اخلاق بھی رکھ آئے ہیں ساحل پر
خیر 1956 کا آئین تھا کچھ نہ ہونے سے کچھ ہونا بہتر قرار پایا اور 23 مارچ 1956 کو آئین نافذ کر دیا گیا۔ اسی آئین کے تحت فروری 1959 میں پہلے عام انتخابات کا اعلان ہوا۔ مگر 1962 کے آئین کے موجد نے 1959 کے انتخابات سے قبل ہی ملک میں مارشل لاء نافذ کر دیا۔ 1962 میں صدر نے 1962 کا آئین پورے ملک میں لاگو کر دیا۔ اس دستور کے خلاف مزاحمت بھی ہوئی۔ حسین شہید سہروردی جن کا تعلق مشرقی پاکستان سے تھا انہوں نے سخت الفاظ میں اس کی مذمت کی۔
دس سال تک 1962 کے دستور کو ایک مطلق العنان قرطاس ابیض سمجھا جاتا رہا۔ لہذا 1972 میں دوبارہ آئین سازی پر کام شروع ہوا۔ فروری 1973 میں آئین مکمل ہوا اور 23 مارچ 1973 کو ملک بھر میں نافذ العمل کر دیا گیا یہ ایک بہترین آئین تھا جس میں ملک کے تمام طرح کے انتظام و انصرام اور تمام اداروں کے اختیارات اور حدود و قیود متعین کر دی گئیں۔ اس آئین میں اب تک 25 ترامیم کی جا چکی ہیں سب سے آخری پچیسویں ترمیم ہے جس کے تحت قبائلی علاقہ جات (فاٹا) کو صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم کر دیا گیا اور اس کا نفاذ 31 مئی 2018 کو عمل میں آیا۔
لہذا 1973 کے آئین کے بعد ایک طرح سے آئینی بحران کا عقدہ ہمارے ارباب سیاست نے حل کر دیا۔ یہ الگ بات ہے کہ آئین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ارباب حل و عقد نے جاری رکھی۔
دوسرا بحران جس کا سامنا پاکستان کو پیدائش سے لے کر آج تک ہے اور قرائن بتاتے ہیں کہ ریاست کو یہ عارضہ بڑھاپے تک لاحق رہے گا وہ اقتصادی بحران ہے حالات کے نشیب و فراز سے اندازہ ہوتا ہے کہ کبھی ہم اس بحران سے نکل آتے ہیں کبھی پھر اس خندق میں جا گرتے ہیں۔ آج ایک بار پھر عالمی مالیاتی اداروں کی ماں (ایف اے ٹی ایف ) کی ”ڈنگوری“ لے کے ہمارے سر پہ کھڑی ہے۔
مگر کیا اقتصادی بحران پاکستان کا سب سے بڑا بحران ہے؟
جی نہیں! اقتصادی بحران پاکستان کا سب سے بڑا بحران نہیں ہے۔ پاکستان کو 1947 سے لے کر آج تک جس بحران کا تواتر سے سامنا ہے اور جو بحران اپنے اندر سو سے زیادہ اور بحرانوں کو لپیٹے ہوئے ہے
وہ ہے ”اخلاقی بحران“
اخلاقی بحران سے ہی باقی تمام مسائل اور بحران جنم لیتے ہیں۔ اس وقت مہنگائی اپنے عروج پر ہے۔ اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ حکومت اس بحران سے پاکستان کو نکالنے میں سست روی کا شکار ہے۔ مگر کیا ہمارا سرمایہ کار اور صنعت کار اس سلسلے میں اخلاقی بحران کا شکار نہیں ہے کہ جو ناجائز منافع خوری، سٹے بازی اور ذخیرہ اندوزی کر تا ہے جس کے نتیجے میں اشیائے ضروریہ غریب عوام کے گھر سے منہ موڑ لیتی ہیں۔ حتی کہ ہمارے ملک میں آٹے جیسی بنیادی ضرورت پر بھی مصنوعی قلت پیدا کر کے اربوں روپے تجوریوں میں بھر لیے گئے۔
کیا ہمارا دکاندار اخلاقی بحران کا شکار نہیں کہ جو اصل قیمتوں سے کہیں زیادہ نرخوں پر گلی محلے میں چیزیں فروخت کر تا ہے۔ کیا ہمارے طبیب، ڈاکٹر، استاد انجینئر اور سرکاری عمال اخلاقی بحران کا شکار نہیں ہیں؟ کیا ہمارا مذہبی طبقہ درست سمت میں سفر کر رہا ہے کیا کچھ جذباتی راہنماؤں نے بھائیوں کو باہم دست و گریباں نہیں کر دیا ہے؟
کیا ہمارا قانون دان اخلاقی بحران سے دوچار نہیں ہے؟ کیا ہمارے غریب عوام کی دست برد سے مسجد کی ٹوٹی، حمام کے ساتھ لٹکا ہوا گلاس، کسی اے ٹی ایم مشین میں پڑی سینی ٹائزر کی بوتل اور پارک میں لگے پودے محفوظ ہیں؟ اگر ایسا نہیں ہے جو کہ یقیناً نہیں ہے تو پھر ہم اخلاقی بحران کا شکار ہیں۔ چوری چکاری، کم تولنا، گلا سڑا فروٹ بیچنا، اپنی معاشی حیثیت سے زیادہ اولاد پیدا کرنے کی سعی کرنا اور دودھ میں ملاوٹ کرنا کیا ان تمام سماجی معائب سے ہمارا عام پاکستانی پاک ہے؟
اگر ایسا ہے تو پھر باقی تمام بحرانوں پر قابو پانے، سیاستدانوں اور اشرافیہ کو کوسنے سے زیادہ ضروری ہے کہ ملک پاکستان کے اس بحران سے نپٹنے کے لیے کمر بستہ ہوا جائے۔ من حیث القوم اگر ہم لوگ اخوت، بھائی چارے، انسانی ہمدردی، رواداری، عفو درگزر جیسے اوصاف سے متصف ہو جائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم اخلاقی بحران جیسے جد بحران پہ قابو نا پا لیں۔ سستے زمانوں میں زمینؤں میں گندم کم اگتی تھی مگر ایک دوسرے سے محبت اور باہمی احساس کے جذبے کے زیر اثر لوگوں نے بھوک کو دفن کر دیا تھا آج فی ایکڑ پیداوار 70 من کے قریب جا رہی ہے اس کے باوجود ہم ہمسائے کے منہ سے نوالہ چھیننے کے لیے غرا رہے ہیں۔
بندہ مارنا، مچھر مارنے سے زیادہ ارزاں ہو گیا ہے۔ نفرت کے سائے روز بروز گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ مذہبی منافرت دلوں کو جوڑنے کی بجائے رشتے ناتوں کو توڑ پھوڑ رہی ہے۔ لہذا آج ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کو امن آشتی، اور روایات سے بھرپور ایسی رہنے کے قابل جگہ بنایا جائے کہ جہاں پہ۔
”کوئی ملول نا ہو کوئی خستہ حال نا ہو“
اور آئندہ جب ممالک ایمانداری، کرپشن اور انصاف پر مشتمل ریٹنگ جاری کریں تو ہمیں یہ نا کہنا پڑے۔
ہم لوگ تو اخلاق بھی رکھ آئے ہیں ساحل
ردی کے اسی ڈھیر میں آداب پڑے تھے


