سپر پاور کی جمہوریت عرب کے صحراؤں میں غرق ہو گئی


کیا آپ جمال جمال خشوگجی کے خاندان سے معافی مانگیں گے؟

یہ سوال امریکی نامہ نگاروں نے سعودی ولی عہد سے مقتول سعودی صحافی جمال خشوگجی کے بارے میں پوچھے ”کیا آپ اس کے گھر والوں سے معافی مانگو گے؟“ ولی عہد، نے کوئی جواب نہیں دیا بس اک مسکراہٹ کا اظہار کیا

واضح رہے سال 2020 میں امریکی صدر جو بائیڈن نے شہزادہ محمد بن سلمان کو سی آئی اے کی تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر لا کر سعودی صحافی جمال خشوگجی کا قاتل قرار دلوایا تھا۔ جمال خشوگجی نامور سعودی صحافی تھے اور اکتوبر 2018 میں ترکی میں سعودی کونسلیٹ میں سعودی ٹائیگر سکواڈ کے ایجنٹوں نے انہیں قتل کر کے ان کی لاش کے ٹکرے ٹکڑے کر ڈالے تھے

جمال خشوگجی کے اس قتل پر ترکی میں بھی سعودی حکومت کے خلاف طیب اردگان نے مقدمات شروع کروائے تھے لیکن ان کا انجام بھی یہی ہوا، جیسا آج امریکی صدر کے ساتھ ہوا یعنی، اردگان کو وہ سب مقدمات ختم کر کے سعودی شاہی خاندان کے سامنے پیش ہونا پڑا۔

جمعہ کے روز دورہ سعودی عرب کے دوران، دونوں ہی رہنما ایک دوسرے سے بظاہر خوشگوار انداز میں ملے مگر، سعودی بادشاہ، شاہ سلمان اور، موجودہ ولی عہد، محمد بن سلمان کے ساتھ امریکہ صدر مختلف انداز سے ملے

تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے، صدر بائیڈن نے شاہ سلمان سے گرمجوشی پر مبنی انداز میں ہاتھ ملایا جبکہ محمد بن سلمان سے صرف مکا ملایا، جس سے واضح طور پر اک ناگواری کا تاثر دیکھا جا سکتا ہے، یعنی صدر بائیڈن تیل مانگنے کی امریکی مجبوری کے پیچھے، اپنے کہے الفاظ، کہ بن سلمان تم قاتل ہو، کے باوجود سعودیہ آئے اور مذاکراتی ادوار میں شامل ہوئے

علاقائی اثر و رسوخ کی مجبوری اور تیل کی بھوک نے سپر پاور امریکہ کے جمہوریت پسند رہنما کو ایک بادشاہ کے آگے جھکا دیا، اس کے پیچھے یقینی طور پر سفارتی چالاکیاں اور مفاد بھی ہو سکتا ہے جیسا کہ مشرق وسطی میں ایران سے نمٹنا اور اسرائیل کو محفوظ رکھنے عرب ریاستوں پر مبنی ایک دفاعی اتحاد، روس یوکرین جنگ کے دوران سعودیہ کی روس اور چین سے قربت اور تیل کی عالمی مارکیٹ میں سعودیہ کا روس کو ساتھ لے کر چلنے کا اعلان،

سعودیہ کی امریکہ کی بات ماننے یا کم از کم اس کے ساتھ سفارتی تعلقات بہتر رکھنے کی بنیادی مجبوریوں میں یہی امور شامل ہیں جس میں، ایرانی بیلاسٹک میزائل پروگرام سے عربوں کا تحفظ، یمن جنگ سے نمٹنا اور ایرانی ایٹمی پروگرام پر پابندی لگوانا

مشرق وسطی میں سعودیہ امریکہ ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم تو ضرور ہو چکے مگر، تیل کی تلاش میں عالمی طاقت کے اصول کیسے دھول مٹی بن کر عرب کے صحراؤں میں غرق ہو گئے اسکی بہترین مثال اس وقت امریکی صدر جو بائیڈن کے اس دوری سعودی عرب میں دیکھ لیجیے۔

واضح رہے امریکیوں نے ہاں مختلف حکومتوں میں آنے والے رہنماؤں کا اثر و رسوخ اور ترجیحات مختلف رہی ہیں، جیسا کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ، کے سعودی شہزادے بن سلمان کے ساتھ اچھے تعلقات رہے تھے۔ ٹرمپ نے حکومت چھوڑنے سے کچھ گھنٹے قبل سعودیہ اور متحدہ عرب امارات کے لیے دفاعی معاہدوں کے اعلانات کیے تھے اور ٹرمپ نے یمن جنگ میں سعودیہ کا ساتھ بھی دیا اور صحافی جمال خشوگجی کے قتل پر محض 2 ماہ میں تیار ہونے والی تحقیقاتی رپورٹ کو بھی خفیہ رکھا تھا چونکہ اس میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا نام بھی شامل تھا۔ اس کے علاوہ صدر ٹرمپ نے سابق امریکی ڈیموکریٹک حکومت باراک اوباما دور میں 2015 کی امریکہ ایران جوہری ڈیل کو 2018 میں توڑتے ہوئے ایران پر پابندیاں لگا دی تھی تو ایران نے جوہری پروگرام تیز کر ڈالا تھا

جبکہ صدر جو بائیڈن اپنی 2020 کی انتخابی مہم میں اس نعرے کے ساتھ الیکشن مہم چلاتے رہے کہ وہ صدر بنتے ہیں سی آئی اے کی جمال خشوگجی کے معاملے پر خفیہ تحقیقاتی رپورٹ کو منظر عام پر لائیں گے اور ملوث لوگوں کو سزا دلوائیں گے، اس کے علاوہ سعودیہ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے سعودیہ کے ساتھ تعلقات کا از سر نو جائزہ لیں گے۔

برسر اقتدار آنے کے بعد صدر بائیڈن نے، سعودیہ کے ساتھ دفاعی معاہدے منسوخ کیے، وہیں سی آئی اے کی جمال خشوگجی قتل پر تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر لے آئے جس میں محمد بن سلمان کا نام بھی شامل تھا۔ سی آئی اے کی رپورٹ میں یہ بات کہی گئی تھی کہ محمد بن سلمان کے براہ راست احکامات پر صحافی جمال خشوگجی کو قتل کیا گیا ہے۔

سعودی شہزادے محمد بن سلمان نے اپنے ایک انٹرویو میں قرار دیا تھا کہ انہیں فرق نہیں پڑتا امریکہ ان کے بارے میں کیا کہتا ہے، امریکہ کو اپنے کام سے کام رکھنا چاہیے، لیکن ایسا کیا ہوا کہ آج امریکہ خود سعودیہ کے سامنے گھٹنوں کے بل آ گیا

تیل۔ جی ہاں تیل کی دولت، اور اس کی بنیاد پر عالمی اثر و رسوخ اور دنیا کی دیگر طاقتوں سے تعلقات بنانے کی دھمکی، یہ سعودیوں کا وہ ہنر ہے جس کی بنا پر امریکہ باہر بے بس نظر آتا ہے، اور جمہوریت کا وہ راگ جو امریکہ باقی دنیا کے لیے الاپتا ہے، اس راگ کی دھنیں یہیں جدہ، اور ریاض میں آ کر شاہی خاندان کی قصیدہ گوئی میں تبدیل ہو جاتی ہیں، یا یوں کہیں کہ سپر پاور امریکہ کے جمہوری اصول ریزہ ریزہ ہو کر یہاں عرب کے صحراؤں میں غرق ہو چکے ہیں۔

Facebook Comments HS