تب تک ممکن نہیں جب تک آپ یہ تسلیم نہ کر لیں کہ واقعی ہمارے قول و فعل میں تضاد ہے اور ہمیں اس میں مطابقت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ شاید پھر ہم اس نظریاتی منافقت سے چھٹکارا حاصل کر لیں گے۔ انتہائی رنج کی بات یہ ہے کے کربلا میں حضرت امام حسین کے سجدے کی لاج رکھتے ہوئے بھی ہم پانچ وقت کی نماز قائم نہیں کر سکے۔ دشمن برچھی بھالے لیے سر پر کھڑا ہے اور امام کہتے ہیں کہ مجھے پروردگار کے سامنے پیش ہونا ہے۔

یہ وقت نماز ہے۔ یہ خدائے بزرگ و برتر کی طرف میرا فرض ہے جو مجھے ہر صورت ادا کرنا ہے۔ میں اتنا بڑا خائن نہیں ہو سکتا۔ اس نے مجھے کیا کیا نہیں دیا۔ ایسی آنکھ دی جس کا مقابلہ دنیا کا کوئی کیمرہ نہیں کر سکتا۔ عقل و شعور دیا جس سے میں نے دنیا کی طاقت ور ترین ایجادات کو اپنا تابع کر لیا۔ اس کا جتنا بھی شکر کیا جائے کم پڑ جائے گا۔ اگر تو کوئی شعور بندگی ہے تو وہ یہ ہے۔

سیاسی تناظر میں دیکھا جائے تو عمران ریاض خان کا اپنا کوئی سیاسی نظریہ واضح طور پر سامنے نہیں آیا ہے۔ ہاں یہ ضرور سمجھ آتا ہے کہ وہ عمران خان کے حامی ہیں اس لیے نواز شریف اینڈ کمپنی پر تنقید کر کے اپنا پیشہ ورانہ قد اونچا کرنا چاہتے ہیں۔ باشعور عوام کو اپنے جارحانہ اور حد درجے تک جاہلانہ رویے پر منقسم ہوتا دیکھ کر وہ بضد ہیں کہ جو کیا ہے کیا ہے جو کرنا ہے کر لو۔ آخر کار مثبت ضد جسے ”پازیٹو سٹبرن نس“ کہتے ہیں وہ بھی بڑے لیڈر ہونے کی ترکیب کے لازم اجزاء میں سے ایک ہے۔

اب اپنے اسی مورچے پر ڈٹے رہتے ہوئے وہ اپنی بقیہ صحافت جاری رکھیں گے اور شاید تحریک انصاف کے جلسوں میں ڈائس بجا بجا کر اپنی ایمانداری کا ثبوت پیش کرتے بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسی طرح کی کریکٹر کرافٹنگ مبشر لقمان صاحب کی بھی کی گئی تھی 2018 کے الیکشن میں۔ اب وہ کارنر کیے جا چکے ہیں۔ آپ یقین کریں یا نہ کریں اس سے زیادہ فرق نہیں پڑتا مگر عمران خان کا اقتدار میں آنا بھی تو فرانسیسی انقلاب سے ملتا جلتا سیاسی ڈرامہ ہی ہے۔

ان دو بڑے سیاسی گروہوں کی لڑائی میں قومی تشخص اور قومی جذبات بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ ہم سب کو اپنی اپنی زندگی میں مثبت تبدیلی کے لیے کسی لیڈر کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ شعور کا حصول صرف فکری بنیادوں پر ہی ممکن ہوتا ہے۔ جب فکر ہو تو عملی نمونے کے لیے آنحضور صلی اللہ و علیہ و سلم سے بہتر کوئی شخصیت نہیں۔ ہمیں ثقافتی طور پر شدید سخت جد و جہد کرنا پڑے جو اب ممکن نظر نہیں آتی۔ اور اگر آپ نہ چاہیں تو آپ تسلیم کر سکتے ہیں کہ آپ کو ان باتوں میں کوئی دلچسپی نہیں ہے اور نہ ہی آپ محمد کے اصولوں اور تعلیمات پر عمل کر سکتے ہیں۔ آپ نام محمد یا احمد و علی اور کام چوری چکاری اور لاقانونیت پر ہی خوش ہیں۔ حالانکہ یہ دونوں متضاد افکار ہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments