کہانی بس ہوسٹس کی


لاہور سے جامپور روانگی کے لئے اڈے پہنچا تو حسب معمول عید کے رش کی وجہ سے پردیسیوں کا رش لگا ہوا تھا۔ توقع کے مطابق میرے روٹ کی بس بھی تاخیر کا ہی شکار تھی۔ بہرحال پسینے میں شرابور انتظار کی کوفت تب ختم ہوئی جب بس کو ٹریک پر لگتے دیکھا۔

اب چونکہ یہ بس معمول سے 45 منٹ تاخیر کا شکار تھی تو بس ٹریک پر لگتے ہی مسافروں کی بڑی تعداد داخلی دروازے پر آن وارد ہوئی۔ باہر کے حبس کو دیکھتے ہوئے ڈرائیور نے خود ہی خواتین کی ٹکٹس لے کر بٹھانا شروع کر دیا۔ بس ہوسٹس جو اس رش کے چھٹنے جے انتظار میں تھیں کو پیچھے سے آ کر سٹاف کے کسی فرد (سپروائزر ٹائپ) نے آ کر جھڑکا۔ اب رش میں موجود سب لوگوں نے یہ منظر دیکھا۔

بہرحال اس تذلیل پر ایک لفظ بھی بولے بغیر بس ہوسٹس نے ڈرائیور کو ڈرائیونگ سیٹ سنبھالنے کا بولا اور مسافروں سے ٹکٹس (بس میں سوار ہونے کا روایتی پراسس) لینے لگ گئیں۔ میں چونکہ کر ماہ ہی سفر کرتا ہوں تو ایسے ڈھیر سارے واقعات پیش آتے ہیں جن میں نہ صرف انتظامیہ، گارڈ، ڈرائیور یا مسافروں کی جانب سے تنگ کرنے، تذلیل کرنے یا پھر زچ کرنا وغیرہ شامل ہوتا ہے۔ مگر اس دفعہ جو تذلیل آمیز، غیر انسانی اور غیر اخلاقی منظر میں نے دیکھا اس سے بہت رنج ہوا۔

ہوا یوں کہ اس دفعہ بس ہوسٹس کے تین یا چار نمبر سیٹ جو ہمیشہ سے ہی مختص ہوتی دیکھی ہے پر مسافر خواتین موجود تھیں۔ جبکہ بس ہوسٹس کو بس کے داخلی دروازے (پائیدان ) کے پاس فولڈنگ سیٹ پر جگہ ملی۔ یہاں یہ یاد رہے کہ انتہائی مختصر سی اس فولڈنگ سیٹ پر کسی زمانے میں بس میں موجود گارڈز تھک کر بیٹھ جاتا تھا۔

فیصل موورز کی اس بس میں جس کا لاہور سے جامپور کا کرایہ 17 سو فی سیٹ ہے میں یہ منظر دیکھ کر جہاں اس کی انتظامیہ پر شدید غصہ آیا وہاں اس غیر انسانی سلوک کو برداشت کرتی اس ہوسٹس کی بے بسی پر بھی رونا آیا۔ پتہ نہیں وہ کیا حالات ہیں کہ جس کی وجہ سے وہ خاتون نہ صرف گھر سے باہر نکل کر رزق حلال کمانے کے لئے لگی ہیں، بلکہ بھیڑیوں سے بھرے اس معاشرے کو جھیل رہی ہیں۔

یہاں یہ بتاتا چلوں کہ یہ تحریر لکھتے ہوئے میں نے صحافتی اقدار کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصل موورز کے بس میں دیے گئے شکایتی نمبرز پر رابطہ کرنے کی کوشش کی اور وٹس ایپ پر سوالنامہ بھی چھوڑا مگر تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ میرا تو یہ سوال ہے کہ کیا فیصل موورز کی انتظامیہ یا پھر ان کے مالکان اپنی بہن بیٹیوں کو بھی کیا ایسی کنڈیشنز میں 8 گھنٹے سے زائد کے سفر میں رکھ سکتے ہیں؟

کیا ایک سیٹ جو اس سٹاف ممبر کے لئے مختص ہوتی تھی جس سے سترہ سو یا پھر زیادہ سے زیادہ دو ہزار کی رقم مل جاتی ہوگی سے آپ لوگوں کا منافع بڑھ گیا؟ یا اگر ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کا بہانہ ہی آپ کا دیکھا جائے تو کیا سترہ سو یا دو ہزار میں آپ کا ڈیزل کا خرچ پورا ہوجاتا ہے؟ او عقل سے نابلد انسانو اپنے ورکرز کے خون کو چوس کر کیے جانے والے کاروبار کیا زیادہ دیر قائم رہ سکتے ہیں؟ کیا کوئی انسانیت کوئی خوف خدا باقی ہے؟ یا پھر وہ بھی دولت کی ہوس میں ختم ہو گئی ہے؟

اس بس سروس کا بار بار نام لینے کی وجہ ان کے اس مکروہ چہرے کو بے نقاب کرنا ہے۔ ایک بس ہوسٹس بے چاری مردوں سے بھری بس کی دونوں طرف موجود نشستوں کے بیچ موجود تنگ سی جگہ میں سے گزر کر پانی، کولڈ ڈرنکس پیش کر رہی ہوتی ہے۔ ایسے میں اس بے بس خاتون کو کسی کی کہنی کسی ٹانگ کسی کا ہاتھ بھی گزرتے ہوئے اپنے جسم سے مس ہونے کو بھی برداشت کرنا ہوتا ہے۔

کیونکہ یا تو کوئی تربیت سے عاری افراد جان بوجھ کر یہ حرکتیں کرتے ہیں باقی رہ جانے والے خالہ جی کا وڑا سمجھ کر سیٹوں پر پھیل کر ہاتھ یا ٹانگیں نکال کر سو جاتے ہیں۔ یہاں بھی وجوہات میں سیٹوں کا درمیانی فاصلہ کم ہونا بھی ہے اور وہ بھی ان بس مالکان کی جانب سے زیادہ پیسوں کے لئے کم کپسیٹی والی بس میں زیادہ نشستیں نصب کرنا ہوتا ہے۔

یقین مانیے بس ہوسٹس کے طور پر کام کرنے والی ان خواتین میں سے اکثر اپنے خاندان کی واحد کفیل، شوہر کی جانب سے چھوڑ جانے پر اپنا سہارا آپ بننے والی اور اعلی تعلیم یافتہ بھی ہوتی ہیں۔

میری کولیگ سمیرا اشرف نے ایک واقعہ سنایا تھا کہ جب وہ لاہور سے اسلام آباد سفر کر رہی تھیں تو ان کے ساتھ موجود بس ہوسٹس نے انہیں بتایا کہ وہ ایم اے انگلش ہیں اور بہن بھائیوں کی واحد کفیل ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ اپنے حالات، ڈیوٹی اور تنخواہوں کی ادائیگی کے حوالے سے بتاتے ہوئے وہ بس ہوسٹس آبدیدہ ہو گئیں۔

پچھلے مہینے میں نے ایک اور بس سروس میں سفر کیا، جن کی بس تو کسی کام کی نہیں تھی مگر بس ہوسٹس با اخلاق اور سلجھی ہوئی تھیں جنہوں نے راستے میں ایک مسافر کی طبعیت ناساز ہونے پر نہ صرف اپنے بیگ میں سے ذاتی تولیہ نکال کر دیا بلکہ اپنی چادر بھی اس مسافر کو اوڑھنے لئے پیش کردی۔

اس تحریر کے اختتام میں اپنے قارئین مرد حضرات سے دستہ بستہ گزارش کروں گا کہ خدارا کسی اور کی ماں بہن کو تاڑتے، تنگ کرتے، ٹچ کرتے ہوئے یہ سوچ لیجیے گا کہ آپ کی بھی مائیں بہنیں بیٹیاں بھی ہیں۔ جن کو حوادث زمانہ نے ایسے موڑ پر لاکھڑا کیا تو آپ پر کیا بیتے گی؟ بس کمپنیوں سے بھی گزارش کے کہ بے حسی کو چھوڑ کر کوئی انسانی اقدار کو ملحوظ خاطر رکھیں۔

وہ قارئین کرام جو فیصل موورز بس سروس کا استعمال کرتے ہیں یا کرچکے ہیں ان کے ہیلپ لائن یا شکایت کے لئے دیے گئے نمبروں پر اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیں۔

Facebook Comments HS