جو بائیڈن کا دورہ مشرق وسطی، ایرانی اثر و رسوخ کو روکنے کی کوششیں


بائیڈن
امریکہ کے صدر جو بائیڈن اقتدار سنبھالنے کے بعد مشرق وسطی کے اپنے پہلے دورے پر بدھ کے روز تل ابیب پہنچے ہیں جہاں سے وہ تین روزہ دورے کے لیے براہ راست سعودی عرب کے شہر جدہ کا سفر کریں گے۔

سعودی عرب اور خلیجی ممالک کو تیل کی پیداوار بڑھانے پر آمادہ کرنے، سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تعلقات استوار کروانے اور خلیجی ممالک اور اسرائیل کے درمیان مجوزہ مشترکہ دفاع تعاون کو آگے بڑھانے جیسے اہم امور امریکی صدر کے ایجنڈے پر موجود ہیں۔

جو بائیڈن اسرائیل کے دورے پر دو دن بیت المقدس (یروشلم) میں قیام کریں گے جہاں وہ اسرائیلی حکام کے علاوہ غرب اردن میں فلسطینی اتھارٹی کے رہنما محمود عباس سے بھی جمعہ کے روز ملاقات کریں گے۔

جو بائیڈن جو اسرائیل سے براہ راست سعودی عرب سفر کرنے والے پہلے امریکی صدر ہوں گے وہ سعودی عرب پہنچنے پر خیلجی ممالک کے ایک خصوصی اجلاس میں شرکت کریں گے جس میں عراق، مصر اورسوڈان کو خصوصی طور پر مدعو کیا گیا ہے۔

سعودی عرب اور اسرائیل خطے کے دو اہم ممالک اور امریکہ کے دو اہم اتحادی ملک جن کے باہمی تعلقات مسئلہ فلسطین کی وجہ سے کشیدہ رہے ہیں، اس دورے سے ان کے تعلقات میں بہتری لانے کی توقع کی جا رہی ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ جو بائیڈن کے مشرق وسطی کے پہلے دورے کے دوران اسرائیل اور سعودی عرب کے تعلقات بہتر کرنے کے مزید اقدامات سامنے آ سکتے ہیں۔

روئٹرز نے اسرائیلی حکام کے حوالے سے کہا ہے کہ سعودی عرب سے بہتر تعلقات کا سفر بتدریح طے کیا جا رہا ہے اور امریکی صدر کا اسرائیل سے براہ راست سفر کر کے سعودی عرب جانا اس کی ایک بہت بڑی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر کا براہ راست اسرائیل سے سعودی عرب پرواز کرنا ان کاوشوں کی نشاندہی کرتا ہے جو اس سمت میں کئی ماہ سے جاری و ساری تھیں۔

روئٹرز کا مزید کہنا تھا کہ صدر بائیڈن کے دورے کا مقصد خطے میں استحکام کو فروغ دینا، اسرائیل کو خطے سے منسلک کرنا، ایران کے اثر و رسوخ کو روکنا اور چین اور روس کی جارحیت کے آگے بند باندھنا شامل ہے۔

برطانوی ایجنسی نے اپنی خبر میں مزید کہا ہے کہ مسئلہ فلسطین کے حل کرنے کے لیے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تعطل کا شکار مذاکرات کو شروع کرنا صدر کے ایجنڈے کا حصہ نہیں ہے۔ تاہم امریکی صدر کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سولیوان کا کہنا تھا کہ صدر بائیڈن مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کی اپنی حمایت کا اعادہ کریں گے۔ لیکن وائٹ ہاوس کے ترجمان جان کربی نے جیک سولیوان کے بیان کی تردید کی ہے۔

روئٹرز نے اطلاع دی ہے کہ جیک سولیوان نے امریکہ صدر کے طیارے ایئرفورس ون پر پرواز کے دوران اخبار نویسوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ چاہتا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کا قونصلیٹ مشرقی بیت المقدس میں قائم کیا جائے جس پر اسرائیل نے 1967 کی جنگ میں قبضہ کر لیا تھا۔

فلسطین

اس پر فلسطینی اتھارٹی کے ایک رہنما کا کہنا تھا کہ یہ ایک بے معنی سی بات ہے۔

سعودی عرب کے دورے پر دباؤ

امریکہ میں افراظ زر اور خاص طور پر تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے صدر بائیڈن کو اندرونی طور پر شدید عوامی دباؤ کا سامنا ہے اور ان کی مقبولیت میں امریکہ میں نصف مدتی انتخابات سے پہلے کمی واقع ہو رہی ہے۔ اس پس منظر میں یہ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو کم کروانے کے لیے سعودی عرب اور اس کے خلیجی اتحادیوں سے تیل کی پیداوار بڑھانے پر قائل کرنے کی کوشش کریں گے۔

جیک سولیوان نے کہا کہ روس سے برآمدہ ہونے والے تیل کی قیمیوں کو ایک حد تک رکھنے کے لیے امریکہ اپنے یورپی اتحادیوں سے مشاورت کر رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ روس اور ایران کے درمیان بڑھتے ہوئے مراسم کو ایک بڑے خطرے کے طور دیکھا جانا چاہیے۔

سعودی عرب کے دورے پر جو بائیڈن کی سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات خاص توجہ کا مرکز رہے گی کیونکہ امریکی خفیہ ادارے محمد بن سلمان کو جمالی خشقجی کے قتل کا ذمہ دار قرار دے چکے ہیں۔

جو بائیڈن کے محمد بن سلمان سے ملاقات کرنے کو اس لیے بھی اہمیت دی جا رہی ہے کہ بائیڈن نے جمال خشقجی کے قتل کے بعد سعودی عرب کو اچھوت ریاست قرار دیا تھا۔

فلسطینیوں سے رابطہ

جو بائیڈن کی فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس سے ملاقات امریکی اور فلسطینی حکام کی صدر ٹرمپ کی طرف سے سنہ 2017 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد فلسطینیوں کے بارے سخت گیر موقف اختیار کرنے کے بعد پہلی بلمشافہ ملاقات ہو گی۔

اسرائیل اور فلسطینی شہریوں کے درمیان فلسطینی نژاد امریکی صحافی شیرین ابو عقالہ کے اسرائیل فوج کی گولی لگنے سے ہلاکت کے بعد سے شدید کشیدہ ہیں۔

شیرین کے خاندان والوں کی طرف سے امریکہ پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ اسرائیل کے جرائم کو نظر انداز کر رہا ہے۔ شیرین کے خاندان والوں کو امریکی سلامتی کے مشیر کی طرف سے صدر بائیڈن کے دورے کے دوران ان سے ملاقات کی دعوت دی گئی ہے۔

فلسطینی حکام کا امریکہ سے مطالبہ ہے کہ وہ فلسطینی تنظیم فتح کا نام دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے نکالے۔

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp