سود کا خاتمہ ناگزیر

قوانین شریعت عین فطرت ہیں اور فطرت سے روگردانی اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ شریعت نے جس چیز کو مباح اور جائز قرار دیا اس میں ضرور بہ ضرور کسی نہ کسی درجے میں انسان کی منفعت پنہاں ہوتی ہے اور جس چیز کو ناجائز اور حرام قرار دیا اس میں ضرور کوئی مضرت مخفی ہوتی ہے۔
وطن عزیز کی بدحالی میں جہاں اور بہت سے امور کار فرماں ہیں وہاں سب سے بڑا اور بنیادی سبب اصول شریعت سے روگردانی ہے۔ وطن عزیز میں جہاں اور بہت سے اصول شرعیہ کو پاؤں تلے روندا گیا وہیں خداوند ذوالجلال کے ایک ایسے حکم کی پامالی بھی بھی بڑی دیدہ دلیری اور دریدہ دہنی کے ساتھ کی گئی جس کی وجہ سے وطن عزیز ہر گزرتے دن کے ساتھ تاریکیوں کے گھٹا ٹوپ سمندر میں ڈوبتا چلا گیا اور اب حالت یہ ہے کہ کشتی بیچ گرداب پھنس چکی ہے، ملاح تو بہت ہیں لیکن ایک سے بڑھ کر ایک نا اہل۔ خدا کرے کہ کوئی ایسا ملاح ملے جو کشتی پاکستان کو اس بے رحم گرداب سے نکال کر کنارے پہ لگا دے۔
وطن عزیز پر مسلط ہونے والے حکمرانوں نے وقتی فائدے کی خاطر ملک کو سود جیسی لعنت میں مبتلا کیا جس کے بارے میں سرکار دوعالمﷺ نے فرمایا ”سود میں ستر گناہ ہیں سب سے ہلکا گناہ یہ ہے کہ جیسے مرد اپنی ماں سے زنا کرے (سنن ابن ماجہ باب التغلیظ فی ربا)
بخاری اور مسلم کی روایات میں ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا سات ہلاک کرنے والے گناہوں سے بچو۔ صحابہؓ کے اسرار پر حضورﷺ نے جو سات گناہ گنوائے ان میں سے ایک سود بھی تھا۔ ایک اور روایت میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے مروی ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا ”جب کسی بستی میں زنا اور سود پھیل جائے اللہ اس بستی والوں کو ہلاک کرنے کی اجازت دے دیتا ہے“ (کتاب الکبائر للذھبی)
یوں ہی قرآن کریم میں ایمان والوں کو مخاطب کر کے کہا گیا ”آئے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور جو سود باقی رہ گیا ہے وہ چھوڑ دو اگر تم سچ مچ ایمان والے ہو اور اگر تم ایسا نہیں کرتے تو اللہ اور اس کے رسولﷺ کے ساتھ لڑنے کے لیے تیار ہو جاوٴ“ (البقرہ 278۔ 279)
الغرض قرآن کریم اور احادیث مبارکہ میں سود کی حرمت اور اس لعنت سے کنارہ کشی نہ کرنے والوں کے لیے نہایت شدید وعیدات آئی ہیں۔ کیا یہی کافی نہیں کہ سود سے نہ بچنے والوں کو اللہ نے اپنے آپ سے لڑائی کے لیے تیار ہونے کا امر فرمایا۔ اب کون عقل مند انسان ہے کہ جو اللہ سے لڑائی مول لے۔ اور اظہر من الشمس ہے کہ جو شخص تمام جہانوں کے بادشاہ اور سب کے پالنہار خدائے برتر سے لڑائی مول لے اس کی پستی، ذلت، ناکامی اور نامرادی قطعی اور یقینی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ آج ہم من حیث القوم سود جیسی لعنت میں مبتلا ہونے کی وجہ سے پستی اور ذلت کا شکار ہیں۔ سود انسان میں مفت خوری، شقاوت قلبی، حرص، طمع اور لالچ جیسی بیماریوں کو پروان چڑھاتا ہے۔ سود سے امیر، امیر تر اور غریب، غریب تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ کیونکہ عمومی طور پہ غریب اور مجبور آدمی کو ہی قرض کی ضرورت پیش آتی ہے۔ جب غریب آدمی اپنی ضرورت پورا کرنے کے لیے قرض لیتا ہے تو ظالم سرمایہ دار واپسی پر زیادتی کی شرط لگا لیتے ہیں۔ جس سے ایک جانب غریب آدمی کا محنت سے کمایا ہوا مال بغیر کسی فائدے کے سرمایہ دار کی جیب میں جاتا ہے تو دوسری جانب ظالم سرمایہ دار کے مال میں مفت اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔
اگر غریب وقت پہ قرض ادا نہ کرسکے تو قرض کا بوجھ رفتہ رفتہ بڑھتا چلا جاتا ہے، جب غریب قرض کے بوجھ تلے دب جاتا ہے اور زندگی مشکل سے مشکل ترین بن جاتی ہے تو پھر حالات سے مجبور ہو کر خود کشی کر لیتا ہے اور یا چوری و ڈاکا زنی پہ اتر آتا ہے۔ جس کا نقصان پورے معاشرے کو یکساں ہوتا ہے اور انسانی زندگی غیر محفوظ ہوجاتی ہے۔
سود معاشی عدم مساوات کی بنیاد ہے جس کے نتیجے میں معاشرے سے محبت و الفت کا خاتمہ ہوتا ہے اور نفرت و دشمنی پروان چڑھتی ہے۔
قصہ مختصر یہ کہ سود ایک لعنت ہے جس میں ملوث ہر شخص ملعون ہے اور پروردگار کی رحمت سے دور ہے۔ ایک مہلک بیماری ہے جو کائنات کو تباہی کے دہانے پہ لا کھڑا کرتی ہے۔ ایک خطرناک آندھی اور طوفان ہے جو انسانی اقدار کو تہس نہس کر کے رکھ دیتی ہے۔ ایک وبا ہے جو معاشرے کو تباہ و برباد کر دیتی ہے۔
لیکن افسوس کہ ان تمام دنیاوی و اخروی نقصانات کے باوجود 78 برس گزر گئے لیکن اسلام کے نام پہ حاصل کیے گئے وطن عزیز پاکستان سے سودی نظام معیشت کا خاتمہ نہ ہوسکا۔ تقاریر میں ہر فورم پر سودی نظام معیشت کے خاتمے کی بات ہوئی لیکن عملی طور پہ کچھ نہ ہوسکا۔ یکم جولائی 1948 کو سٹیٹ بینک کی افتتاحی تقریب میں قائد اعظم نے سرمایہ دارانہ اور اشتراکی نظام معیشت کی خامیوں کو بیان کرنے کے بعد سٹیٹ بینک کو یہ کام سونپا کہ اسلامی اصولوں پر مبنی نظام معیشت تشکیل دے۔
یوں 1973 کے متفقہ آئین میں یہ بات صاف درج کی گئی کہ ملک سے جلد از جلد سود کا خاتمہ کیا جائے۔ 16 نومبر 1991 کو وفاقی شرعی عدالت نے ملک کے 22 سودی قوانین کے بارے میں مشہور فیصلہ سنایا۔ 23 دسمبر 1999 کو سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ برقرار رکھا۔ یہ بحث وقفے وقفے سے چلتی رہی یہاں تک کہ 7 اکتوبر 2015 کو سپریم کورٹ نے اس معاملے میں جاری بحث کو خارج کر دیا۔ اور اب ایک بار پھر سود کے خلاف درخواستوں پر 28 اپریل 2022 کو سود کے خلاف فیصلہ سناتے ہوئے وفاقی شرعی عدالت نے حکومت کو سود سے پاک نظام معیشت نافذ کرنے کا حکم دیا۔
اور حکومت کو پانچ سال کا وقت دیتے ہوئے کہا کہ 31 دسمبر 2027 سود سے مکمل پاک نظام ملک میں نافذ کیا جائے۔ لیکن ستم یہ کہ ابھی قریب ہی میں 25 جون کو سٹیٹ بینک نے چند بینکوں کے ساتھ مل کر اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ سٹیٹ بینک جو ریاست کا اپنا بینک ہوتا ہے وہ اس فیصلے کو چیلنج کر رہا ہے گویا کہ ریاست خود اس ناسور کا خاتمہ نہیں چاہتی۔ کیونکہ ریاست کی جڑوں میں بیٹھے لوگ، جن کے ہاتھوں میں ملک کی زمام قیادت ہے وہ خود اس فیصلے سے نالاں ہیں۔ کیونکہ ان کو ملکی معیشت اور غریب عوام کی فکر تو نہیں لیکن ان کی اپنی ذاتی معیشت کو نقصان ہے۔
بہرحال اس سب کے باوجود ہر محب وطن پاکستانی کا یہ فرض ہے کہ وہ خود ذاتی طور پہ سود جیسی لعنت سے بچے اور سود کے خلاف وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے نفاذ کے لیے اپنے تئیں ہر ممکن آواز اٹھانے کی کوشش کرے۔ کیونکہ یہ جدوجہد ہمارے مستقبل کی جدوجہد ہے۔

