کامریڈ سولزینٹسن گرفتار ہوئے۔ پھر نوبل انعام حاصل کیا


جیل جانا۔ اور دوسری جنگ عظیم کے دوران سوویت یونین میں قید ہونا۔ اور وہ بھی پورے آٹھ سال کے لئے۔ یہ کسی بھی عام شخص کے لئے زندگی کا بھیانک اختتام ہی ہو سکتا تھا۔ لیکن گرفتار ہونے والے نے اس کو ایک نئی اور نہایت با مقصد زندگی کا آغاز بنا لیا۔ یہ گرفتار ہونے والے الیگزینڈر سولزینٹسن[Solzhenitsyn] تھے۔

دوسری جنگ عظیم شروع ہوئی تو انہوں نے سوویت آرمی میں شریک ہو کر محاذ جنگ کا رخ کیا اور دوران جنگ کارکردگی کی بنا پر دو تمغے بھی حاصل کیے ۔ جنگ کے دوران وہ اپنے ایک دوست سے خط و کتابت بھی کرتے تھے۔ یہ دوست بھی ایک اور محاذ جنگ میں خدمات سرانجام دے رہا تھا۔ ان خطوط میں انہوں نے جنگ کے دوران سٹالن کی پالیسیوں پر تنقید کی تھی۔ گو کہ ان خطوط میں سٹالن کا نام نہیں لیا گیا تھا۔ صرف ”باس“ یا ”گھر کے سربراہ“ کا لکھ کر تنقید کی گئی تھی کہ باس صحیح طرح جنگ نہیں لڑ رہا۔ خفیہ پولیس نے یہ خط پڑھ لئے اور ظاہر ہے سمجھ بھی گئے کہ باس سے مراد سٹالن کی ذات گرامی ہے۔ چنانچہ سولزینٹسن کو گرفتار کر کے جبری مزدوری کی کیمپ میں بھجوا دیا گیا۔

سولزینٹسن نے اس قید کے دوران زندگی کا ایک نیا روپ دیکھا اور بعد میں ان تجربات پر مشتمل متعدد کتابیں لکھیں جن میں مشہور ناول آئیوان ڈنسووچ کی زندگی کا ایک دن [ One Day in the Life of Ivan Denisovich]اور مشہور کتاب گولاگ آرکیپلاگو [Gulag Archipelago] بھی شامل ہیں۔ آخر الذکر کتاب میں سوویت یونین کے قیدی کیمپوں کے حالات اور ملک کے پولیس سٹیٹ بننے کا تفصیلی ذکر کیا گیا ہے ۔ اس کتاب پر انہیں نوبل انعام بھی ملا۔ اس پاداش میں سوویت یونین میں ان کی شہریت منسوخ کر کے انہیں ملک بدر کر دیا گیا۔ باہر نکل کر بھی وہ مسلسل پرورش لوح و قلم کرتے رہے۔ یہ ہتھکنڈے سوویت یونین کو تحلیل ہونے سے نہ بچا سکے۔ آخر کار سولزینٹسن روس واپس لوٹے اور وہیں پر 2008 میں ان کا انتقال ہوا۔

اس کالم میں دوسری جنگ عظیم کے دوران ان کے گرفتاری کا احوال درج کیا جائے گا۔ یہ واقعات انہوں نے اپنی شہرہ آفاق کتاب گولاگ آرکیپلاگو میں تحریر کیے گئے ہیں۔ ان کا خلاصہ پیش خدمت ہے :

”برگیڈ کمانڈر نے مجھے اپنے ہیڈ کوارٹر میں طلب کیا اور مجھ سے میرا پستول طلب کیا۔ میں نے بغیر کسی شبہ کے یہ پستول اس کے حوالے کر دیا۔ فوری طور پر دو افسروں نے مجھے دبوچ لیا۔ ان کے چار ہاتھوں نے میرے کندھے پر آویزاں نشان، میری ٹوپی کا ستارہ، میری کمر کی پیٹی اور میرا نقشوں کا ڈبہ اتار لیا اور ڈرامائی انداز میں چلائے :

”تمہیں گرفتار کیا جاتا ہے“

میں صرف یہی کہہ سکا ”مجھے؟ مگر کیوں“ ۔ اس سوال کا جواب نہیں دیا جاتا تھا لیکن حیران کن طور پر مجھے مل گیا۔ جب یہ چاروں مجھے نوچنے کے بعد باہر لے کر جا رہے تھے اور جرمن توپوں کی گھن گرج سے کھڑکیاں لرز رہی تھیں کہ اپنی بائیں طرف سے مجھے برگیڈ کمانڈر کی آواز سنائی دی:

” سولزینٹسن واپس آؤ“

میں ایک جھٹکے کے ساتھ واپس مڑا۔ برگیڈیر کمانڈر کا چہرہ مجھے ہمیشہ حکم، کمان اور طیش کی علامت کے طور پر نظر آتا تھا لیکن آج یہ چہرہ گہری سوچ کے ساتھ روشن تھا۔ شاید اس غلاظت میں اپنی شرکت کی شرمندگی کی وجہ سے۔ یا شاید اس لئے کہ وہ اس وقت تمام عمر کی قابل رحم ماتحتی سے بالا ہو کر کچھ کہہ رہے تھے۔ انہوں نے کہا

”کیا تمہارا یوکرین کے پہلے محاذ جنگ پر کوئی دوست ہے؟“
محکمہ جاسوسی کے کیپٹن اور میجر ان پر چلائے
”اس کی ممانعت ہے۔ تمہیں اس کا کوئی حق حاصل نہیں۔“

کمرے کے کونے میں بیٹھے ہوئے فوجی افسر سہم کر اس طرح ایک دوسرے کے قریب ہوئے جیسے وہ بھی برگیڈ کمانڈر کی اس حرکت میں ملوث ہوجائیں گے۔ لیکن مجھے اپنے سوال کا جواب مل گیا تھا۔ برگیڈ کمانڈر یہاں پر رک بھی سکتے تھے لیکن نہیں۔ وہ اس معاملہ سے علیحدہ ہونا چاہتے تھے۔ وہ اپنے ڈیسک سے اٹھے اور میرے ہاتھوں میں اپنا ہاتھ دے کر اسے دبایا۔ فوجی افسروں کا ٹولہ اس پر دہشت زدہ ہو کر مکمل خاموش تھا۔ انہوں نے کہا

” کیپٹن میری خواہش ہے کہ آپ زندگی میں ہمیشہ خوش رہیں۔“

نہ صرف یہ کہ اب میں کیپٹن نہیں تھا بلکہ اب یہ بھانڈا بھی پھوٹ چکا تھا کہ میں عوام کا دشمن ہوں۔ اور وہ میرے بارے میں نیک تمناؤں کا اظہار کر رہے تھے۔ میدان جنگ میں جرمن توپوں کی آواز اب بھی سنائی دے رہی تھی۔ جب مجھے لے جایا جا رہا تھا تو مجھے گرفتار کرنے والوں کو یہ بھی سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ مجھے کہاں لے کر جانا ہے کیونکہ انہیں نقشہ پڑھنا ہی نہیں آتا تھا۔ چنانچہ نقشہ مجھے تھما دیا گیا کہ میں خود ہی ڈرائیور کو بتا دوں کہ ہیڈ کوارٹر میں محکمہ جاسوسی کے دفتر کس راستے سے جانا ہے؟

جہاں مجھے قید کیا گیا وہ کمرہ کسی جرمن کاشتکار کے گھر کا ایک کمرہ تھا۔ اس کی لمبائی ایک آدمی کے قد جتنی تھی۔ اور چوڑائی اتنی تھی کہ تین آدمی لیٹ سکیں یا پھر سکڑ کر چار اشخاص اس میں سما سکتے تھے۔ اور میں چوتھا آدمی تھا۔ پہلے سے موجود تین اشخاص نے لالٹین کی روشنی میں خمار آلود آنکھوں سے مجھے دیکھا اور سرک کر میرے لئے جگہ بنائی۔ پہلے تو میں آدھا فرش پر اور آدھا ان کے اوپر لیٹا ہوا تھا لیکن پھر میں نے اپنے وزن کے زور پر اپنی جگہ خود بنا لی۔

صبح سب کراہتے ہوئے اور جمائیاں لیتے ہوئے اٹھے اور مختلف کونوں میں جا بیٹھے۔ یہ تینوں افسر تھے۔ ان کی قمیصوں پر مخصوص جگہوں پر اڑے ہوئے رنگ ظاہر کرتے تھے کہ انہیں بھی تمغے مل چکے تھے۔ ان کے جسم پر پرانے زخموں کے نشان نظر آ رہے تھے۔ بد قسمتی سے پرسوں ان کے ٹینک مرمت کے لئے اس گاؤں پہنچے جہاں پر محکمہ جاسوسی کا ہیڈکوارٹر تھا۔ ان افسران کو شراب پی کر نشہ چڑھ گیا۔ اور وہ زبردستی ایک غسل خانے میں جا گھسے۔ جس میں پہلے سے دو خواتین موجود تھیں۔ یہ نیم برہنہ خواتین ان کی کانپتی ہوئی ٹانگوں سے تو فرار ہونے میں کامیاب ہو گئیں لیکن ان میں سے ایک محکمہ جاسوسی کے سربراہ کی داشتہ تھی۔

تین ہفتہ قبل سے یعنی جب سے ہم جرمنی کی حدود میں داخل ہوئے تھے، سب کو اچھی طرح معلوم تھا کہ جرمن عورتوں کو ریپ کر کے گولی مار نے کی اجازت ہے۔ اور اگر کوئی پولش یا روسی عورت ہو جو اجڑ کر جرمن علاقہ میں آ گئی ہو تو اسے صرف برہنہ کر کے اس کا تعاقب کرنے اور اس کی پشت پر طمانچے مارکر محظوظ ہونے کی اجازت تھی۔ لیکن یہ عورت تو محکمہ جاسوسی کے سربراہ کی داشتہ تھی، اس لیے ان افسروں کے کندھوں پر آویزاں نشان اور ان کے تمغے نوچ کر انہیں یہاں قید کر دیا گیا تھا اور اب یہ جنگجو افسران اپنے کورٹ مارشل کا انتظار کر رہے تھے۔

صبح ہوتے ہی منتظمین کو یہ خیال پیدا ہوا کہ اب تک خود بخود ہمارے کمرے میں مزید جگہ بن گئی ہو گئی۔ چنانچہ ایک اور شخص کو ہمارے کمرے میں پھینک دیا گیا۔ ہم نے پوچھا تم کون ہو؟ جواب ملا کہ میں جاسوس ہوں۔ اس نے اپنی کہانی سنانی شروع کی کہ مجھے جرمنی والوں نے جاسوس بنا کر محاذ کے اس طرف بھیجا تھا۔ میں نے خود ہی سوویت یونین کے ہیڈ کوارٹر میں اپنے آپ کو گرفتاری کے لئے پیش کر دیا۔ لیکن ڈیوٹی پر موجود بٹالین کمانڈر کافی دیر سے سو نہیں سکا تھا۔ اسے میری کہانی پر یقین نہیں آیا اور اس نے مجھے ایک نرس کے حوالے کر دیا کہ اسے کوئی دوائی کھلاؤ۔ ابھی اس کا قصہ یہیں تک پہنچا تھا کہ ایک آواز سنائی دی۔ ”چلو چلو نکلو۔ قضائے حاجت کا وقت ہو گیا ہے“ ۔ ایک درجن بندوق بردار ہمیں زمین کے ایسے ٹکڑے کی طرف لے گئے جس پر ہر طرف انسانی فضلہ بکھرا ہوا تھا۔ اور کچھ فوجی میری طرف بندوق تانے مجھے جلد فارغ ہونے کی تلقین کر رہے تھے۔ یہ تھا میرا قید کی زہریلی فضا کا پہلا تجربہ۔

Facebook Comments HS