عمران ریاض خان کی گرفتاری و رہائی


عمران خان کے ہاتھ اقتدار چھینا جانے پر ان کا رونا دھونا تو بنتا ہے لیکن ان کی سوچ کے حامی ”اینکر پرسنز“ صحافی نما سیاسی کارکنوں آسمان سر پر اٹھا نے کا کوئی جواز نہیں بنتا ان کا ”شور شرابا“ کچھ اس شدت سے ہو رہا ہے۔ گویا قیامت برپا ہو گئی ہے جب ان کی آہ و زاری نے دھمکیوں کی شکل اختیار کر لی تو سویا ہوا قانون بھی حرکت میں آ گیا کل تک جن قوتوں کی گود میں پل بڑھ کر جواں ہونے والوں کو اپنے آقاؤں کو آنکھیں دکھائیں تو پھر ان کی طبیعت درست کرنے کا اہتمام کرنے پر ”آزادی صحافت“ حملہ شور برپا ہونا فطری امر ہے۔

صحافتی تنظیموں کی طرف سے مذمتی بیانات کے اجراء سے متاثرہ صحافی کی اشک شوئی کی جاتی ہے۔ کسی کی ٹھکائی کی حد تک کارروائی کافی سمجھی جاتی ہے اور کسی کو عدالتوں کے چکر لگوا کر باور کرا دیا جاتا ہے کہ وہ اپنی اوقات سے باہر نہ نکلیں بصورت دیگر قانون نافذ کرنے والوں کے ہاتھ خاصے لمبے ہوتے ہیں۔ اپنے آقاؤں سے الجھنے کے سنگین نتائج بھی نکل سکتے ہیں۔ فی الحال گستاخانہ انداز تخاطب پر پدرانہ شفقت کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔

معمولی نوعیت کی ڈانٹ ڈپٹ اور سخت تنبیہ کر کے ”گیلا تیتر“ چھوڑ دیا گیا ہے البتہ ”گیلا تیتر“ کی گرفتاری عمل میں لانا ضروری سمجھا گیا اسے دو تین عدالتوں اور تھانوں کے چکر لگانے کے بعد لاہور ہائی کورٹ سے رہائی مل گئی اور اسے عید الاضحی گھر منانے کا موقع مل گیا عام تاثر ہے کہ اس دوران گیلا تیتر کا ”سافٹ وئیر اپ ڈیٹ“ کر دیا گیا ہے۔ یہی وجہ جب اسے رہائی ملی تو وہ ”پاکستان زندہ باد“ کے نعرے لگاتا ہو اپنے گھر کو روانہ ہوا ”نامعلوم افراد“ کے خلاف نعرے لگانے والے ایک انصافی کا منہ بند کرا دیا

میرا خیال ہے کہ یہ آزادی صحافت کی لڑائی ہے اور نہ ہی کوئی انقلاب کا ایشو ہے۔ یہ آپس کی لڑائی ہے جب ایک دستر خان کے خوشہ چیں اس میں چھید کرنے لگے تو ان کی طبیعت درست کی گئی اور انہیں ان کی حدود کا احساس دلایا گیا۔ ریڈ لائن عبور کرنے کی سزا جرم کی نوعیت پر ہوتی ہے۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے۔ جہاں قومی سلامتی سے کھلواڑ کرنے والوں کو پہلے سخت تنبیہ کی جاتی ہے پھر ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جاتا ہے جو ان کے جرم کی نوعیت کا متقاضی ہو جب کہ معمولی نوعیت کے جرائم پر تو ڈانٹ ڈپٹ اور مخنثوں سے تھپڑ رسید کروا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ بعض اوقات راہ راست پر نہ آنے والوں کو سنگین نتائج بھگتنے پڑتے ہیں۔

وادی صحافت میں نصف صدی گزر گئی ہے۔ جنرل یحییٰ کے مارشل لا ء میں وادی صحافت میں قدم رکھا تھا۔ کئی مارشل لا بھگتائے نام نہاد جمہوری حکومتیں بھی دیکھیں۔ سنسر شپ کی پابندیاں برداشت کیں ہر حکومت نے ڈیکلریشن کی منسوخی کا ہتھیار بے رحمی سے استعمال کیا ایوب خان ہو یا ضیا الحق، پرویز مشرف کا پرویزی مارشل لاء، بے نظیر بھٹو یا نواز شریف کی جمہوری حکومت ہو ہر دور میں آزادی صحافت کو سلب کے لئے پریس اینڈ پبلی کیشن کے قانون کا بے رحمانہ استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

ایک دور میں پریس انفارمیشن افسر محکمہ اطلاعات کا طاقت ور افسر ہوتا تھا جس کے فون کو پریس ایڈوائس کا درجہ حاصل ہوتا تھا چونکہ اس کے پاس اشتہارات کا ہتھیار ہوتا ہے۔ وہ جب چاہے کسی اخبار یا میڈیا ہاؤس کے اشتہارات بند کر سکتا ہے لیکن کچھ عرصہ سے غیر علانیہ طور یہ اختیار ان قوتوں کے پاس چلا گیا ہے جو ملک میں صحافت کو کنٹرول کرتی ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں اپوزیشن کی تحریک کے دوران نہ صرف بڑی تعداد میں اخبارات اور جرائد کے ڈیکلریشن منسوخ کیے گئے بلکہ اشتہارات کی بندش کا حربہ استعمال کیا گیا اگر بات بڑھ جاتی تو اخبارات و جرائد کے مدیران کو جیل بھجوا دیا جاتا حمید نظامی، میر خلیل الرحمن اور مجید نظامی، صلاح الدین، الطاف حسن قریشی اور مجیب الرحمنٰ شامی اور میر شکیل الرحمنٰ مختلف ادوار میں وقت کے جبر کا نشانہ بنے ہیں۔

میر شکیل الرحمنٰ جبر کے تازہ ترین شکار ہیں۔ کئی ماہ تک ان کو جیل میں رکھا گیا انہوں نے ناکردہ گناہوں کی سزا بھگتی۔ دور حاضر میں صورت حال یکسر تبدیل ہو گئی ہے۔ پرنٹ میڈیا قدرے پیچھے چلا گیا ہے۔ اس کی جگہ الیکٹرانک میڈیا نے لے لی ہے پھر سوشل میڈیا تو ایسا ہتھیار ہے جسے بندر کے ہاتھ میں استرا آنے کا کہا جائے تو بہتر ہے۔ کسی معقول تربیت کے بغیر نوجوانوں کے ہاتھ میں آ جانے سے روایات کی جو تباہی ہوئی ہے۔

اس کا ازالہ ممکن نظر نہیں آتا غیر تربیت یافتہ صحافیوں کی ایک فوج ظفر موج تیار ہو گئی ہے جس نے ہر طرف تباہی مچا رکھی ہے۔ اخلاقیات کا تو جنازہ ہی نکال دیا گیا ہے۔ ایسے یو ٹیوبرز کی جب کبھی ٹھکائی ہوجاتی ہے تو آزادی صحافت پر حملہ شور مچ جاتا ہے۔ کم و بیش چار سال کے دوران ریاستی سطح پر نہ صرف بے لگام سوشل میڈیا کی حوصلہ افزائی کی گئی بلکہ اسے سیاسی مخالفین کی کر دار کشی کے لئے استعمال کیا گیا بے لگام سوشل میڈیا نے بار بار ریڈ لائن عبور کر کے نہ صرف اپنے لئے مسائل پیدا کیے بلکہ ان ریاستی اداروں کو بھی للکارنے کی جسارت سے گریز نہیں کیا جن کی گود میں وہ پل کر جواں ہوا ہے۔ میں تو ان اداروں کو بھی اس بات کا ذمہ دار ٹھہراتا ہوں جنہوں نے انہیں نہ صرف یہ راہ دکھائی بلکہ ان کے اتنے حوصلے بڑھ گئے کہ ان کو پالنے پوسنے والوں کو غرانے لگے۔

میری ذاتی رائے ہے کہ ہمیں اس ”گند“ سے اپنے آپ کو الگ رکھنا چاہیے کیونکہ اس نوعیت کے واقعات تو روزمرہ کا کھیل ہے۔ کچھ لوگ ہیرو بننے کے شوق میں پٹائی کرانا ثواب کا کام سمجھتے ہیں اور وہ اس ثواب کے حصول کے لئے اس طرح کا گناہ کا ارتکاب کرتے رہتے ہیں۔ یہ ان کے گھر کا معاملہ ہے۔ اداروں نے ان کی حرکات و سکنات کا کوئی زیادہ نوٹس نہیں لیا تو ان کے حوصلے بھی بڑھ گئے جب ریڈ لائن کراس کی جاتی ہے تو پھر راہ راست پر رکھنے کے لئے ڈنڈا استعمال کرنا پڑتا ہے۔

عمران ریاض نے نواز شریف، آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمن کو گالیاں دے کر اتنی شہرت حاصل نہیں کی جتنی اپنے آقاؤں کو چیلنج کرنے سے ”تھانہ یاترا“ سے ہوئی ہے۔ ان کی وجہ شہرت ”گیلا تیتر“ کی بھی ہے۔ انہیں کالا تیتر شکار کرنے کا شوق بھی ہے جب کسی کی گڈی چڑھی ہو تو پھر لوگ شکار کرانے کے لئے بھی تیار کھڑے ہوتے ہیں جب کوئی بڑا آدمی شکار کرنے جائے تو اس کے شکار کی تعداد بڑھانے کے لئے پالے پوسے تیتر اڑا کر شکار کر لئے جاتے ہیں۔

اس طرح صاحب بہادر کو بھاری مقدار میں تیتر شکار کرنے کی ڈینگیں مارنے کا موقع مل جاتا ہے۔ پاکستان میں نایاب نسل کے کالے تیتر کا شکار کرنا غیر قانونی ہے جب کہ عام تیتر کا محدود سطح پر شکار کرنے کے لئے سرکاری اجازت لینا ضروری ہے۔ 2020 ء کا واقعہ ہے۔ چکوال میں عمران ریاض کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں انہوں نے اپنی گاڑی پر تین سو سے زائد تیتروں کا شکار کر کے سجا یا ہوا تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ وہ بہت بڑا شکاری ہے لیکن جب ان کو نایاب تیتروں کا شکار کرنے پر پرندوں سے محبت کرنے والوں نے آڑے ہاتھوں لیا اور وائلڈ لائف کی قانونی غیرت جاگی اور اس کے خلاف قانونی کارروائی شروع کی تو پھر طاقت ور قوتیں اس کے تحفظ کے لئے میدان میں آ گئیں اسے جیل جانے سے بچا لیا

یہ وہی چکوال ہے۔ جہاں وہ شکار کھیلنے آیا کرتے تھے۔ انہیں پولیس کی حراست میں عدالت میں پیش کیا گیا اور پھر ان کو عدالت عدالت سیر کرائی گئی عمران ریاض تنقید کے بعد تیتروں کے وحشیانہ قتل عام سے مکر گئے اور کہا کہ انہوں نے صرف 14 تیتر شکار کیے ہیں۔ باقی ان کے دوستوں نے فریج سے نکال کر گاڑی پر تصویر بنانے کے لئے سجا دیے تھے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر آپ ہاتھ لگا کر ان تیتروں کو دیکھیں تو یہ گیلے تیتر ہیں جو فریج سے نکال کر سجائے گئے ہیں پھر یار لوگوں نے ان کا نام ہی گیلا تیتر رکھ دیا جب اس گیلے تیتر نے اپنے آقاؤں کو آنکھیں دکھائیں تو خوب شہرت پائی ایک ہی روز سوشل میڈیا پر لاکھوں لوگوں نے گیلے تیتر کو سرچ کیا عجب اتفاق ہے جب یہ مخلوق اپنے پروردہ لوگوں کی گود میں بیٹھ کر عمران خان کے مخالفین کے بال نوچ رہی ہو تو تب بھی اس کے وارے نیارے ہوتے ہیں۔

ڈانٹ ڈپٹ پلا کر بھی جلد چھوڑ دیا جاتا ہے پھر ہیرو بن کر باہر آ جاتے ہیں۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ جس تیزی سے گرفتاری اور رہائی کا عمل ہوا ہے۔ اسی تیز رفتاری سے انقلاب بھی باہر نکل گیا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کے جج کے سامنے کوئی فضول بات نہ کہنے کا عہد دے کر گھر آئے ہیں۔ ریاست مدینہ کے دعویدار عمران خان نے جس شد و مد سے اپنے سیاسی مخالفین کو ”چور اور ڈاکو“ ثابت کر نے کی حکمت عملی اختیار کی اس میں وہ کسی حد تک کامیاب ہوئے ہیں۔

اس پراپیگنڈہ مہم میں گیلا تیتر جیسے صحافی نما تیتروں نے بڑا کردار ادا کیا ہے جس پر کپتان نے انہیں خوب نوازا ہے۔ سوشل میڈیا پر اس گینگ نے مافیا کی شکل اختیار کر لی ہے۔ اس مافیا کے اشاروں پر آئی جیز، ڈی آئی جیز اور ایس ایس پیز کی تقرریاں و تبادلے ہوتے تھے۔ اس کے حکم پر انتظامیہ و پولیس لونڈی بنی ہوئی تھی۔ ایک یو ٹیوب چینل کے اینکر کی تخت اسلام آباد تک رسائی کے مارکیٹ میں کئی قصے اور کہانیاں گردش کر رہی ہیں۔

ریاست مدینہ کے داعی عمران خان کی سرپرستی میں جو کھیل کھیلا جاتا رہا ہے۔ وہ عمرانی حکومت ختم ہونے کے بعد ختم ہو گیا ہے۔ جلسوں میں تقریر کو اسلامک ٹچ دینے والا کپتان جس طرح جرائم پیشہ عناصر کی سرپرستی کرتا رہا اس کی داستانیں بھی ایک ایک کر کے منظر عام پر آ رہی ہیں۔ ایک خاتون کو جس طرح جسٹس جاوید اقبال کو بلیک میل کرنے کے لئے استعمال کیا گیا وہ بھی اب کسی ڈھکا چھپا نہیں یہ خاتون کھل کر سامنے آ گئی ہے۔

عمران خان پونے چار سالہ دور حکومت میں دیہاڑی داروں خوب لوٹ مار کی ہمارے بعض دوست جو پولیس کی مدح سرائی میں کسی کو آگے بڑھنے نہیں دیتے وہ عمران ریاض کی گرفتاری کو مسلم لیگ (ن) کی حکومت انتقامی کارروائی ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ یہ گرفتاری محض ڈانٹ ڈپٹ تھی اور پھر جس تیز رفتاری سے ان کی رہائی ممکن ہوئی اس بارے میں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں لاہور ہائی کورٹ نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کی سفارش اور عمران ریاض کی اس یقین دہانی کے بعد کہ وہ کوئی متنازع بیان نہیں دیں گے۔ فوج کے خلاف نفرت پھیلانے کے مقدمہ میں ان کی ضمانت منظور کر کے رہائی کا حکم جاری کر دیا۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس باقر نجفی نے عمران ریاض سے استفسار کیا کہ ”کیا وہ متنازع بیان نہ دینے کا وعدہ کرتے ہیں؟“ عمران ریاض یقین دہانی اور ایڈووکیٹ پنجاب کی رضامندی کے بعد عمران ریاض کو رہائی دے دی یہ بات قابل ذکر ہے جس تیزی سے عمران ریاض کے خلاف قانون حرکت میں آیا اسی تیزی سے ان کی رہائی پر رضامندی بھی ظاہر کر دی گویا گھر کا معاملہ گھر میں ختم کر دیا گیا اس دوران ان کا سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کر دیا گیا اور وہ پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے باہر آیا۔

گزشتہ ہفتہ عمران ریاض کو اٹک کی پولیس نے اسلام آباد ٹول پلازہ کے قریب بقول پولیس اٹک کی حدود سے گرفتار کیا تھا۔ اگلے روز اور رات کا زیادہ تر حصہ انہیں راولپنڈی اور اٹک کی عدالتوں کے چکر لگوائے جاتے رہے انہیں تین دنوں میں پنجاب کے تین اضلاع کی پولیس حراست میں رکھا گیا اور یہ طے نہیں ہو پا رہا تھا کہ انہیں کس عدالت میں پیش کیا جائے اٹک کی عدالت نے انھیں رہا کیا تو چکوال کی پولیس گرفتار کر کے لے گئی چکوال پولیس نے انھیں عدالت میں پیش کر کے پانچ دن کا جسمانی ریمانڈ مانگا لیکن عدالت نے پولیس کی درخواست مسترد کر دی اور عمران ریاض کو راہداری ریمانڈ پر ضلع لاہور کی پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔

انھیں پولیس کی قیدیوں والی گاڑی میں چکوال سے لاہور منتقل کر دیا گیا۔ دلچسپ امر یہ ہے۔ تمام اضلاع میں اینکر عمران ریاض کے خلاف پاکستان الیکٹرانک کرائمز ایکٹ یعنی پیکا کے تحت مقدمات درج ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ انھوں نے اپنے یوٹیوب چینل کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کی افواج کے خلاف ہرزہ سرائی کی اور افواج کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔ جب کہ عمران ریاض کے وکلاء کا موقف ہے کہ اب تک ان کے خلاف پنجاب کے مختلف اضلاع میں 18 کے لگ بھگ ایف آئی آر درج کی جا چکی ہیں اور ان تمام مقدمات میں ایک ہی نوعیت کا الزام ہے۔ میرا خیال ہے۔ سافٹ ویئر اپ ڈیٹ ہونے کے بعد عمران ریاض کی جانب سے بھی خاموشی ہو جائے گی اور باقیوں کو بھی تنبیہ ہو جائے گی۔

لاہور ہائی کورٹ میں چھٹیاں تھیں تاہم عمران ریاض کی داد رسی ہوئی اور ضمانت پر رہائی مل گئی۔

Facebook Comments HS