چند اسلامی نظریات کا پوسٹ مارٹم

علامہ اقبال نے نظم شکوہ میں لکھا تھا۔ رحمتیں ہیں تیری اغیار کے کا شانوں پر ۔ برق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پر
لیکن ایک تو ہم پشتون لوگ ویسے بھی اردو میں مذکر مونث کا زیادہ خیال نہیں رکھ سکتے یعنی ان کو سمجھتے نہیں۔ مگر میں جس برق کا ذکر کرنے لگا ہوں تو وہ واقعی مذکر ہے۔ اور جس محفل میں بھی جاتے ہیں تو لوگ پہلو بچاتے ہیں کہ کہی برقی خیالات ان پر نہ گرے۔ کیونکہ اس مرتبہ اپنی کتاب (پختون) میں سعد اللہ جان برق نے مسلمانوں کے چند بنیادی نظریات کی دھجیاں اڑا دی ہے اور مجھے یقین ہے کہ اس کالم کی اشاعت سے ایک صحت مندانہ مباحثہ شروع ہو گا۔
یا تو مسلمان مورخین و علماء کو اپنی نظریات سے رجوع کرنا ہو گا یا پھر سعد اللہ جان برق کو مدلل انداز میں جواب دے کر قائل کرنا ہو گا۔ کیونکہ سعد اللہ جان برق ادب صحافت تاریخ و تنقید کی ایک ایسا توانا آواز ہے جس کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اس لئے میں علامہ اقبال سے معذرت کے ساتھ اس شعر کے مصرعہ ثانی میں ترمیم کر کے کہہ سکتا ہوں۔ برق گرتا ہے تو بے چارے مسلمانوں پر ۔
سعداللہ جان برق تاریخ ادب صحافت شاعری ڈرامہ تنقید اور کالم نگاری کے استاد اور درجنوں کتابوں کے مصنف ہیں۔ عمر کے اس حصے میں ہے جسے نہ شہرت کا شوق دامن گیر ہے نہ دولت کا ۔ سالہا سال سے اپنے آبائی زرعی زمین میں لہلہاتے کھیتوں کے بیچ رہ کر پڑھتے ہیں لکھتے ہیں۔ اور فطرت کی سچائیوں چرند پرند اور پودوں سے باتیں کرتے ہیں۔ چند ماہ قبل پانچ سو پچپن صفحات پر مشتمل اس کی شائع ہونے والی کتاب۔ پختون (تاریخ، ثقافت اور جغرافیہ) میرے ہاتھ میں ہے۔
اگرچہ اس کتاب کے آخری حصے میں انھوں نے جدید طبیعات اور ڈی این اے کے سائنسی ماہرین کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے کہ پختون کا تعلق بنی اسرائیل سے نہیں بلکہ آریا سے ہے پختون مخلوط النسل ہے اور ان کا تعلق دنیا کے قدیم ترین انسانوں میں سے ہے۔ اس حوالے سے اگر کسی کو مزید سمجھنے کی ضرورت ہو تو وہ کتاب سے رجوع کرے۔ وہاں تفصیلی اور دلچسپ معلومات ملے گی۔
مگر جس چیز نے مجھے اس کتاب میں پیش کیے گئے خیالات پر کالم لکھنے پر مجبور کیا وہ پختونوں کی تاریخ نہیں وہ مسلمانوں میں صدیوں سے سینہ با سینہ چلتی ہوئی وہ نظریات و خیالات ہے جو اب ایک طرح سے مسلمانوں کے عقیدے کی شکل اختیار کرچکی ہے۔ مثلا۔ فرشتوں کے ذریعے حضرت آدم ؑ کی بناوٹ، ان کی پسلی سے حضرت حواء ؑ کی پیدایش۔ شیطان اور ابلیس میں فرق اور ان کی طاقت اور وہ کون سی جنت تھی جس میں حضرت آدم ؑ کو رکھا گیا تھا۔
برق صاحب لکھتے ہیں ملائکہ کوئی الگ مخلوق نہیں ہے۔ فرماتے ہیں قصص الانبیاء اسرائیلی کہانیوں پر مشتمل ہے اس میں زیادہ تر قصے کہانیاں خود ساختہ ہے۔ آدم پہلا انسان نہیں ہے۔ اسلام میں چار شادیوں کی اجازت صرف بیواؤں کے ساتھ ہے کنواری لڑکیوں کے ساتھ نہیں۔ لکھتے ہیں ہمارے علماء نے ابلیس کو خدا کے مقابلے کی چیز بنا دیا ہے۔ حالانکہ وہ آدم کے مقابلے کی چیز ہے بلکہ نماز میں بھی خود ساختہ اضافہ کر کے شیطان کے نام کو اللہ تعالی کے نام سے پہلے ڈال دیا ہے۔
بقول ان کے تعویز قرآنی کلمات نہیں ہے اللہ تعالی نے بسم اللہ الرحمن الرحیم کا حکم دیا ہے۔ برق صاحب لکھتے ہیں تاریخ کی کتابیں مستند نہیں ہیں کیونکہ وہ اشرافیہ کی تاریخ ہوتی ہے۔ انھوں نے اپنی کتاب میں جگہ جگہ قرآنی آیات کے حوالے دیے ہیں اور ان میں سے بعض کی تشریح اور تفسیر بھی پیش کی ہے مگر احادیث سے رجوع نہیں کیا ہے۔ بلکہ ایک جگہ احادیث کی صحت پر بھی سوال اٹھایا ہے۔ میں نے کتاب کو ایک قاری کی حیثیت سے پڑھا ہے اور ایک لکھاری کی حیثیت سے اس کے چند اقتباسات آپ کے ساتھ شیئر کر رہا ہوں۔ نہ میں ان کے خیالات پر تنقید کرتا ہوں نہ اس کی تائید کیونکہ یہ اہل علم کا کام ہے بحیثیت صحافی میرا مقصد ایک صحت مندانہ مباحثے کو شروع کرنے کے لئے سوال اٹھا نا ہے۔ میں نے سوال اٹھائے اہل علم اس کا جواب دے دیں۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ برق صاحب کس صفحے پر کیا ارشاد فرماتے ہیں
کتاب کے صفحہ نمبر دو سو ایک پر رقمطراز ہے۔ (موجودہ رائج الوقت بلکہ دو نمبر کے اسلام اور قرآن میں اسرائیلیات مجوسیات اور فضول خرافات اتنی زیادہ داخل کی جا چکی ہے۔ کہ قرآن کا اصل مغز اور مقصد دونوں کہیں نیچے بہت نیچے دب چکے ہیں اور قرآن نے آٹھ سو آیات میں مسلمانوں کو جو ہدایت کی ہوئی ہے اسے پکا پکا کفر کے خانے میں ڈالا جا چکا ہے۔ یہاں تک کہ کار دنیا کو کفر اور گناہ عظیم قرار دیا جا چکا ہے۔ ان آٹھ سو آیات کو ہاتھ لگانا بھی ممنوع ہے۔
کیونکہ ان کے تمام حقوق کافروں کو بیچے جا چکے ہیں۔ وہ ان آٹھ سو آیتوں کے مطابق کائنات موجودات زمین آسمان چاند ستاروں بحر و بر اور ہر ہر چیز میں خدا کی نشانیاں ڈھونڈ رہے ہیں پا رہے ہیں اور دنیا جہاں کی نعمتیں ان میں سے حاصل کر رہے ہیں اور مسلمان اپنے منتخب کردہ ڈائی سو آیات کو ایک دوسرے کو لڑانے فرقے بنانے ایک دوسرے کو کافر بنانے اور باہم دیگر مشت و گریباں کرنے کا کام کر رہے ہیں ) ۔
کتاب کے صفحہ نمبر بائیس پر لکھتے ہیں (جب مختلف جنگوں میں بہت سے لوگ شہید ہو گئے اور یتیموں اور بیواؤں کی تعداد بہت زیادہ ہو گئی تو ، سورۃ نساء، میں رب جلیل کی طرف سے حکم آیا یہ وہی سورتیں اور آیتیں ہیں جن سے، چار، بیویوں کا جواز نکال کر بیچارے پابند غلام اور دست نگر، ملا، نے امیر امراء اور عیاش لوگوں کا دل پسند، جواز، نکالا ہے حالانکہ آیت میں صرف بیواؤں سے شادی کی اجازت ہے۔ آگے لکھتے ہیں دونوں طرف سے عدل کے ساتھ مشروط اس آیت کا اصل مقصد و معنی ہی، عدل، ہے اور اجازت کی بنیاد بیواؤں اور یتیموں کے اموال میں عدل ہے۔
اس آیت بلکہ اس سے آگے پیچھے کی کسی بھی آیت سے بیویوں کا مطلب سوائے، بیواؤں، کے اگر کوئی نکالتا ہے تو ظلم کرتا ہے اللہ کی ہدایت کی نفی کرتا ہے۔ درجہ بالا آیت میں کنواری بیوی کی گنجائش ذرہ بھر بھی موجود نہیں کہ دوبارہ بھی عدل کی شرط ہے۔ اور کوئی انسان کتنا ہی عادل کیوں نہ ہو ایک بوڑھی عورت اور ایک نوجوان عورت میں عدل برقرار نہیں رکھ سکتا۔ اگر غرض صرف عورت ہو تو بیوی صرف اس لئے کی جاتی ہے کہ پہلی بیوی ناکافی ہوتی ہے تو کافی اور ناکافی میں عدل ممکن ہی نہیں۔
صفحہ نمبر دو سو آٹھ پر لکھتے ہیں۔ (قصص الانبیاء نامی کتاب میں دنیا بھر کے اساطیری اور ہوائی کہانیاں جمع کی گئی ہے۔ جن کا نہ قرآن سے کوئی تعلق ہے نہ عقل سے، صرف بچگانہ اور فرضی کہانیاں ہیں۔ وہ بھی کسی ناقص ذہن کی پیداوار، اندازہ اس سے لگائیں کہ یہ زمین ایک بیل کے سینگ پر ٹکی ہوئی ہے بیل ایک کچھوے پر ٹھہرا ہے، بیل جب تھک کر سینگ بدلتا ہے تو زلزلہ آتا ہے ) وغیرہ
صفحہ نمر دو سو چونتیس پر لکھتے ہیں (ملائکہ کوئی الگ مخلوق ہے ہی نہیں بلکہ ہر ہر وہ چیز اور خدا کی ہر ہر مخلوق کے اندر جو صفت یا تاثیر یا ملکہ ہے وہی ملائک ہیں زہر میں مارنے کی ملکہ ہے اور یہی اس کی عبادت اور فرمانبرداری ہے۔ جبکہ تریاق میں شفاء اس کی عبادت ہے اور اگر یہ دونوں یہ کام نہ کرے یعنی زہر نہ مارے اور تریاق شفاء نہ دے تو یہ ان دونوں کی بغاوت ہے۔ ) صفحہ دو چھتیس پر مزید لکھتے ہیں مسلمانوں میں جبرائیل کو بھی دوسری بہت ساری اسرائیلیات کی طرح سمجھا اور سمجھایا جاتا ہے ۔ لیکن اسلام میں ملائکہ کا وجود اور تصور یا استعارہ ہی جدا ہے
فارسی لفظ فرشتہ بھی فرستادہ سے بنایا ہے، لیکن ان فرشتوں کو کسی بھی صورت مانا جائے اور کوئی بھی کام تفویض کیا جائے اس سے خدا کی محتاجی کمزوری اور تضحیک لازم آتی ہے۔ جبکہ قرآن اور اسلام کا خدا کسی بھی محتاجی اور کمزوری سے ماوری ہے وہ، الصمد، ہے لم یلد و لم یولد اور کفوا احد ہے۔ جاری ہے
ابلیس کے حوالے سے صفحہ نمبر دو سو سینتیس پر رقمطراز ہے۔ (ابلیس بھی ایک ایسا نام ہے جس کے گرد طرح طرح کی کہانیوں کے رنگین دائرے اور رنگ بھکرے ہوئے ہیں جمہوریت اور عیسائیت میں تو اسے اتنی بڑی چیز بنایا گیا ہے کہ خدا بھی اس کے آگے بے بس دکھائی دیتا ہے، بہت سارے ایسے کام جو خدا نہیں کر سکتا یا نہیں کرتا، وہ ابلیس کر دیتا ہے۔ نعوذ با للہ اور یہی اثر اسرائیلیات کے راستے مسلمانوں میں بھی آیا ہے حالانکہ قرآن میں ابلیس خدا کے مقابل کی نہیں بلکہ آدم کے مقابل کی ہستی یا حریف ہے لیکن رعب اور تاثیر کا یہ عالم ہے کہ ابلیس کا نام خدا سے بھی پہلے لیا جاتا ہے۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم تو قرآن اور وحی کے الفاظ ہے اور قرآن کے ہر سورت کی ابتدا، سوائے ایک کے، انہی الفاظ سے ہوتی ہے لیکن عام اسلامی معاملات یا تلاوت میں بسم اللہ سے پہلے اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم لازما پڑھا جاتا ہے جو قرآنی الفاظ نہیں ہے۔ لیکن قرآن کی تلاوت کا حصہ بلکہ ابتدا بنا دیے گئے ہیں اور عقیدت یا محبت یا مرعوبیت دیکھئے کہ اس وزن بحر اور مشابہ الفاظ میں جو اللہ تعالی نے وحی کے ذریعے قرآن کا حصہ بنا کر فرمائے ہیں۔ تعجب ہوتا ہے کہ جب خدا کا نام لینے کا حکم ہے اور اللہ کا نام لینے کے ساتھ کوئی گنجائش ہی نہیں رہتی ہے، یہ الفاظ اللہ کے نام سے پہلے کیوں؟ بدی اور برائی سے سہی نام تو پہلے آ گیا) ۔
صفحہ دو سو اڑتیس پر لکھتے ہیں (یہ بھی ایک کمال کی قرآن فہمی ہے کہ ابلیس اور شیطان کو ایک سمجھا گیا ہے جو غلط ہے۔ ابلیس صفت ہے مزاج ہے سرشت ایک سوچ اور نظریہ ہے کوئی ہستی یا شخصیت نہیں اور شیطان یا شیاطین موصوف، یعنی ابلیس مزاج رکھنے والے انسان۔ جس طرح آدم ہستی نہیں انعام یافتہ انسانوں کا گروہ ہے اسی طرح ابلیس بھی ہستی نہیں بلکہ ٹھکرائے ہوئے انسانوں کا مزاج ہے، قرآن میں دیکھئے تو ابلیس کے ساتھ جمع کہیں نہیں آئے گا لیکن شیطان کی جمع شیاطین) ۔
صفحہ نمبر دو سو چالیس پر لکھتے ہیں (یہ سارہ چکر انسان کا اپنا تصور اور خدا کو بھی اپنی طرح سمجھنے کا نتیجہ ہے اور قدیم اساطیری کہانیاں ہیں، اللہ تعالی نے بگ بینگ یا کن سے ایک ایسے خود کار نظم کو چلایا ہے جس سے ہر چیز اپنی جگہ اپنی پروگرامنگ کے مطابق چلتی ہے اور چل رہی ہے۔ حضرت آدمؑ کی تخلیق کی کہانی میں بھی گویا رب جلیل ایک مرتبہ پھر ویسا ہی، ناکام، تجربہ کرنے جا رہا ہے جو نعوذ با اللہ اس سے پہلے بھی کئی بار کر چکے ہیں۔
اور خاکم بدہن ملائیکہ اتنے زیرک دانش مند اور دوربین ہیں کہ خدا کو ایک اور ایسا ناکام تجربہ کرنے سے روک رہے ہیں۔ کل ملا کر بین السطور سے یہی مطلب نکلتا ہے کہ نعوذ باللہ خدا ایک مرتبہ پھر زمین پر ایک غلطی کرنے جا رہے ہیں جو پہلے کئی بار کر چکے ہیں، مطلب یہ کہ ملائکہ خدا سے زیادہ سمجھدار اور عاقل ہیں نعوذ با للہ۔
آگے لکھتے ہیں یہ پوری کائنات مادہ اور توانائی کے، زوج، پر چلتی ہے اور یہ دونوں ازواج یعنی مادہ اور توانائی ایک دوسرے میں بدلتے بھی ہے اور ایک دوسرے کو پیدا بھی کرتے ہیں۔ مثلاً بجلی توانائی ہے مگر تار (مادہ) کے بغیر کچھ بھی نہیں۔ اب یہ کیسے ثابت کیا جاسکتا ہے کہ جنات یا ناری مخلوق بیک وقت دیدہ بھی ہے نادیدہ بھی۔ یا اس کے اختیار میں ہو کہ جب چاہے ظاہر ہو جب چاہے غائب ہو، کم ازکم قانون فطرت یا سنت الہی کے مطابق تو ایسا ممکن نہیں، باقی قصہ کہانیوں میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔
صفحہ نمبر دو سو تینتالیس پر لکھتے ہیں۔ (تفسیر ابن کثیر میں آیا ہے کہ تخلیق آدم سے پہلے ابلیس سلطان الارض تھا۔ لیکن اس قسم کی ساری باتیں یا تو بے بنیاد اور اسرائیلیات کا نتیجہ ہوتی ہے یا استعاراتی ہوتی ہے لیکن کل ملا کر قرآن کے بشر، انس اور انسان کے مراحل اور یا اس سے پہلے کے ارتقائی منازل پر منطبق ہوتی ہے اگر آدم ہی پہلا انسان تھا تو پھر قرآن میں جو انسان کو مخاطب کرتے ہوئے مختلف قسم کی پیدائیشوں کا ذکر ہے وہ کیوں ہے؟ جو کم از کم اس بات کی تو تردید کرتی ہے کہ آدم پہلا انسان تھا۔ )
حضرت آدم ؑ کی جنت کے حوالے سے صفحہ نمر دو سو پینتالیس پر لکھتے ہیں (جہاں تک قرآن کا تعلق ہے اس میں تو کئی باغات یا جنتوں کا ذکر ہے، جیسے دو بھائیوں کا باغ، کھجوروں انگوروں اور اناروں کے باغ، لیکن بہت زیادہ اہمیت دو باغوں یا جنتوں کی ہے ایک وہ جنت الماوی جو مرنے کے بعد مومنوں کی رہائش گاہ ہوگی، اور دوسری وہ جس میں آدم کو رکھا گیا تھا اور پھر نکالا گیا۔ اکثر ان دونوں کو ایک ہی جنت الماوی سمجھا اور سمجھایا جاتا ہے لیکن یہ دونوں قطعی الگ الگ باغ ہیں۔
آگے لکھتے ہیں کہ خلیفہ مقرر ہونے اور مختلف اشیاء کے نام لینے کے امتحان میں کامیابی کے بعد انہیں اپنی ریاست میں خلیفہ کی ڈیوٹی جوائن کرنی تھی انہیں دور دراز جنت میں کیوں رکھنا تھا۔ ) اسی کہانی میں شجر سے گندم مراد لینے حوا کی اکسانے وغیرہ کو بھی اسرائیلیات کی کہانی کہتے ہیں فرماتے ہیں کہ قرآن سے اس قصے کا کوئی تعلق نہیں۔ حضرت آدم ؑ کی جنت کے حوالے سے صفحہ نمبر دو سو اڑتالیس پر لکھتے ہیں۔ (ہمیشہ موسم بہار، خوبصورت چشمے، وافر پھل اور پھول، جنگلات اور باغات یہ ساری نشانیاں اسی ہندو کش یا پورے سلسلہ کوہ کش، کوہ قاف کی ہیں جو حقیقت میں روئے زمین پر جنت تھی بلکہ اب بھی ہے۔ طبیعاتی، ارضیاتی اور بشریاتی روشنی میں یہ وہ زمانہ تھا جب آبادی کم اور خوراک وافر تھی، انسان جہاں سے جو چاہتا ہاتھ بڑھا کر کھا لیتا۔ قرآنی الفاظ ہیں۔ ، کہ تم اپنے زوج کے ساتھ اس میں رہو اور جتنا چاہو جی بھر کر کھاوبا فراغت کھاوبے فکر ہو کر کھاؤ۔ )
مزید لکھتے ہیں (کہ اس آیت میں زوج سے مراد حضرت حواء بالکل نہیں بلکہ اس سے مراد شیطان ہے کیونکہ آدم خیر اور شیطان شر ہے۔ اور یہاں شجر سے مراد وہی ابلیسانہ مزاج تھا یعنی حکم یہ تھا کہ خیر پر قائم رہو اور ابلسیت کے شجر کے قریب بھی مت جاؤ۔ سیدھی سی بات ہے کہ اس باغ یا وادی یا ارض میں رہو یہ تمہارا منفی زوج بھی رہے گا سب کچھ کھاؤ پیو مگر اس کی قربت مت اختیار کرو ورنہ تم بھی اس کے جیسے ظالم ہو جاو گے۔ اور ایسا ہی ہوا۔ آدم کے گروہ یا اولاد کے کچھ لوگ ان کی قربت کی وجہ سے ہو بھی گئے تھے اور نتیجے میں آدم یا اولاد آدم کو اس جنت سے نکلوانے لگے اور وہ بے چارے اس جنت سے نکل کر خروجوں کی شکل میں بھوک سے مجبور ہو کر نکلنے لگے )
آخر میں صرف اتنا لکھوں گا کہ عام قاری اس کالم یا برق صاحب کی کتاب پر جذباتی رائے زنی سے گریز کرے تو بہتر رہے گا کیونکہ یہ کالم اور برق صاحب کی پوری کتاب اہل علم و دانش کے لئے ایک کھلا چیلینج ہے۔ مذہب اسلام کے ماہرین مورخین و محققین کو چاہیے کہ وہ یا تو دلیل و ثبوت کے ساتھ آگے آ کر مسلمانوں میں رائج نظریات کی حفاظت کرے یا پھر برق صاحب کی منطقی باتوں اور دلائل کو سچ مان کر رائج نظریات سے رجوع کرے۔ مجھے امید ہے کہ میری کوشش کو برق صاحب اور تمام اہل علم مثبت انداز میں میرا اٹھایا گیا قدم قرار دیں گے۔ اور میری کسی بھی کوتاہی پر مجھے معاف فرمائیں گے۔


Please look up Atta Bukhari YouTube channel where similar views have been expressed. While on YouTube please listen to a few videos of G A Parwez.
شمس صاحب بہت اعلی ذوق ہے آپ کا جو اتنی محنت کی ہے۔ آج اس طرزِ فکر کی ازحد ضرورت ہے۔برق صاحب تو کمال نکلے جونسلی و روایتی ملائییت پر تلوار پھیر دی۔ قرآن صرف اور صرف انسان کے لیئے انسٹرکشنز ہیں نہ کہ متذکرہ قصے کہانیاں یا پوجا پاٹ۔ انسٹرکشنز ہیں ہی یہی کہ دنیاوی زندگی میں خود بھی سکون سے جیئیں اور اپنے آس پاس کے انسان حیوان چرند پرند حتی کہ کوئی بھی وجود جو ہم سب کے لیئے اجتماعی مفید ہو کا لحاظ و خیال رکھا جائے۔ یہ موجودہ مسجد ممبر خطابت نماز روزے سب پوجا پاٹ ہیں جو کسی طور دینِ اسلام کا حصہ نہیں ہیں بلکہ مولویوں کی اپنی ذاتی فایدہ کیلیئے اختراع کی ہوئی خودغرضانہ چال ہے۔ نبی ع کے دور میں مسجد کا مقصد صرف اجتماعی کمیونٹی کا قیام تھا کہ اجتماعیت مقصود تھی۔ جبکہ آج کل کے مسجد سارے کے سارے مساجد ضرار ہیں جو اجتماعیت نہیں بلکہ انفرادیت کے مراکز ہیں اور اجتماعیت کو فرقوں میں تقسیم کرکے ایک دوسرے کے خلاف نفرت بو کر دنگا فساد نفرت قتل و غارت گری کو ہوا دیتے ہیں۔ قرآن میں کسی مولوی کا کوئی وجود نہیں بلکہ قرآن نے عالم انہیں کہا ہے جوکائینات ميں غوروفکر کرکے فلاح کے کام کرسکیں اور درحقیقت ایسے عالم سائینسدان ہی ہیں جن کے فلاح کے کارنامے اور کائناتی غوروفکر کا ہر صاحب ذی ہوش انسان گواہ ہے۔