سست آدمی نے پینٹنگ، کلاس روم، مجسمہ سازی اور دیوتا ایجاد کیے


سیریز کا لنک: سست آدمی کے انسانیت پر احسانات

سستو نے گیروا رنگ بنایا

تقریباً ایک لاکھ برس قبل سستو موجودہ جنوبی افریقہ کے ایک غار میں بیٹھا تھا۔ اس کے قبیلے کے باقی لوگ شکار کرنے اور کھانا اکٹھا کرنے گئے ہوئے تھے مگر سستو نے عین وقت پر اپنا پیٹ پکڑ لیا اور کہنے لگا کہ آج اس کے پیٹ میں درد ہے۔

باقی لوگ اسے چھوڑ کر چلے گئے۔ سستو نے غار میں پڑے پتھروں سے ایک دیوار میں ابھری چٹان پر نشانے لگانے شروع کیے۔ ایک پتھر چٹان پر لگا تو اس پر سرخ سے رنگ کا نشان پڑ گیا۔ سستو یہ دیکھ کر کچھ حیران ہوا۔ اس نے پتھر دوبارہ اٹھا کر غور سے دیکھا۔ اس کا کچھ حصہ سرخ رنگ کا تھا۔ سستو نے اسے فرش پر رگڑا تو وہاں بھی سرخ رنگ کی لکیریں ابھر آئیں۔ سستو یہ خون جیسا رنگ دیکھ کر بہت خوش ہوا۔ اس نے اس پتھر کو پیسنا شروع کر دیا۔ تھوڑی دیر میں وہاں لال سفوف کی چھوٹی سی ڈھیری لگ گئی۔ سستو کا جسم پسینے سے بھر گیا۔ سستو نے دیکھا کہ سفوف چپکنے سے اس کے ہاتھ بھی لال ہو گئے تھے۔ اس نے غار کی دیوار پر ہاتھ مارا تو وہاں اس کے ہاتھ کا لال لال نشان ابھر آیا۔ اس نے کئی ہاتھ بنا ڈالے۔ پسینہ خشک ہونے پر سفوف ہاتھ پر چپکنا بند ہوا تو اس نے دیوار پر ہاتھ رکھ کر اس پر سفوف پھینکا۔ اب ہاتھ کے نیچے چھپی دیوار تو سفید رہی مگر ارد گرد سرخ رنگ کا حاشیہ بن گیا۔

سستو کے گھر والے واپس آئے تو انہیں یہ نشان اچھے لگے۔ چستو نے چیخ کر کہا، ”سستو نے کوئی جانور شکار کیا ہے اور اسے اکیلے اکیلے کھا کر اس کے خون سے یہ سرخ نشان بنائے ہیں“ ۔ کہاں تو سستو ایک ہیرو بنا بیٹھا تھا اور اب کہاں وہ مجرم بن کر کٹہرے میں کھڑا ہو گیا۔ اس نے صفائی پیش کی کہ اس نے ایک پتھر سے یہ خون جیسا رنگ بنایا ہے۔

چستو نے دیدے گھمائے اور کہا ”اب پتھروں سے بھی خون نکلنے لگا ہے؟ کیا نام ہے اس رنگ کا؟“

”اس خاص پتھر کا نام ہے گیرو۔ یہ گیروا رنگ ہے۔“ سستو نے سستو نے وہ پتھر دکھایا جس سے سفوف بنا کر سرخ نشان بنا سکتے تھے۔ سستو کے خاندان نے پتھر تلاش کرنے شروع کیے۔ سستو کی کم بختی دیکھیں کہ اسے ماہر سمجھ کر پتھر تلاش کرنے بھیجا جاتا۔ اب معاملہ یہ ہوا کہ کئی پتھر ہلکے رنگ کے تھے، ان کا نشان ہی نہیں بنتا تھا۔ سستو جان چھڑانے کو ایسا پتھر لے آتا تو خاندان والے اس کی بہت بے عزتی کرتے اور پتھر کو ایک طرف پھینک دیتے اور سستو کو دوبارہ نیا پتھر لانے جانا پڑتا۔

ایک شام سستو آگ کے الاؤ کے پاس دلگرفتہ بیٹھا سوچ رہا تھا کہ وہ رنگ دریافت کر کے پھنس گیا ہے۔ وہ بے زاری سے مسترد شدہ پتھر آگ میں پھینکنے لگا۔ پھر تھک ہار کر وہیں سو گیا۔ صبح اس کی آنکھ کھلی تو الاؤ ٹھنڈا پڑ چکا تھا۔ اور جو ہلکے رنگ والے پتھر اس نے آگ میں پھینکے تھے اب وہ گہرے رنگ کے ہو چکے تھے۔ اس دن سستو نے وہی گیروے پتھر دے دیے۔ خاندان والوں نے اس کا سفوف بنایا تو انہیں فرق کا پتہ نہیں چلا۔ گیروے رنگ سے خاندان والے دیواروں پر ہاتھوں کے نشان بھی بناتے اور اپنے جسم پر مل کر آرائش بھی کرتے۔ اس سفوف میں مختلف گوند اور موم وغیرہ ملا کر اسے پائیدار بھی بنایا جاتا۔ گیروا رنگ بنانے کے لیے خصوصی اوزار بھی بنائے جانے لگے۔

سستو نے پینٹنگ ایجاد کی

پینتالیس ہزار برس قبل سستو انڈونیشیا کے جزیرے سلاویسی کے ایک غار میں پریشان بیٹھا تھا۔ قبیلے والوں نے اسے کہا تھا کہ شکار پر جاتے ہوئے تو تم سو بہانے بناتے ہو، اب کم سے کم تم یہ تو کر سکتے ہو کہ چھوٹے بچوں کو شکار کے بارے میں کچھ بتانا شروع کر دو کہ ہمارا قبیلہ کیسے شکار کرتا ہے۔ انہیں شکار سے کچھ دور ایک محفوظ فاصلے پر رکھتے ہوئے دکھاؤ کہ ہم کیسے شکار کرتے ہیں تاکہ جب وہ بڑے ہوں تو انہیں کچھ بنیادی باتوں کا پتہ ہو۔

اب سستو نہ تو ان ننھے شیطانوں کے ساتھ بول بول کر اپنا سر کھپانا چاہتا تھا، اور نہ ہی وہ قبیلے کی شکار پارٹی کے پیچھے پیچھے بچہ پارٹی لے جا کر اپنی جان ہلکان کرنا چاہتا تھا۔ قبیلے میں ایک سے بڑھ کر ایک شریر بچہ تھا۔ ایک کو بھینسے کی طرف جاتے ہوئے پکڑو تو دوسرا بھاگ کر کسی گینڈے کے سینگ سے لٹکا ہوتا۔

وہ پریشان بیٹھا ایک کوئلے کو فرش پر رگڑ رہا تھا کہ یکلخت اسے ایک خیال آیا۔ اس نے کوئلے سے فرش پر ایک بھینس بنائی اور اس میں گیرو سے رنگ بھرا۔ پھر اس نے ایک بچے سے پوچھا یہ کیا ہے؟ بچہ پہچان گیا کہ یہ بھینس ہے۔ سستو کا خوشی سے برا حال ہو گیا۔ اس نے ایک کوئلہ اور گیرو رنگ لیا اور غار کی دیوار پر بھینس، سور اور دوسرے جانوروں کی تصویریں بنائیں اور ساتھ اپنے قبیلے کے شکاری بنائے جو ان پر کمندوں اور نیزوں سے حملہ کر رہے تھے۔ چار دن بعد تصویریں مکمل ہوئیں تو دیوار پر شکار کا منظر موجود تھا۔ سستو نے بچوں کو بتایا شروع کیا کہ کیسے جانوروں کو رسوں اور نیزوں کے ذریعے شکار کیا جاتا ہے۔

قبیلے والے ایک ہفتے بعد واپس پلٹے۔ چستو نے مدر سستو کو شکایت لگائی کہ پورے ہفتے سستو ہماری شکار پارٹی کے قریب بھی نہیں پھٹکا۔ اس نے تو بچوں کو بھی اپنے جیسا خراب کر دیا ہے۔ سب یہاں غار میں پڑے اینڈتے اور کھانا کھاتے رہے ہیں۔

سستو نے یہ سنا تو کہنے لگا ”کسی بچے سے بھی پوچھ لو۔ وہ تمہیں بھینس، سور اور دوسرے جانوروں کو شکار کرنے کا پورا طریقہ بھی بتائے گا اور یہ بھی بتائے گا کہ شکار پارٹی کس طرح جانور گھیرتی ہے۔

مدر سستو نے بچوں سے پوچھنا شروع کیا تو سستو کا دعویٰ درست نکلا۔ تمام بچوں کو شکار کی پوری تھیوری کا علم تھا۔ یوں سستو نے نہ صرف انسانی تاریخ میں پہلی مرتبہ جانوروں اور انسانوں کی پینٹنگ بنانے کا ہنر تخلیق کیا اور اس نے پہلا شکار کا منظر بھی بنایا، بلکہ اس نے سلائیڈز دکھا کر کلاس روم میں پڑھانے کا طریقہ بھی متعارف کروایا۔

سستو نے مجسمہ سازی کا فن ایجاد کیا اور دیوتا بنایا

چالیس ہزار برس پہلے موجودہ جرمنی کے علاقے باڈن ورٹم برگ میں ایک سرد غار میں سستو بیٹھا تھا۔ اس غار کو اب ہولن سٹائن سٹاڈل کہتے ہیں۔ یہ برفانی دور تھا اور ہر طرف گلیشیئر پھیلے ہوئے تھے۔ اس علاقے میں بہت سے غار تھے جو گرم اور آرام دہ تھے لیکن ہولن سٹائن سٹاڈل کا رخ شمال کی طرف تھا اس لیے یہاں سورج کی کرنیں نہیں پہنچ پاتی تھیں۔ سستو کے قبیلے کے لوگ اور جنگلی جانور اس ٹھنڈے غار کا رخ نہ کرتے۔

جب سستو نے کام سے جان چھڑانی ہوتی تو اکثر یہاں آ کر چھپ جاتا۔ سستو کے سامنے قدیم برفانی ہاتھی میمتھ کا ایک چالیس انچ لمبا دانت اور پتھر کا چاقو رکھے ہوئے تھے۔ باہر برف زار میں یوں تو ہرن، رینڈئیر، گھوڑے وغیرہ کئی جانور تھے لیکن سب سے بڑا جانور میمتھ ہاتھی تھا اور سب سے زیادہ خطرناک شیر اور بھیڑیے۔ شیر بھی غاروں میں رہتے اور انہوں نے سستو کے قبیلے کو بہت نقصان پہنچایا تھا۔ انہیں صرف آگ کے ذریعے بھگایا جا سکتا تھا مگر وہ گھات لگا کر سستو کے قبیلے والوں کو مار ڈالتے۔

ایسے میں قبیلے والوں کو کسی ایسی چیز کی ضرورت تھی جو شیر سے انہیں بچا سکے۔ سستو نے بہت دماغ لڑایا اور اس نتیجے پر پہنچا کہ ایک مافوق الفطرت ہستی ہی قبیلے والوں کو بچا سکتی ہے جس میں شیر جیسی خونخواری، میمتھ جیسی طاقت اور انسان جیسی عقل ہو۔ اس نے میمتھ کا دانت لیا اور پتھر کے چاقو سے اسے کھرچنا شروع کیا۔ وقت گزرتا رہا۔ گھنٹوں کے دن بنے اور دنوں کے ہفتے۔ آخر چار سو گھنٹوں کی محنت کے بعد سستو کے ہاتھ میں ایک مافوق الفطرت ہستی موجود تھی جس کا خمیر میمتھ کے دانت سے اٹھا تھا، اس کا جسم انسانی تھا اور اس کا سر شیر جیسا۔

اگلے دن سستو اپنے قبیلے والوں کو اس غار میں لایا۔ جیسے ہی وہ مشعل پکڑے اس تاریک غار کے آخری سرے پر پہنچے تو ان کی نظر ایک فٹ اونچے شیر دیوتا پر پڑی۔ وہ ہیبت زدہ ہو کر زمین پر گر گئے۔ سستو نے دھیمی آواز میں شیر دیوتا کا بھجن گانا شروع کیا، اس کے آگے گوشت کے چند ٹکڑے رکھے اور قبیلے والوں کو بتایا کہ شیر دیوتا نے اسے اپنا خاص پجاری منتخب کر لیا ہے، اور اگر وہ سستو کے توسط سے شیر دیوتا کو بھینٹ دیتے رہیں گے تو وہ انہیں جنگلی جانوروں سے مقابلہ کرنے کی طاقت دے گا اور لڑائی کی صورت میں ان کی مدد کرے گا۔ لیکن اگر انہوں نے شیر دیوتا کی خدمت میں کوتاہی کی یا اپنی کسی حرکت سے اسے ناراض کیا تو انہیں نقصان اٹھانا پڑے گا۔

یوں قبیلے والے باقاعدگی سے گوشت اور اپنی قیمتی چیزیں شیر دیوتا کی بھینٹ چڑھانے لانے لگے۔ سستو پوجا کی رسم ادا کرتا، بھجن گاتا، اور بھینٹ لے کر شیر دیوتا کو دیتا۔ قبیلے والوں کے رخصت ہونے کے بعد وہ سکون سے بیٹھ کر لذیذ کھانا کھاتا جو حاصل کرنے کے لیے اب اسے محنت کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔

اس سیریز کے دیگر حصےسست آدمی نے زبان ایجاد کی

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1500 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments