غیر ازدواجی تعلقات اور ہمارا دہرا معیار


ہمارے معاشرے میں کئی جگہ ایسے دہرے معیارات قائم ہیں جو نسل بعد نسل منتقل ہوتے آ رہے ہیں، اور ان کو آج تک ختم کرنے یا ان کی اصلاح کرنے کی طرف کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔ انہی میں ایک غیر ازدواجی تعلقات ہیں، جن میں ہمارا مجموعی دہرا رویہ عمومی طور پر یہ رہا ہے کہ ہم مرد کی جانب سے چشم پوشی کر جاتے ہیں، مگر جونہی بات عورت کی طرف مڑتی ہے، تو اس پر بدچلنی اور بدکاری کا الزام لگا کر اس کی زندگی اجیرن کر دی جاتی ہے۔

مثلاً میرے ایک رفیق ایک دن نہایت فخریہ انداز میں اپنے تعلقات کی بابت جب بارہ مسالے لگا کر کہانیاں سنا رہے تھے، تو راقم نے استفسار کیا کہ کیا آپ کے والد کو آپ کے ان اعمال کی خبر ہے؟ تو متبسم انداز میں توثیق فرمائی۔ اس پہ راقم نے مزید کریدا کہ اس فعل پر آپ کے والد کے کیا تاثرات تھے؟ تو جواب عنایت ہوا کہ والد صاحب نے احتیاط کی تلقین فرمائی اور بس۔ بات کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے، راقم نے ان سے عرض کیا کہ فرض کریں اگر اس جگہ آپ کی ہمشیرہ محترمہ ہوتیں، جن کی بابت صرف یہی الزام ہوتا تو کیا تب بھی آپ کے والد ان سے ایسے ہی عفو و درگزر فرماتے؟

ہرگز نہیں۔ تو کیا اپنی مرضی سے جینے کا حق صرف مرد ہی کو حاصل ہے۔ دوسرا واقعہ ملاحظہ فرمائیے، ایک نئے نویلے شادی شدہ پاکستانی بھائی بسلسلہ روزگار ایک خلیجی ملک میں وارد ہوئے، اور پھر تین برس کے بعد وہاں سے واپس گئے۔ رات کو خلوت میں قرآن مجید اٹھا لائے، اور اہلیہ سے اس کی پاکدامنی کی شہادت قرآن پہ ہاتھ رکھ کر طلب کی۔ جس پہ موصوفہ نے ان کو سچ بتا دیا اور معافی کی طلبگار ہوئیں۔ مگر ”غیرت و حمیت“ کے خمیر سے گندھے ہوئے شخص نے معافی دینے سے انکار فرما دیا۔

بعد ازاں آدھی رات کو تمام اہل خانہ کے سامنے ان سے اقرار کروایا اور قتل کرنے کا حکم بھی صادر فرما دیا۔ تاہم اس موقع پر موصوف ہی کے والد نے اس حق پرست قاضی سے کہا، کہ بیوی کو قتل کرنے سے پہلے اسی قرآن پہ تم بھی شہادت دو ، کہ ان تین برس میں تم نے غیر ازدواجی تعلقات سے اغماز برتا ہو۔ اور اسی لمحے ”غیرت و حمیت“ کے اس جبل عظیم نے خود بھی اپنے گناہ کا اعتراف کیا اور یوں موصوفہ کی جان بخشی ہو گئی۔

یہ اور ان جیسے بے شمار دوسرے واقعات ہمارے منافقانہ طرز عمل کی نقاب کشائی کرتے ہوئے اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں، کہ ہم نے کیسے کیسے معیارات قائم کر رکھے ہیں، جن میں مرد کے لئے شرعی، غیر شرعی، اخلاقی، غیر اخلاقی سب اعمال کے لئے گنجائش اور تاویل نکل آتی ہے، یا نکال لی جاتی ہے۔ لیکن عورت ہونے کی صورت میں وہ تمام سہولیات سلب کرلی جاتی ہیں۔ حتی کہ محض شک یا الزام کی بنیاد پر بیٹا، اپنی ماں تک کے خون کو مباح کر لیتا ہے اور اس فعل پر کوئی شرمندگی یا تاسف محسوس نہیں کرتا۔

اور دوسری طرف ہم جانتے بھی ہیں کہ نفس کے تقاضے اور حوائج بشری زن و مرد دونوں میں مساوی ہیں۔ اگر مرد محبت اور توجہ کا طلبگار ہے، تو عورت کے اندر بھی یہ داعیہ موجود ہے۔ تاہم اگر بطور بیٹی، بہن یا بیوی وہ اس محبت، شفقت اور توجہ سے محروم ہے، تو اس محرومی کی تلافی کیسے ہو۔ جہاں آج بھی بیٹی کے گھر سے پانی نہ پینا فخر کی علامت اور بیوی کے ساتھ اکٹھے کھانا نہ کھانا مردانگی کی علامت ہو، تو اس گھرانے کی لڑکی محبت اور اپنائیت کو پانے کے لئے کہاں جائے۔

یہی وہ بنیادی وجہ ہے جو ایک عورت کو گھر سے باہر نکلنے اور سرکشی پر مجبور کرتی ہے۔ ایک عورت جب تنہا لڑتے لڑتے تھک جاتی ہے، تب کوئی بھی غیر مرد جو کیسے بھی کردار کا مالک ہو، وہ اس عورت کو اپنی طرف مائل کرنے میں با آسانی کامیاب ہوجاتا ہے۔ ہمارے یہاں مگر المیہ یہ ہے کہ ہم اپنی عورت کو کسی غیر مرد کے ساتھ برداشت بھی نہیں کرتے، اور خود اس کا جائز حق بھی اسے نہیں دیتے۔ جبکہ ہمارا مرد اپنے واسطے کسی قسم کی حدود و قیود اور ضابطے کو خاطر میں لائے بغیر سبھی کچھ کرنا اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں۔

اور جب بھی کوئی ایسی حرکات کا مرتکب شخص منظر عام پر آ جائے، تو اس کے گھر والے یہ کہتے ہوئے اس کا دفاع کرتے ہیں کہ بھائی! کیا ہوا مرد تھا، مرد جوانی میں ایسے کام کیا ہی کرتے ہیں۔ اے کاش! کہ پھر ہمارا یہی رویہ اور الفاظ عورت کے لئے بھی ہوتے۔ مگر ایسا نہیں ہے۔ بلکہ ہماری وہ خواتین جو پیٹ کے جہنم کو بھرنے اور معیشت کے پہیے کو رواں رکھنے کے لئے کہیں باہر نکلتی ہیں، تو وہ باہر کے مرد کی ہوس اور گھر کے مرد کے شک جیسے دہرے عذاب میں مبتلا رہتی ہے۔

وہ گھر کے باہر اگر غیر محفوظ ہے تو گھر میں مشکوک۔ اور ایسی صورت میں اس کے کردار پہ محض الزام ہی اس کی زندگی تباہ کرنے کے لئے کافی ہوتا ہے، ایک ایسا الزام جس سے وہ تمام عمر چھٹکارا نہیں پا سکتی۔ حتی کہ بعض دفعہ مرد اس کو محض الزام کی بناء پر بیٹی، بہن یا زوجیت جیسے رشتے سے محروم کر دیتا ہے۔ مگر دوسری طرف ایک مرد جس پہ جرم ثابت تک ہو چکا ہوتا ہے، وہ اس قسم کی عبرت ناک سزا سے محفوظ رہتا ہے۔ وہ سب کچھ کرنے کے باوجود بھی ”پاکدامن“ رہتا ہے، نہ اس کا کردار مشکوک ہوتا ہے نہ اس کی زندگی کوئی اجیرن کرتا ہے۔ یہ رویہ دراصل ہمارے دوغلے پن، بے حسی، غیر سنجیدگی اور پدرسری معاشرے کی عکاسی کرتا ہے، جہاں ہم نے ایک ہی فعل کے دہرے معیارات قائم رکھ کر اپنی نصف آبادی کا جینا محال کر رکھا ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments