پاکستان کا اصل مسئلہ کیا ہے؟ آئیے جانتے ہیں


1۔ اگر تھر کے علاقے میں ہر برس نوزائیدہ بچوں کی کثیر تعداد کم خوراکی سے فوت ہوجاتی ہے تو وہاں ہسپتال بنانا اتنا اہم نہیں۔ بلکہ وہاں تجارتی سرگرمیاں بڑھانے کے لیے فیکٹریاں اور ملز لگانا زیادہ اہم ہے کہ ان لوگوں کا مسئلہ معاشی ہے ماؤں کی خوراک بہتر ہوگی تو رحم مادر بچوں کو صحت مند رکھے گا۔

2۔ پاکستان میں اگر سڑکیں ٹوٹی پھوٹی ہیں تو مسئلہ مٹیریل کا نہیں مسئلہ سڑک کے اطراف میں پانی کی نکاسی کے لیے انڈر گراؤنڈ سیوریج کا نہ ہوتا ہے۔ سڑک درمیان سے ابھری ہوئی نہ ہونا ہے۔ آپ لوہے کی بھی سڑک بنائیں پانی اس کو تباہ کر دے گا گویا نکاسی آب اس کا اصل مسئلہ ہے۔

3۔ اگر سی ایس ایس میں پچھلے کچھ عرصے سے کم سطح کے اذہان آرہے ہیں تو مسئلہ بچوں یا نظام تعلیم کا نہیں مسئلہ کم زور اساتذہ کا ہے۔ اچھے، تجزیہ کار اور میرٹ ہر چنیدہ تربیت یافتہ اساتذہ ہے اچھی تعلیم دے سکتے ہیں۔

4۔ اگر ایچ ای سی اور دیگر جامعات ہر برس ٹیچرز ٹریننگ ورکشاپس منعقد کرواتی ہیں اور پھر بھی طریق تدریس میں بہتری نہیں آ رہی تو مسئلہ ورکشاپ کے تصور میں ہے۔ ٹیچنگ 70 فی صد عملی کام ہے ورکشاپس میں تھیوری پڑھا کر تھوڑا بہت گپ شپ لگا کر اور ایک دو تعریفیں لکھوا کر اگر آپ سمجھتے ہیں کہ نتائج اچھے آئیں گے تو غلط فہمی ہے شریک استاد کو دوران ورکشاپ روسٹرم پر ہال میں کھڑا کریں اور اس سے پڑھوائیں اور اس کی وہیں تربیت کریں کہ آپ کے یہاں ان چیزوں میں یوں بہتری درکار ہے۔ ورنہ سب گول مال ہے۔

5۔ پاکستان میں اگر نوجوان لڑکے لڑکیاں گھروں سے بھاگ کر شادی کرنے لگے ہیں تو مسئلہ شاید والدین اور بچوں کی تربیت بھی نہیں ہے مسئلہ ٹی وی ڈرامہ ہے جس میں تصور محبت کو اس طرح پیش کیا جاتا ہے گویا پسندیدہ لائف پارٹنر کا حصول ہی ہماری زندگیوں کا نصب العین ہو۔ پچھلے بیس برس کے ڈراموں کے موضوعات محبوب کے گرد گھومتے ہیں۔ میں نے تو ان دنوں کچھ ڈراموں میں لڑکی کے ہجر میں لڑکوں کو روتے دیکھا ہے۔ لہٰذا ڈرامہ لکھنے والوں کی تربیت کی ضرورت ہے۔

6۔ اگر آپ کے جمہوری ادارے کمزور ہیں تو غیر جمہوری قوتوں کی نسبت سیاست دانوں کی تربیت اور قانون سازی کی ضرورت ہے۔ منحرفین کو جب پرویز الٰہی اور شیخ رشید گالیاں دیتے ہیں تو مجھے ہنسی آتی ہے۔ شاہ محمود قریشی جب لوٹوں کو برا کہتا ہے تو مجھے ہنسی آتی ہے۔ عمران خان جب پارٹی چھوڑنے والوں کو غدار کہتا ہے تو مجھے ہنسی آتی ہے۔ مسلم لیگ نون جب لیپ ٹاپ تقسیم کرتی اور رشوت اور دھاندلی کے خلاف بیان بازی کرتی ہے تو میرا ہاسا نہیں رکتا۔ فوج کو گالیاں دینے والے جب جرنیل کی آشیر باد پر اے خدا مرے ابو سلامت رہیں گاتے ہیں تو مجھے شرم آتی ہے۔ کشتی میں پانی بھر جائے تو کشتی سے پانی نکالنے سے قبل کشتی میں پڑ جانے والے سوراخ کو بند کرنا چاہیے۔ چوروں کے ساتھ ملنے والی *** کا کھوج لگانا ہی اصل مسئلے کی پہچان ہے۔

7۔ اگر پاکستان معاشی طور پر کم زور ہے تو مسئلہ غیر ملکی سرمایہ کاری کی کمی نہیں مسئلہ مقامی صنعت کا زوال اور ناکامی ہے۔ ملٹائی نیشنلز کی آمد نے آپ کو تباہ کر دیا۔ ایڈ نہیں ٹریڈ جیسے نعروں کی بجائے مقامی سطح پر سرمایہ کاروں کو سپورٹ کیا جاتا ہے تو ہمارا سرمایہ ہمارے پاس ہی رہتا۔ افرادی قوت برسر روزگار ہوتی اپنی معیشت بہتر کرنی ہے تو ملکی سرمایہ کاروں کو مفت زمینیں دو تاکہ وہ صنعت لگائیں انہیں دس برس تک ٹیکس فری ماحول دو۔

مسئلے کی درست تفہیم مسئلے کا نصف حل ہوتا ہے۔ کاش ”بڑے لوگ“ یہ بات سمجھ سکیں۔

Facebook Comments HS