کیا بابا اشفاق احمد اور ممتاز مفتی روحانیت کے نام پر کہانیاں گھڑا کرتے تھے؟


روحانیت کیا ہے؟ صوفی کسے کہتے ہیں؟ واردات قلبی کس چڑیا کا نام ہے؟ کشف و کرامات کی حقیقت کیا ہے؟ کیا بابے کوئی ماورائی مخلوق ہوتے ہیں؟ کیا روحانیت کے پراسرار قسم کے پیکج کو جسے ماورائے عقل یا پہیلی نما اصطلاحات کے ذریعے سے پیش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اسے عقلی، تجرباتی یا مشاہداتی بنیادوں پر پرکھا جا سکتا ہے؟ یہ وہ بنیادی سوال ہیں جو روحانیت یا تصوف پر کھڑے ہوتے ہیں اور جو کوئی بھی روحانیت یا تصوف کے نام پر معاشرتی سطح پر ”بابا“ ڈکلیئر ہو جاتا ہے تو وہ عوام سے کٹ جاتا ہے اور ایک بالکل ہی الگ تھلگ مخصوص اونچی نشست پر براجمان ہوجاتا ہے یعنی ایک طرح سے سپر نیچرل یا منبع روحانیت بن جاتا ہے۔

حیرانی کی بات یہ ہے کہ اس منفرد قسم کے مرتبہ روحانیت کی گواہی وہی مخصوص قبیلہ عاشقاں دے رہا ہوتا ہے جو اس روحانی بابا کے گرد تعظیمی حلقہ بنا کر بیٹھتے ہیں یا دست بوسی کر کے روحانی فیض پا رہے ہوتے ہیں اور وہ خود بھی اس حقیقت سے بے خبر ہوتے ہیں کہ ہمارے جیسا عام سا بندہ ”خاص“ کیسے بن گیا اور آ خر اس کو ایسا کیا مل گیا کہ لوگ اس کے سامنے اپنی جمع پونجی تک بھی لٹا نے سے گریز نہیں کرتے؟ کیا اس مرتبہ روحانیت کا عقلی بنیادوں پر جائزہ لے کر چند سطور میں خلاصہ پیش کیا جاسکتا ہے جسے باآسانی عقل سلیم تسلیم کر لے؟

یہ کوئی اتنا آسان سا معاملہ نہیں ہے اور اگر وسیع تر تناظر میں اور عقلی پیمانوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے غور کرنے کی کوشش کی جائے تو تصوف یا روحانیت کی اصطلاح پر بھی درجنوں سوالات کھڑے ہوتے ہیں جو فلسفہ محض آئیڈیلزم یا ان دیکھی حقیقت تک محدود ہو وہ بھلا دنیا جیسی آنکھوں دیکھی حقیقت سے کن بنیادوں پر ہم آہنگ ہو سکتا ہے؟ ظاہر ہے اس قسم کے سسٹم آ ف تھاٹ کے متعلق عقلی بنیادوں پر ہی اس حقیقت کا تعین کرنا پڑے گا کہ عملی سطح پر اس کی افادیت کیا ہے۔ روحانیت کے متعلق اتنی زیادہ تمہید کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ موجودہ وقت میں طبقہ اشرافیہ یا یوں کہہ لیں کہ ممی ڈیڈی طبقہ کے روحانی پیشوا احمد رفیق اختر کی گفتگو سنی ہے، جس میں وہ اشفاق احمد اور ممتاز مفتی کا نام لے کر کچھ انکشافات فرما رہے تھے۔ ان کا فرمانا تھا کہ

”انہیں صوفی لفظ سے چڑ سی ہے، اشفاق احمد جیسے لوگ ساری زندگی جھوٹ بولتے نکل گئے۔ ممتاز مفتی تو بے چارہ میرے سامنے اس بات کا اقرار کر گیا کہ وہ جھوٹ لکھتا رہا، ایلی پور کا ایلی نامی کتاب میں ایک مجذوب اور ایک بابا کے جھوٹے واقعات لکھنے کی میری نشاندہی کرنے پر اشفاق احمد سے گلہ کیا کہ میں نے لوگوں کو روحانیت کی طرف مائل کرنے کے لیے دو واقعات گھڑے تھے مگر استاد نے پکڑ لیا۔ جب آپ لوگوں کو راغب کرنے کے لیے جھوٹ بیانی سے کام لیں گے تو جب ان پر حقیقت واضح ہو گی کہ یہ سب تو کہانیاں ہیں تو پر وہ اصل تصوف پر بھی سوال کھڑے کریں گے ”

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ بے چارے صرف دو ہیں یا ان بے چاروں کی فہرست طویل ہے؟ اشفاق احمد یا ممتاز مفتی تو دیگ کے چند دانے ہیں جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ احمد رفیق اختر صاحب بصد احترام آپ جو کر رہے ہیں وہ سب کیا ہے؟ اگر آپ کا یہ موقف ہے کہ جو گزر گئے وہ روحانیت کے نام پر کہانیاں گھڑا کرتے تھے اور آج جو آپ بیان فرما رہے ہیں وہ حقیقت کے زیادہ قریب ہے تو اس حقیقت کو طے کرنے یا متعین کرنے کا آپ کے پاس پیمانہ کیا ہے؟

آپ بھی گزشتہ دنوں جی سی یونیورسٹی میں دنیا کے خاتمے کی روحانی پیش گوئی کرتے ہوئے تاریخ تک بتا رہے تھے تو آپ کے اس انکشاف کو کس خانے میں رکھا جائے؟ جب کوئی متشکک یا عقلی بنیادوں پر انسانی علوم یا معاملات زندگی کی کھوج میں سرگرداں طالب علم آپ کے فلسفہ روحانیت و علم کو کریدنے کی کوشش کرتے ہوئے سوالات اٹھانے کی سعی کرتا ہے تو آپ اسے کشف و کرامات یا واردات قلبی جیسی مخصوص اصطلاحات میں الجھا کر رام کرنے کی کوشش کرنے لگتے ہیں۔

جب لوجیکل اور عام فہم گفتگو کے بالمقابل وجدان، واردات قلبی یا کشف کرامات جیسی اصطلاحات جن کا تعلق صرف ایک انسان کے ذاتی وجود و ذہن سے منسلک ہوتا ہے اسے عقلی پیمانوں سے کیسے ہم آہنگ کیا جاسکتا ہے؟ جن حقائق کا تعلق صرف ایک روحانی بابے کی ذات سے جڑا ہو ان حقائق کو اجتماعی یا عوام کی سطح تک لانے کا کیا پیمانہ ہو گا یہ سب سے بڑا سوال ہے؟ کسی کے قلب پر کیا منکشف ہوتا ہے یا خواب میں کوئی کیا دیکھتا ہے ان سب کیفیات کو بہرحال پرکھنا یا جانچنا تو عقلی بنیادوں پر ہی پڑے گا۔

ظاہر ہے اگر وہ کیفیات عقلی پیمانوں پر پوری نہیں اترتی تو ان کی حقیقت سراب یا محض وہم اور دھوکہ سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔ معذرت کے ساتھ ہمارا روحانی ادب عاشقانہ آوارگی، ماورائے عقل قسم کی قصہ خوانیاں اور فنا فی الشیخ جیسے عوامل سے بھرا پڑا ہے اور آج کے ماڈرن بابے بھی اسی باقیات کی نوک پلک سنوار کر پیش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ روحانیت کے نام پر مختلف روحانی بابے چاہے ان کا تعلق ماضی سے ہو یا موجودہ زمانے کے کلین شیون بابوں سے، اپنے اپنے گروہی پلیٹ فارم سے کتابوں کی صورت میں یا تلقین بابا بن کر مانو لاگ کے ذریعے سے جو کچھ معاشرے کو منتقل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اسے دنیا کی ننگی حقیقتوں کے ساتھ کیسے ہم آہنگ کیا جاسکتا ہے؟

جو کچھ آپ روحانیت کے نام پر لوگوں کو منتقل یا سمجھانے کی تگ و دو کرتے ہیں ان کی افادیت معاشرتی سطح پر رومانوی قسم کی آئیڈیل ازم، ذہنی عیاشی، وقتی سکون یا سراب یا کچھ دیر تک کے لیے حقائق سے نظریں چرانے کے علاوہ کیا ہو سکتی ہے؟ سابق یا موجودہ بابوں کی روحانی موشگافیوں کی اس سے زیادہ کیا اہمیت ہو سکتی کہ لوگ وقتی طور پر بہل جاتے ہیں یا سرور و مستی کے سراب میں کھو جاتے ہیں جس کا ریٹرن ان بابوں کو فالونگ یا مریدین کے عوض وصول ہو جاتا ہے۔

ضیاءالحق کے دور میں تو باقاعدہ اسلامی سائنس تک متعارف کروا دی گئی تھی اور جنات کے ذریعہ سے بجلی و توانائی کشید کرنے کے منصوبے بنائے جا رہے تھے اور پوری دنیا میں ہماری جگ ہنسائی ہو رہی تھی مگر ہم عجیب طرح کے ملنگ لوگ ہیں سائنسدان انسان کو ایور گرین رکھنے اور موت تک کا راز ڈھونڈنے میں دن رات سرگرداں ہیں اور ہم ان روحانی بابوں کی موشگافیوں پر حیران ہو کر واہ واہ اور دست بوسیوں جیسے چکروں میں پڑے ہوئے ہیں۔

ہم یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیں یا سمجھنا ہی نہیں چاہتے کہ ایک عام سے انسان کو کچھ ماورائی طاقت و حیثیت کا مالک تسلیم کرتے ہوئے خاص درجے پر فائز کرنے کا جو چلن رواج پا چکا ہے وہ عام انسانوں کے استحصال کا سبب بنتا ہے۔ احمد رفیق اختر کی نرسری سے فارغ التحصیل سابق وزیراعظم کی روحانی بصیرت القادر روحانی یونیورسٹی کے قیام کی صورت میں ملا حظہ فرما سکتے ہیں، اگر آپ کی نرسری کا یہی فیضان نظر و ثمر ہے تو پھر کیا کہا جا سکتا ہے؟

دنیا کے جدید تقاضوں کے سامنے ہماری روحانی یونیورسٹی کی کیا حیثیت ہوگی یہ تو نوشتہ دیوار ہے بتانے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ باقی رہی سہی کسر اوریا مقبول جان جیسے اپنے روحانی خوابوں کا ٹی وی اسکرین پر تذکرہ کر کے پوری کر رہے ہیں، مگر یاد رکھیں ہمیں آج روحانی گینگ کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ایسے صاحب بصیرت لوگوں کی ضرورت ہے جو زمین پر بستے ہوں اور زمینی حالات سے نپٹنے کے لیے پریکٹیکل حل بتائیں نا کہ ہمیں ماورائیت سے بھرپور پہیلیوں میں دھکیل کر اپنے بھڑولے بھرتے رہیں۔

Facebook Comments HS