فیس بک فرینڈ کی موت پر


عمومی طور پر فیس بک پہ دوست بنانے یا وقت گزارنے والوں کو یہ طعنہ دیا جاتا ہے کہ آپ فیس بک پہ جتنے بھی دوست بنا لیں آپ کے جنازے پہ آپ کے اہل علاقہ یا رشتہ دار ہی ہوں گے۔ بھئی میرا تو ماننا یہ ہے کہ دوست اس لیے نہ بناؤ کہ آپ کا جنازہ بڑا ہو بلکہ دوست اس لیے بناؤ کہ آپ کی زندگی خوشگوار گزرے۔ فیس بک ایک وسیع پلیٹ فارم ہے جس پہ آپ کو ہم خیال اور یکساں دلچسپی رکھنے والے لوگ ملتے ہیں۔ اس لیے ان سے رابطہ بڑھانے اور جڑے رہنے کو جی چاہتا ہے۔

اپنے آس پاس بسنے والے لوگوں کو چھوڑ کر فیس بک پہ وقت گزارنے والوں کا بھی یہی معاملہ ہوتا ہے کہ انہیں قرب و جوار میں ہم خیال لوگ نہیں مل پاتے اس لیے وہ نئی دنیا میں نئے لوگ ڈھونڈتے ہیں۔ اپنا چونکہ لکھنے لکھانے سے تعلق ہے تو پہلی ترجیح یہی ہوتی ہے کہ لکھاری حضرات کو فیس بک فرینڈز میں شامل کیا جائے یا فالو کیا جائے۔ کئی اچھے لوگ اور لکھاری اپنے ساتھ ایڈ ہیں انہیں میں سے ایک خوبصورت انسان عاطف عنایت تھا۔

عاطف صاحب سے میرا تعارف ویرات کوہلی پہ لکھی ان کی پوسٹ سے ہوا تھا، تحریر پڑھی، بہت متاثر کن تھی فوراً ریکوئسٹ بھیج دی۔ انہوں نے قبول کر لی اور یوں ہم ایک ہی لڑی میں پروئے گئے۔ سپورٹس سے عاطف بھائی کا لگاؤ انتہا کا تھا اور سپورٹس کے متعلق ان کی معلومات بھی حد درجہ تھیں۔ روزمرہ ہونے والے کرکٹ، ٹینس، فٹبال، باکسنگ کے مقابلوں پہ عاطف بھائی خوبصورت تبصرہ و تجزیہ لکھتے تھے۔ ان کی اکثر تحریریں 92 اخبار میں بھی چھپتی تھیں۔

عاطف عنایت سپورٹس کے علاوہ موویز پہ بھی اپنی رائے دیتے رہتے تھے اور سیاست پہ بھی اظہار خیال لازمی کرتے تھے۔ میں بعض اوقات حیران ہوتا تھا کہ کوئی بندہ ایک ہی وقت میں اتنی متفرق نگاری کیسے کر سکتا ہے۔ عاطف عنایت نہ صرف پوسٹس کرتے تھے مگر ہر کمنٹ کرنے والے کو جواب بھی دیتے تھے۔ اتنے سارے کمنٹس کا جواب یقیناً اپنے ساتھ جڑے لوگوں کا مان رکھنے والا ہی دے سکتا ہے۔ 14 جولائی کو صبح صبح فیس بک کھولی تو عاطف عنایت کی وفات کا پڑھ کر دل دھک سے رہ گیا۔

دعا کی کہ یا اللہ یہ جھوٹ ہو مگر پھر جیسے ہی ”سکرول ڈاؤن“ کیا تو عاطف عنایت سے محبت پانے والوں اور محبت کرنے والوں کی کئی پوسٹس دھندلاتی نگاہوں کے سامنے آتی گئیں اور اس تلخ حقیقت کو تسلیم کرنا پڑا۔ عاطف عنایت آنے والے کرکٹ و فیفا ورلڈ کپ کے لیے انتہائی پرجوش تھے۔ مگر انسان کی ساری منصوبہ بندی (پلاننگ) میں موت کہیں بھی شامل نہیں ہوتی۔ موت کے ڈر سے جینا تو نہیں چھوڑ سکتے، ویسے بھی جس چیز کو بندہ نہ دیکھ سکتا ہے، نہ جان سکتا ہے اور نہ روک سکتا ہے اس کے لیے منصوبہ بندی کر بھی کیسے سکتا ہے۔

عاطف عنایت بلڈ پریشر کے مریض تھے۔ 14 جولائی کو انہیں دل کا دورہ پڑا اور جانبر نہ ہو سکے۔ ان کی موت نے ان کے عزیزوں سمیت ہم جیسے قارئین کو بھی دکھی کر دیا۔ یہ میرا تیسرا تعزیتی کالم ہے، پہلا اپنے استاد محترم رمضان عنصر کے بچھڑنے پہ لکھا تھا، دوسرا بی اے کے کلاس فیلو نصر حیات کی جدائی پہ لکھا تھا۔ نصر بھائی کار حادثے میں جان بحق ہوئے اور اس حادثے نے مجھ پہ ایسا اثر چھوڑا کہ میں نے تیز رفتاری سے بائیک چلانا چھوڑ دی۔

عاطف عنایت سے میں کبھی نہیں ملا نہ ہماری دوستی زیادہ گہری تھی میں تو ان کا ایک خاموش قاری تھا مگر یہ کالم لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ چاہے فیس بک ہو یا حقیقی زندگی آپ کا اخلاق، رویہ اور کام دوسروں کے دلوں میں آپ کی قدر و منزلت بناتا ہے اور کسی کے گزرنے پہ اس کے جنازے میں بھلے شریک نہ ہو سکیں مگر دل سے ان کے لیے دعا ضرور نکلتی ہے۔

آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزۂ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے

Facebook Comments HS