ٹھنڈی بوتل، گرم چائے

صباحت بہت عرصے بعد کراچی جا رہی تھی۔ پوری کی پوری گرمیوں کی چھٹیاں ماموں کے گھر گزارنے کے تصور سے ہی نہال ہوئی جاتی تھی۔ ٹرین کا سفر اسے بہت پسند تھا۔ جب ٹرین سیہون کے قریب پہاڑوں کے بیچ سے گزرتی یا کڑک چھک کڑک چھک کر کے کوٹری کا پل پار کرتی اور وہ کھڑکی سے جھک کر دودھ پتی سے بھرے سندھو دریا کو موجیں مارتے دیکھتی تو دل کا پیالہ سرور سے بھر جاتا تھا۔ پر اس کی آنکھ اس وقت چھلک اٹھتی تھی جب وہ بالٹی میں برف اور ٹھنڈی بوتلوں کا وزن اٹھائے یا پھر گلے میں دال موٹھ اور ٹافیوں سے بھرا خوانچہ لٹکائے جان جوکھم میں ڈال کر چلتی ٹرین میں ایک ڈبے سے دوسرے کو پھلانگتے ٹرین کے دروازے سے لٹکتے، گرم لو یا سرد ہوا کے تھپیڑے کھاتے، سہ پہر کا آرام تیاگتے اور رات کی نیند حرام کرتے خوانچہ فروشوں کو دیکھتی تھی۔
وہ سوچتی زندگی ان کے لئے اتنی کٹھن کیوں ہے اور اس روز تو بوتل بیچنے والے کو دیکھ کر اس کے حساس دل کا درد اور بھی سوا ہو گیا۔ وہ عالم گیر تھا۔ عالم گیر اس کی امی کے پاس پڑھنے آتا تھا۔ بلا کا کوڑھ مغز تھا یا امی کے پڑھانے میں کسر تھی مجال ہے ایک سطر بھی اس کے بھیجے میں بیٹھے۔ امی قمچی مار مار کے اس کی ہتھیلیاں سرخ کر دیتیں وہ سسکاری بھی نہ لیتا لیکن اس کی آنکھیں ڈوبتے سورج کی طرح سرخ ہو جاتیں وہ زور زور سے سبق یاد کرنے لگتا پر اگلے روز پھر آموختہ صفر۔ صفا چٹ۔ جیسے کبھی پڑھا ہی نہ تھا۔
اس کا شاہانہ نام رکھتے وقت عالمگیر کی ماں نے کیا کیا خواب دیکھے تھے ان کی بڑی خواہش تھی کہ عالمگیر پڑھ لکھ کر بابو بنے اس لئے ہر روز زبردستی اسے امی کی قمچیاں کھانے کے لئے بھیج دیتیں۔ پر ایک دن وہ اکڑ گیا ہرگز پڑھنے نہ جائے گا۔ اماں نے پہلے پیار سے سمجھایا، پھر سونٹا اٹھایا، صلواتیں سنائیں ابا کا ڈراوا دیا مگر وہ اکھرے سانڈ کی طرح ٹس سے مس نہ ہوا۔ ماں باپ بھی تھک ہار کر چپ ہو رہے۔ وہ گلیوں میں آوارہ گردی کرتا رہا کچھ عرصے بعد وہ لوگ حیدرآباد چلے گئے اور آج اتنے برسوں بعد وہ بالٹی میں برف اور کولا کی بوتلیں بھرے چلتی ٹرین کے دروازے سے لٹک کر اس کے کمپارٹمنٹ میں داخل ہوا تھا۔ عالمگیر بھی اسے پہچان گیا تھا۔ اس نے بتایا وہ گرمی میں بوتل اور سردی میں چائے بیچتا ہے۔
اس نے تاسف اور شرمندگی سے کہا۔
” اگر میں استانی جی سے نہ بھاگتا تو کچھ پڑھ ہی لیتا۔ پر اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔ عقل کی باتیں دیر سے ہی سمجھ میں آتی ہیں“ اس نے ٹھٹھا لگا کر اپنا ہی مذاق اڑایا۔
”چھوڑیں آپ بوتل پئیں ٹھنڈی ٹھار۔“ اس نے بوتل نکال کر اوپنر سے دندانے دار ڈھکن اڑایا، بوتل کا منہ ٹشو پیپر سے اچھی طرح صاف کیا اور صباحت کو پیش کی۔ صباحت نے مول دینے کی کوشش کی تو اس نے سختی سے انکار کر دیا اس کی آنکھیں ڈوبتے سورج کی طرح سرخ ہو رہی تھی جانے کون سی قمچی پڑی تھی۔ وہ کولا کی چسکیاں لے رہی تھی اور عالمگیر اس سے استانی جی، محلے داروں، اس کے شہر کی گلی کوچوں کے حال احوال لیتا رہا۔ کوٹری آ گیا تھا اس نے خالی بوتل کندھے سے لٹکے تھیلے میں ڈال کر خدا حافظ کہا اور اسٹیشن کی بھیڑ میں گم ہو گیا۔
صباحت سوچ رہی تھی اگر اس کی امی تدریس کا روایتی ظالمانہ طریقہ نہ اپناتیں تو شاید وہ پڑھائی سے متنفر نہ ہوتا کچھ پڑھ لکھ لیتا تو بابو نہ بنتا، کلرک ہی بن جاتا، یوں گرمی کی لو اور سردی کی ٹھر میں سہ پہر کا آرام اور رات کی نیند نہ حرام کر رہا ہوتا۔ وہ بوجھل دل لئے پلیٹ فارم پر دوڑتے بھاگتے مسافروں میں حلول ہو جانے والے عالمگیر کے لئے ملول ہوتی رہی۔
اسٹیشن پر ماموں جان لینے آئے ہوئے تھے۔ کراچی کی پر رونق سڑکوں سے ہوتی ہوئی ٹیکسی اس کے ماموں کے گھر جا ٹھہری۔ ممانی جان اور کیوٹ کزنز سے مل کر عالمگیر کی کہانی اس کے ذہن سے یوں مٹ گئی جیسے تختہ سیاہ پر نیا سبق لکھنے سے پہلے پرانی عبارت مٹا دی جاتی ہے۔ نعیم اس کی عمر کا ہی تھا لیکن جڑواں فاریہ ماریہ صرف چھ برس کی تھیں۔ پیاری پیاری من موہنی شکل اور دل لبھانے والی معصوم باتیں، جیسے جیتی جاگتی گڑیاں۔ ممانی جان پھر امید سے تھیں اور اس کے آنے سے خوش تھیں کہ گھر کے کاموں میں انہیں مددگار مل گئی تھی۔
اس نے اس بار خوب سیر کی۔ قائد اعظم کا مزار، سمندر اور سفاری پارک۔ پر سب سے زیادہ مزہ اسے چڑیا گھر کی ہتھنی پر سواری میں آیا۔ عید آئی تو ماموں جان نے شاپنگ بھی کروا دی۔ صباحت کو چاند رات کو مہندی لگوانے کا بڑا شوق تھا ممانی جان تو اس بے مہار ہجوم میں جانے کے قابل نہ تھیں اس لئے ماموں جان ہی مہندی لگوانے کے لئے کریم آباد کے مینا بازار لے گئے۔ اسے بتایا گیا تھا کہ مینا بازار میں خواتین ہی دکاندار، خواتین ہی خریدار ہوتی ہیں بالکل ویسے ہی جیسے اس کے شہر میں سال دو سال میں مینا بازار لگتا تھا۔
اس کے شہر کے مینا بازار میں سارے اسٹالوں پر عورتیں ہی فروخت کنندہ اور عورتیں ہی گاہک ہوتی تھی۔ جھولے ہوں یا کٹھ پتلی تماشا ہر جگہ رنگین پیراہن والیاں رونق افزا ہوتیں، گیٹ پر متعین دربانوں کی موجودگی میں کوئی نر پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا تھا رمضانی چھولے والے کو بھی اجازت نہیں تھی جس کی چھولے چاٹ کے بغیر کسی میلے ٹھیلے کا مزہ ہی ادھورا تھا۔ مینا بازار میں رمضانی کی بیوی چاٹ بناتی اور رمضانی قنات کے پیچھے بیٹھ کر برتن دھوتا۔
مردوں کی اجارہ داری اور پردے سے نجات حاصل کر کے خواتین تین روز تک خوب مینا بازار کے مزے لیتیں۔ اب جب ماموں جان مہندی لگوانے مینا بازار لے جا رہے تھے تو اپنے شہر کے مینا بازار کی یاد اس کے تصور میں روشن دیے کی طرح جل اٹھی تھی اور رمضانی کے چھولے کی لذت اس کے کام و دہن میں گھل گئی تھی۔ کریم آباد کے مینا بازار کی بلڈنگ ایسی تھی جیسے عبدل گھی والے کی دکان میں ڈالڈا کے ڈبے ایک دوسرے پر دھرے ہوتے ہیں۔ گراؤنڈ فلور پر تو مرد دکاندار ہی تھے لیکن فرسٹ فلور پر مینا بازار روایتی روپ میں تھا۔
سیڑھیوں پر مردوں کے دخول پر پہرہ دیتے چوکیدار تھے۔ اوپر مہندی چوڑی، چاٹ چوپاٹی، پانی پوری کی دکانیں۔ سب خواتین دکاندار اور صرف خواتین خریدار۔ زیر جامے بے حجابی سے یوں لٹکے ہوئے تھے جیسے پرچون والے کے ہاں دس روپے والے ساشے لٹکے ہوتے ہیں۔ راہداری میں چوبی بنچوں پر، دوپٹے سے بے نیاز، آستینیں اور پائنچے چڑھائے بے فکری سے ہاتھوں اور پیروں پر مہندی لگواتی لڑکیاں بالیاں اور مہندی لگانے والیاں! اف توبہ جیسے ہاتھ نہ ہوں مشین ہوں اتنی تیزی سے اور اتنے خوبصورت بیل بوٹے نقش کرتے اس نے پہلے کبھی نہ دیکھا تھا۔ وہ بھونچکا ہو کر یہ سب نہار رہی تھی کہ دو لڑکیاں اس کی طرف بڑھیں۔ اور فر فر بولے چلی گئیں
”مہندی لگوانی ہے؟ عربی، سوڈانی، انڈین یا گجراتی۔ فل یا ہاف؟ پیروں میں بھی لگوائیں گی؟ ایک نے اس کا بازو تھاما تو دوسری نے جھپٹ کر دوسرے بازو سے گھسیٹ کر کہا“ آپ میرے ساتھ آئیں ”، ۔ پہلی لڑکی نے اسے اپنی طرف کھینچتے ہوئے کہا“ اے نیلی یہ میرا کسٹمر ہے پہلے میں نے بازو پکڑا تھا۔ اپنے بل بوتے پر کام کیا کر، دوسروں کے نوالے نہ جھپٹا کر۔ اس کھینچا تانی سے بولا کر صباحت نے کہہ دیا وہ ابھی مہندی لگوانا نہیں چاہتی۔
اور آگے بڑھ گئی۔ اس نے چھولے کی چاٹ خریدی مگر حیف اس میں رمضانی کے چھولے جیسا ذائقہ کہاں۔ منہ کا مزہ سنوارنے کے لیے اس نے فالودہ آئسکریم لی مگر اس کے شہر کی پنکھے والی ہوٹل جیسی تو بالکل نہ تھی۔ اس ہوٹل کی وجہ تسمیہ یہ تھی کہ گئے دنوں میں ہر میز کے اوپر رنگین کپڑے کے پنکھے لٹکے ہوتے تھے جسے ڈوری سے کھینچ کر جھلا جاتا تھا۔ گو کہ اب برقی پنکھے استعمال ہوتے تھے لیکن اب بھی اس کی پہچان وہی تھی۔ لذت کام و دہن سے فارغ ہو کر وہ ایک مہندی کے اسٹال پر ٹھہر گئی۔
لڑکیاں برق رفتاری سے ہاتھوں اور پیروں پر حسین بیل بوٹے بنا رہی تھیں کچھ خواتین تو کہنیوں تک مہندی لگوا رہی تھیں۔ مہندی لگوانے کے بعد خواتین حنا آلود ہاتھوں کو ’ہینڈز اپ‘ کے انداز میں اونچا کیے ، مہندی بھرے ننگے پیروں، بھیڑ سے بچتی بچاتی سیڑھیاں اتر جاتیں۔ صباحت بھی قطار میں لگ گئی اور باری آنے پر سپید ہتھیلیاں ہری ہری مہندی کی خوشبو سے رچ گئیں جو شاید کسی کیمیکل کی وجہ سے ذرا کی ذرا میں سرخ گلکاری میں بدل گئیں۔
سیڑھیوں سے اتر کر اس نے ماموں جان کی تلاش میں نظریں دوڑائیں وہ قریب کی دکان سے کچھ خرید رہے تھے۔ اسے دیکھ کر چلے آئے۔ رکشہ روکا اور وہ اس میں سوار ہو گئے۔ صباحت نے اپنا بیگ گود میں رکھ لیا۔ مہندی لگوانے سے پہلے اس نے اپنا طلائی کنگن اتار کر بیگ میں رکھ لیا تھا۔ مہندی والے ہاتھوں کی احتیاط کرتے ہوئے کہنی سے پکڑا ہوا تھا۔ صباحت کو یہ خبر نہ تھی کہ کراچی میں چاند رات کو چاند ہی نہیں نکلتا، چور اچکے بھی نکلتے ہیں۔
جیسے ہی رکشہ نے اسٹیڈیم سے آگے موڑ کاٹا، ایک موٹر سائیکل سوار نے چلتے رکشے میں سے بیگ اچکا اور یہ جا وہ جا۔ وہ چلائی ”چور چور کوئی پکڑے“ ۔ لیکن یوں لگتا تھا اس شہر میں سارے بہرے اور اندھے بستے ہیں۔ پل کے پل میں گاڑیوں کے درمیان سے سرکس کی طرح موٹر سائیکل لہراتا، عین تھانے کے سامنے سے فراٹے بھرتا، وہ ہوا ہو گیا۔ وہ حیران تھی پریشان تھی۔ یوں دن دھاڑے کوئی جھپٹے اور نکل جائے۔ اس نے ماموں جان سے کہا وہ سامنے تھانہ ہے۔ رپورٹ کرواتے ہیں۔ ماموں جان جانتے تھے کہ ہونا ہوانا کچھ نہیں لیکن سونے کے کنگن کے دکھ میں روتی دھوتی صباحت کا دل رکھنے کو لے چلے۔
صباحت کے ناداں تصور میں تھا کہ اس کی فریاد پر سپاہی شتابی زین کس کر گھوڑا دوڑائے چور کا پیچھا کر کے اسے جا لیں گے۔ پچھاڑیں گے اور مال مسروقہ برآمد کر کے لے آئیں گے۔ لیکن ابتدائی چند سوالوں کے بعد انہیں باور کرا دیا گیا کہ واردات جس مقام پر ہوئی ہے وہ ان کے تھانے کی حدود میں نہیں آتا بلکہ بنوری ٹاؤن تھانے میں آتا ہے۔ رکشے میں سوار ہو کر بنوری ٹاؤن تھانے کو روانہ ہوئے۔ صباحت نے مہندی کی پروا نہ کرتے ہوئے پتھر ہاتھوں میں اٹھا لیے تھے تاکہ اگر وہ مردود دکھائی دے تو اس کا سر ہی پھوڑ ڈالے۔
استقبالیہ پر موجود پولیس والے دیوار گیر ٹیلی ویژن سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ انہوں نے تو اسی کی سرزنش شروع کردی۔ بی بی آپ کو شہر کے حالات کا پتہ نہیں۔ گود میں مونگ پھلی کے لفافے کی طرح پرس رکھ کر اچکوں کو تو خود آپ نے دعوت دی۔
”مجھے کیا پتہ۔ میں تو اس شہر میں مہمان ہوں“
”اچھا کہاں سے آئی ہیں۔ جہاں کوئی چور اچکے نہیں ہوتے“
”ہمارے ہاں کے ڈاکو مشہور ہیں“ اس نے سادگی سے کہا
اچانک سارے پولیس والے اٹنشن ہو گئے اور ان کے ہاتھ ماتھے پر سلوٹ کے انداز میں جا ٹکے۔
وہ اس انداز مودبانہ کو سمجھنے کی کوشش ہی کر رہی تھی کہ ایک خاتون پولیس افسر کاؤنٹر کے پاس آ ٹھہریں۔ انہوں نے اس سے آمد کا سبب پوچھا۔ صباحت نے داستان غم دہرا دی۔ انہوں نے رپورٹ درج کرنے کی ہدایت دی اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئیں۔ رپورٹ لکھوا کر وہ لوگ صدر دروازے کو بڑھنے کو تھے کہ اسے بتایا گیا میڈم نے آفس میں طلب کیا ہے۔ وہ قدرے حیران اور ماموں جان پریشان ہوئے۔ اے ایس پی صاحبہ کے دفتر میں داخل ہونے پر حیرانی بے یقینی کو چھونے لگی، جب انہوں نے بیٹھنے اور اردلی سے چائے لانے کو کہا۔
”کیسی ہو صباحت؟“ ۔ انہوں نے ایسی بے تکلفی سے کہا جیسے پرانی شناسائی ہو۔
”، جی میں ٹھیک ہوں“ اس نے سفید جھوٹ بولا
”مجھے پہچانا؟ میں نورجہاں ہوں“ ۔ اے ایس پی صاحبہ نے کہا تو صباحت کو ہونقوں کی طرح دیکھنے کے سوا کچھ نہ سوجھا
”بھئی تمہارے پڑوس میں رہتے تھے۔ تمہاری امی سے قرآن شریف پڑھنے آتے تھے“، صباحت کا سر گھوم رہا تھا اسے صرف ایک نورجہاں یاد آ رہی تھی جو عالمگیر کی بڑی بہن تھیں۔ بھلا عالمگیر کی بہن، ایک غریب شخص کی بیٹی، یہاں اس نشست پر براجمان پولیس افسر کیسے ہو سکتی تھیں جبکہ عالمگیر ریل گاڑی میں ٹھنڈی بوتل بیچ رہا تھا۔
اسے تذبذب میں دیکھ کر انہوں نے کہا ”تمہین شاید میں یاد نہیں۔ عالمگیر تو یاد ہو گا وہ تمہاری ہی عمر کا تھا۔“
اب کسی شبے کی گنجائش نہیں رہی تھی۔ وہ عالمگیر کی بڑی بہن ہی تھیں۔ ان کے ابا کو شاہانہ نام رکھنے کا شوق تھا۔ عالمگیر سے بڑی تین بہنوں کے نام نورجہاں، ارجمند اور رضیہ سلطانہ تھے۔
ایک بار پھر اس کے محلے اور گھر والوں کی خیر خبر لی جانے لگی۔ اب فضا میں اپنائیت گھل گئی تھی۔ اے ایس پی کے دبدبے کی جگہ برسوں بعد ملنے والے کسی اپنے کے نرم خو احساس نے اپنے ہالے میں لے لیا تھا۔
”آپ بھی تو اپنے بارے میں بتائیے“ ۔ اس نے عالمگیر سے ملاقات کا ذکر کرنا مناسب نہ سمجھا۔
نورجہاں باجی جیسے ماضی کے جھروکوں سے جھانکتے ہوئی بولیں
”ابا کو اپنے نصیب سے گلہ تھا کہ پہلے بیٹیاں کیوں پیدا ہوئیں۔ اکثر اپنے قلق کا اظہار کرتے کہ سارے بہن بھائیوں کے پہلوٹھی کی نرینہ اولاد ہے اور ان کے ہاں تین بیٹیوں کے بعد بیٹا ہوا ہے۔ وہ کیسے بیٹیوں کا اکیلے بوجھ اٹھائیں گے کون ان کا سہارا بنے گا۔ میں ان سے کہتی اگر بیٹیوں کو بھی اچھی تعلیم کے مواقع دیے جائیں انہیں پرایا دھن سمجھ کر ان کی تعلیم پر پیسہ خرچ کرنے کو زیاں نہ سمجھا جائے تو بیٹیاں بھی سہارا بن سکتی ہیں۔ جب بیٹیاں تعلیم یافتہ اور ہنر مند ہوں، اپنے پیروں پر کھڑی ہوں تو خود اعتماد ہوں گی ۔ اپنی زندگی بھی سنوار سکتی ہیں اور ماں باپ کی مدد سے انہیں کون روک سکتا ہے۔ بالآخر ابا قائل ہو گئے۔ میں نے ماسٹر کیا پھر مقابلے کا امتحان پاس کیا اور اب حال ہی میں میری یہاں پوسٹنگ ہوئی ہے۔
چائے آ گئی تھی۔ اردلی نے چائے کی پیالیاں ان کے سامنے رکھیں۔ چائے کی خوبصورت پیالیوں اور طشتریوں کی کھنک میں جانے کیوں صباحت کو ٹھنڈی بوتلوں کی چھنک سنائی دے رہی تھی۔

