سندھ کی مایہ ناز گلوکارہ روبینہ قریشی
سندھ کی معروف گلوکارہ روبینہ قریشی بالآخر راہ ربانی لے کر یہ جہان چھوڑ گئیں۔ سندھ کی یہ عظیم گلوکارہ کینسر جیسے موذی مرض میں کراچی میں کافی عرصے سے زیر علاج تھی۔ کیموتھراپی جیسے تکلیف دہ مراحل کا سامنا کرنے کے ساتھ مختلف معاملات نے ان کی صحت کو دن بدن پیچیدہ بنا دیا۔ طویل عرصے تک اس مرض سے لڑتے جھگڑتے بالآخر گزشتہ روز روبینہ قریشی وفات پا گئیں۔ روبینہ قریشی کی عمر 82 برس تھی، مرحومہ اداکار مصطفیٰ قریشی کی اہلیہ تھیں۔ سندھ کی اس سریلی گلوکارہ کی آواز اور ان کے گیتوں کے بول ہم سے کبھی جدا نہیں ہوسکتے۔ وہ آج بھی ہمارے دلوں میں زندہ ہے۔
دو سال قبل 20 دسمبر 2020 کو روبینہ قریشی اور ان کے خاوند مشہور فلمسٹار مصطفیٰ قریشی کی شادی کی گولڈن جوبلی تقریب کراچی میں منائی گئی۔ اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے مصطفیٰ قریشی کی آنکھیں نم ہو گئیں تھیں۔ انہوں نے کہا کہ میں خود کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ مجھے روبینہ جیسی بیوی ملی ہے، جس نے زندگی کے ہر قدم پر میرا ساتھ دیا۔ اس یادگاری تقریب کے بعد روبینہ قریشی بیمار رہنے لگ گئیں تھیں۔
وہ 1940 میں حیدرآباد شہر کی ایک کاروباری شخصیت الہی بخش شیخ کے گھر میں پیدا ہوئیں۔ ان کا اصل نام عائشہ شیخ تھا۔ روبینہ اس نے ریڈیو پہ جانے کے لئے کے لئے نام رکھا جو اس کی شناخت بن گیا۔ روبینہ قریشی نے سندھی کے علاوہ اردو، پنجابی اور سرائیکی گیت بھی گائے۔ اداکار مصطفیٰ قریشی سے شادی کے بعد وہ 1970 میں لاہور منتقل ہو گئیں۔ روبینہ قریشی نے سندھ یونیورسٹی سے مسلم ہسٹری میں ماسٹرز کیا۔ روبینہ قریشی سندھ کی کلاسیکل گلوکارہ تھیں جنہوں نے باقاعدہ کلاسیکل موسیقی کی تربیت حاصل کی۔
گلوکاری کا شوق ان کو شروع سے ہی تھا لیکن اگست 1955 کو جب ریڈیو پاکستان حیدرآباد کی بنیاد رکھی گئی تو ریڈیو اسٹیشن کی انتظامیہ کی جانب سے حیدرآباد کے مختلف اسکولوں اور کالجوں کو خطوط جاری کیے گئے کہ وہ اپنے ہونہار طلبہ کو ریڈیو پر بھیجیں اور ان خطوط کی روشنی میں روبینہ قریشی بھی حیدرآباد۔ ریڈیو اسٹیشن دیکھنے آئی تھی تب وہ ابھی نویں جماعت میں پڑھتی تھی۔ ریڈیو پاکستان حیدرآباد پر ان کی ملاقات براڈ کاسٹر ایم بی انصاری (محمد بخش انصاری) اور میوزک ڈائریکٹر ماسٹر محمد ابراہیم، جنہوں نے اس کا آڈیشن دیا اور دوسرے فنکاروں کے ساتھ اسے کورس میں گانے کا فیصلہ کیا۔ پھر اس نے کورس میں قومی گیت، شادی کے گیت اور لوک گیت گائے۔ انہوں نے سندھی اور اردو ڈراموں میں بھی اداکاری کی، کمپیئرنگ کی، کہانیوں سے بھرے گانے گائے اور کچھ عرصے کے بعد ، ”سولو“ گانا گایا۔ ان کا گایا ہوا پہلا گانا تھا: ”پیریں پسندی سان، چوندی سان، رہی ونج رات بھنبھور میں“ ۔ یہ گانا بے حد مقبول ہو گیا جس کے بعد ایک سے بڑھ کر ایک گانے میں روبینہ قریشی کو کامیابی حاصل ہوئی۔
جب روبینہ قریشی نے ریڈیو پاکستان حیدرآباد میں گائیکی کے ذریعے مقبولیت حاصل کی تھی تب وہاں ان کے ریڈیو کے دیگر ساتھیوں میں پاکستان فلم انڈسٹری کے سپر اسٹار اداکار محمد علی، اداکار ساقی، مصطفیٰ قریشی، مہتاب راشدی، روشن عطا، قمر علی عباسی، زرینہ بلوچ، فہمیدہ ریاض، منظور قریشی، عابدہ پروین، محمد جمن، قربان جیلانی، سید صالح محمد شاہ، بدر ہاشمی، یعقوب زکریا، مائی بھاگی اور مشتاق مغل سمیت بیشتر نامور شخصیات شامل تھے۔
ان دنوں الیاس عشقی پروڈیوسر تھے۔ صوتی اثرات کے لیے اقبال جعفری ہوا کرتے تھے۔ ابراہیم نفیس بطور اناؤنسر صداکاری سے وابستہ رہے۔ ریڈیو پاکستان حیدرآباد جب 17 اگست 1955 کو قائم ہوا تھا تو پہلی آواز جو سنی گئی تھی وہ بھی ابراہیم نفیس کی تھی۔ ممتاز شاعر حفیظ ہوشیار پوری اس کے ڈائریکٹر رہے اور علی محمد چھاگلہ جنھوں نے پاکستان کے قومی ترانے کی دھن تیار کی تھی، وہ بھی حیدرآباد اسٹیشن کے ڈائریکٹر رہے۔ روبینہ قریشی ایسی مایہ ناز شخصیات کے ساتھ ساتھ صف اول میں شمار ہوتی تھیں۔ ان دنوں ریڈیو، الیکٹرانک میڈیا کا واحد ذریعہ تھا۔ ریڈیو پر جو بھی آواز سنی جاتی، وہ بہت جلد مقبول ہو جاتی۔ روبینہ قریشی نے بھی جب ریڈیو پاکستان حیدرآباد سے پہلا گانا ”پیریں پوندی سان، چوندی سان، رہی ونج رات بھنبھور میں“ مقبول ترین ہو گیا۔ سندھ کے شہروں گوٹھوں میں ہر جگہ یہی گیت چلتا تھا۔
روبینہ قریشی نے ماسٹر محمد ابراہیم، استاد محمد جمن، استاد نذر حسین کی موسیقی میں بہت سے گانے گائے۔ ان کے بہت سے گانے جو ریڈیو پاکستان سے نشر ہوئے وہ ایم بی انصاری اور خواجہ امداد علی نے ریکارڈ کیے۔ روبینہ قریشی نے ریڈیو پاکستان حیدرآباد، کراچی، لاہور اور ڈھاکہ پر بھی گایا ہے۔ عبدالکریم بلوچ نے پاکستان ٹیلی ویژن پر ان کا متعارف کروایا۔ انہوں نے سندھی فلموں سسی پنہوں، گھونگھٹ لاہ کنوار کے گانے بھی گائے۔
اگرچہ روبینہ قریشی نے ماسٹر محمد ابراہیم اور استاد محمد جمن سے سیکھا، لیکن انہوں نے لاہور میں استاد چھوٹے غلام علی خان سے باقاعدہ تربیت حاصل کی۔ روبینہ قریشی نے انڈونیشیا، چین، ترکی، بھارت، برطانیہ اور امریکا میں بھی اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ اس نے شاہ عبداللطیف بھٹائی، سچل سرمست، مخدوم طالب المولیٰ، شیخ ایاز، پیرل سائیں، مخدوم امین فہیم سمیت بڑے شعراء کا کلام گایا ہے۔ روبینہ قریشی کے مقبول گانوں میں ننگڑا نماڑیندا جیویں تیویں پالنا، آئی مند ملہار جی، اکھیوں آرزو اکھیوں التجا، جتے مہنجا ماروئڑا، توں ننگی ننگ سجان، تنہنجوں گالہیوں سجن، الئجے ویٹھا چھو وسارے، جدائی میں غم اور لاتعداد گانے گائے ہیں۔






