بابر غوری کس مشن پر پاکستان آئے تھے؟


طویل عرصے سے بیرون ملک مقیم سابق وفاقی وزیر بابر غوری جب 4 جولائی کی شب امارات ائر لائن کی پرواز ای کے 602 کے ذریعے امریکا سے پاکستان پہنچے تو انہیں ائر پورٹ سے ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے حراست میں لے لیا گیا بعد ازاں اطلاعات سامنے آئیں کہ وہ 2015 میں متعدد ایم کیو ایم رہنماؤں کے خلاف درج کیے گئے ایک مقدمے میں نامزد ہیں یہ مقدمہ بانی متحدہ کی ملک دشمن تقاریر کی سہولت کاری اور کارکنان کو بغاوت پر اکسانے پر درج کیا گیا ہے۔

5 جولائی کو پولیس کی جانب سے انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت میں پیش کیے جانے پر انہیں 12 جولائی تک جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا گیا تھا 13 جولائی کو عدالت میں پیشی کے دوران پولیس کی جانب سے ان کے خلاف مقدمے سے متعلق شواہد نہ ملنے پر زیر دفعہ 497 کے تحت رپورٹ پیش کی گئی تھی جس پر عدالت نے رپورٹ مسترد کرتے ہوئے تفتیشی افسر کو 20 منٹ میں زیر دفعہ 169 کے تحت نئی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا اس دوران بکتر بند گاڑی میں بابر غوری کو بٹھا کر جیل روانہ کر دیا گیا تھا تاہم عدالت کی جانب سے دیے گئے وقت گزر نے کے بعد تفتیشی افسر کے پیش نہ ہونے پر عدالت نے دوبارہ رپورٹ طلب کر لی تھی بعد ازاں نئی رپورٹ عدالت میں جمع ہونے کے چند گھنٹوں بعد ہی بابر غوری کو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 169 سی آر پی سی کے تحت رہا کر دیا گیا ہے جس کے فوری بعد وہ رات گئے اپنی اہلیہ کے ہمراہ غیر ملکی ائر لائن ای کے 603 کے ذریعے دبئی واپس روانہ ہو چکے ہیں۔

پولیس کی جانب سے عدالت میں پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق بابر غوری کو بانی ایم کیو ایم کی اشتعال انگیز تقریر میں سہولت کاری پر گرفتار کیا گیا تھا ملزم کے خلاف 16 جولائی 2015 کو سائٹ سپر ہائی وے تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا تھا پولیس نے اپنی رپورٹ میں بابر غوری کو رہا کرنے کی سفارش کرتے ہوئے کہا کہ ملزم بابر غوری کے خلاف ٹھوس شواہد نہیں ملے ہیں افسران سے ملزم کو ضابطہ فوجداری کے تحت رہا کرنے کی منظوری لے لی ہے لہٰذا بابر غوری کو ضمانت پر رہا کیا جائے۔

پولیس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ملزم سے تفتیش کی گئی ہے ملزم بابر غوری شوگر، بلڈپریشر، امراض قلب کے مریض ہیں جبکہ ملزم کے گردے بھی کافی کمزور ہیں۔ تفتیشی افسر محبوب الٰہی کے مطابق بابر غوری کو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 169 کے تحت رہا کیا گیا ہے جس میں پولیس کو اختیار حاصل ہے کہ وہ عدم شواہد کی بنا پر ملزم کو ضمانت پر رہا کرے۔

سات سال تک خود ساختہ جلا وطنی کاٹنے والے بابر غوری نے پاکستان واپسی سے قبل کراچی پورٹ ٹرسٹ میں غیر قانونی بھر تیوں اور منی لانڈرنگ کے ذریعے دہشتگردوں کی مالی معاونت کرنے کے دو مقدمات میں سندھ ہائیکورٹ سے 5 جولائی تک حفاظتی ضمانت حاصل کر رکھی تھی۔ پاکستان واپسی پر انہیں سائٹ سپر ہائی وے تھانے میں درج مقدمے میں گرفتار کر کے نا معلوم مقام پر منتقل کیا گیا تھا بعد ازاں ان کی صاحبزادی علیشا غوری کی جانب سے حفاظتی ضمانت حاصل کرنے کے بعد بھی انہیں ائر پورٹ سے گرفتار کرنے پر سندھ ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی جس کے بعد عدالت نے ان کی دو مقدمات میں ضمانت میں 9 دن کی توسیع کرتے ہوئے نیب اور ایف آئی اے کو ان سے تفتیش کرنے سے روک دیا تھا۔

بابر غوری کی گرفتاری کے دورانیے ان کی دونوں صاحبزادیاں نیہا غوری اور علیشا غوری کا کردار بھی نہایت متحرک دیا جو والد کی ضمانت کے لیے اپنے وکیل بیرسٹر شبیر شاہ سے رابطے کے ساتھ ساتھ مختلف قانونی ماہرین سے مسلسل رابطوں میں مصروف دکھائی دیں جبکہ سوشل میڈیا پر مختلف آرٹیکلز کی تشریح کرنے میں بھی پیش پیش رہیں اس دوران ان کی اہلیہ بینا غوری بھی کراچی میں موجود رہیں جو کہ گزشتہ روز بابر غوری کے ہمراہ بیرون ملک روانہ ہو چکی ہیں۔

پولیس کی جانب سے بابر غوری کو عدالت میں ہتھکڑی کے بغیر پیش کیے جانے اور خصوصی ہدایات کی روشنی میں ان پر دست شفقت کا ہاتھ رکھنے کی بنیادی وجہ مقتدر حلقوں سے بڑی ڈیل کی شاخسانہ قرار دی جا رہی ہے۔ بابر غوری کی جانب سے 4 جولائی کو وطن واپسی سے قبل 23 جون کو بھی پاکستان واپسی کا فیصلہ کیا گیا تھا اس سلسلے میں ان کی جانب سے غیر ملکی ائر لائن سے ٹکٹ بھی بک کروا لی گئی تھی بعد ازاں انہوں نے گرین سگنل نہ ملنے اور مختلف وجوہات کی بنا پر پاکستان آنے کا فیصلہ ملتوی کر دیا تھا نیز ان کی جانب سے بیمار والدہ کی تیمارداری کے لیے جلد وطن واپسی کا عندیہ دیا گیا تھا جس کے تحت وہ 4 جولائی کو پاکستان پہنچے تھے۔

سابق وفاقی وزیر پورٹ اینڈ شپنگ بابر غوری زمانہ طالب علمی میں بھی مختلف طلبہ تنظیموں کا نہایت متحرک کردار رہے بعد ازاں شہر قائد میں ایک طویل عرصے تک راج کرنے والی سیاسی جماعت ایم کیو ایم کا حصہ بن گئے 2017 میں ان کی جانب سے ایم کیو ایم کو خیر باد کہنے کو ضروری قرار دیا گیا تھا وہ ممبر قومی اسمبلی کے ساتھ ساتھ سینیٹر کے پرکشش عہدے پر بھی فائز رہے۔ ان پر کراچی پورٹ ٹرسٹ میں دوران وزارت 940 غیر قانونی بھرتیوں کا الزام ہے جس پر قومی احتساب بیورو میں متعدد ریفرنسز درج ہیں اس کے ساتھ ساتھ ایف آئی اے میں بھی ان کے خلاف منی لانڈرنگ کے ذریعے بیرون ملک رقوم بھیجنے اور دہشتگردوں کی مالی معاونت کرنے پر 2017 میں مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

ایم کیو ایم پاکستان کی سیاست سے طویل عرصے وابستہ رہنے والے سزائے موت کے ملزم صولت مرزا نے بھی پھانسی سے ایک روز قبل 1997 میں کے ای ایس سی کے ایم ڈی شاہد حامد کے قتل سے متعلق بابر غوری پر متعدد الزامات عائد کیے تھے 11 مئی 2015 کو پھانسی سے ایک روز قبل ڈرامائی انداز میں سامنے آنے والے ویڈیو بیان میں صولت مرزا کا کہنا تھا کہ انہیں بابر غوری کے گھر بلایا گیا تھا جہاں بانی ایم کیو ایم نے بذریعہ ٹیلیفون شاہد حامد کو قتل کرنے کی ہدایت دی تھی اور انہیں بابر غوری سے رابطے میں رہنے پر زور دیا تھا۔ بابر غوری اس الزام کو متعدد مرتبہ مسترد کر چکے ہیں ان کا کہنا تھا کہ نہ وہ کسی صولت مرزا کو جانتے ہیں نہ تو آج تک اس نام کے کسی شخص سے ان کی کوئی ملاقات ہوئی ہے نہ ہی اس کیس میں بننے والی پہلی جے آئی ٹی میں بھی ان کا کہیں ذکر نہیں ہے۔

بابر غوری کی 9 روزہ پاکستان یاترا  نے سیاسی حلقوں میں نئی ہلچل مچا دی ہے سیاسی مبصرین کے مطابق بابر غوری کی واپسی کسی بڑے مشن کا حصہ تھی جس کے مکمل ہوتے ہی وہ بیرون ملک روانہ ہو گئے ہیں مہاجر سیاست سے جڑے متعدد سیاسی رہنماؤں کے مطابق بابر غوری مہاجر دھڑوں کو یکجا کرنے او ر عام انتخابات سے قبل نئے سیاسی فارمولے کو حتمی شکل دینے کی غرض سے پاکستان پہنچے تھے اس سلسلے میں ان کی جیل میں کئی اہم شخصیات سے رابطوں اور ملاقاتوں کی باز گشت بھی سنائی دے رہی ہے آئندہ چند روز میں بیرون ملک مقیم ایم کیو ایم کے دیگر رہنماؤں کی بھی پاکستان آمد موقع ہے۔

Facebook Comments HS