عالمی عدالت جرائم
17 جولائی یوم عالمی عدالت جرائم کے طور پر منایا جاتا ہے۔ آئی سی سی کا قیام 1998 میں عمل میں آیا یہ ایک آزاد ادارہ ہے جہاں عالمی برادری کے خلاف انتہائی سنگین جرائم کے الزامات پر مقدمہ چلایا جاتا ہے۔ کوئی بھی ملک ملزمان پر اپنے یہاں مقدمہ چلا سکتا ہے۔ آئی سی سی اس وقت کارروائی کرتا ہے جب کوئی ملک کارروائی کرنا نہ چاہتا ہو۔ اس ادارے کا مقصد نسل کشی، جنگی جرائم، جرائم جارحیت کا خاتمہ تھا۔ دراصل 17 جولائی ان تمام کو ایک جگہ اکٹھا ہو نے کا موقع بھی دیتا ہے جو ظلم و ستم، نا انصافی، زمین و وسائل پر طاقت کے زور پر قبضہ جیسے جرائم کو ختم کر کے امن و آشتی کو فروغ دینے کے خواہشمند ہوں۔
آئی سی سی کی اپنی کوئی پولیس فورس نہیں اس لئے ملزمان کو پکڑنے کے لئے متعلقہ ملک پر انحصار کیا جاتا ہے۔ اس کے رکن ممالک میں اب تک 123 ممالک شامل ہیں لیکن کیا آپ یقین کریں گے دنیا میں امن کا پرچم تھامے خود کو امن کا سب سے بڑا حامی گرداننے والا امریکا اس فہرست میں شامل نہیں جبکہ اسرائیل، بھارت، چین، روس جیسے ممالک بھی اس کا حصہ نہیں اب آپ خود اندازہ کر لیجئیے کہ ایسے میں آئی سی سی کی اہمیت، حیثیت اور وسعت کیا ہوگی اور اس کا زور کن ممالک پر چلتا ہو گا۔
شاید اسی لیے آئی سی سی کے کریڈٹ پر اب تک زیادہ کامیابیاں بھی نہیں ہیں۔ 2012 میں کانگو کے جنگجو سردار تھامس لوبانگا اس ادارے کی جانب سے سزا پانے والے پہلے شخص تھے جبکہ 2016 میں یوگو سلاویہ کے سابق صدر رادووان کراڈچ کو جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم میں ملوث قرار دیا گیا تھا۔ لیگ آف نیشن ہو، اقوام متحدہ، سلامتی کو نسل، آئی سی جے ہو یا آئی سی سی عملاً یہ تمام ادارے اور تنظیمیں بڑے طاقتور ممالک کو ان کی لاقانونیت، ظلم و جبر، انسانیت سوز سلوک کو قانون کے زیر اثر لانے میں ناکام ہیں۔
اقوام متحدہ کے اعدا و شمار کے مطابق 2008 سے 2020 تک کے اختتام پر اسرائیلی حملوں میں 5 ہزار 590 فلسطینی شہید ہوئے۔ الجزیرہ کے مطابق اسرائیلی ریاست کے قیام کے فوری بعد ساڑھے سات لاکھ فلسطینی اپنا ملک چھوڑ کر مصر، اردن، عراق، لبنان، اور شام جانے پر مجبور ہوئے تقریباً ڈیڑھ لاکھ فلسطینی اس سر زمین پر رہ گئے ہیں جن کے ساتھ ظلم و بربریت کا سلسلہ آج بھی جاری ہیں جبکہ مغربی پٹی صیہونی ریاست کی جانب سے فلسطینیوں کے گھر مسمار کر کے 100 سے زائد یہودی بستیاں قائم کی جا چکی ہیں۔
گزشتہ برس عالمی فوجداری عدالت نے فیصلہ دیا تھا کہ اسے مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر بھی دائرہ اختیار حاصل ہے جس کے بعد عالمی ٹریبونل کے لیے اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کی تحقیقات کرنے کا راستہ ہموار ہو گیا ہے۔ جسے فلسطینیوں نے خوش آئند فیصلہ قرار دیا تھا جبکہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے آئی سی سی کے اس فیصلے کے بعد اسے ایک ’سیاسی ادارہ‘ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی۔ امریکہ نے کہا ہے کہ اس فیصلے پر اسے ’شدید تحفظات‘ ہیں۔
آئی سی سی کی پراسیکیوٹر بینسودا نے پانچ سال کی ابتدائی تحقیقات کے بعد مبینہ جنگی جرائم کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کی تحقیقات کا مطالبہ کرنے والی پراسیکیوٹر اور آئی سی سی کے ایک اور سینیئر عہدیدار پر پابندیاں عائد کر دی تھیں۔
اسی طرح 1947 سے مقبوضہ کشمیر پر ظلم کے جس سلسلے کا آغاز ہوا تھا وہ اب بھی بلا روک ٹوک پوری آب و تاب سے جاری ہے جس میں وقت گزرنے کے ساتھ تیزی تو آئی لیکن نہ دنیا کی آنکھیں کھلیں اور نہ ہی وہ خواب غفلت سے جاگ سکے۔ 2019 سے اب تک بھارتی فوج 639 کشمیریوں کو شہید کر چکی ہے، ہزاروں کو بینائی سے محروم، لاکھوں کو بے گھر اور بے شمار ماؤں بہنوں کو عصمت دری کا نشانہ بنا چکی ہے لیکن ان کے حوصلے پست کرنے میں بری طرح ناکام ہے۔ پوری دنیا اس بات کا اقرار بھی کرتی ہے کہ بھارت کی مقبوضہ کشمیر میں در اندازی نسل کشی کے سوا کچھ نہیں لیکن بھارت کا ہاتھ پکڑنے کی جرات کسی میں بھی نہیں کیونکہ تمام سپر پاور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے لئے ایک پیچ پر ہیں۔ اس لیے آئی سی سی کا کردار محض دھوکے کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔
آئی سی سی اس وقت کارروائی کرنے کا کلی مجاز ہے جبکہ وہ ملک خود کارروائی نہ کرنا چاہتا ہو ایسے میں 75 سال سے مقبوضہ کشمیر میں اپنے حق کے حصول کی تحریک ہو یا 70 سال سے فلسطین میں اسرائیل کی بے رحمانہ دراندازی ہو، مسئلہ ملک شام کا ہو یا یمن میں مظلوموں کی آہ و بکا ہو، افغانستان میں سپر پاور کی ریشہ دوانیاں ہوں یا عراق میں کشت و خون کرنے کی سازش، ایک ملک ہر جگہ بالواسطہ یا بلا واسطہ نظر آتا ہے یا یوں کہیں کہ اسرائیل کا ٹاوٹ امریکا دنیا میں خونریزی، بدامنی، پھیلانے میں اپنا کردار نبھاتا رہا ہے لیکن امریکہ کی اس دراندازی، من مانی پر نہاد انسانی حقوق کے اداروں و تنظیموں، بین الاقوامی عدالت یا عالمی جرائم عدالت کی خاموشی خود ایک جرم ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ ان اداروں کی اس مجرمانہ خاموشی پر آواز کون اٹھائے گا؟ کون ان اداروں کو ان کی ذمہ داریاں یاد دلائے گا؟ ان اداروں کے قیام سے لے کر اب تک انسانی و مالی نقصان کے ذمہ دار ان اداروں کو سزا کے کٹھہرے میں کون لائے گا؟ کیا واقعہ ایسا ادارہ بن پائے گا جو بلا شرکت غیرے اپنے فرائض کی انجام دہی کرسکے؟ یا یہ نام نہاد ادارے اسی طرح برسوں آنکھیں بند رکھنے کے بعد لمبی لمبی تحقیقات کا حکم دے کر جابر حکمرانوں کو پھر کئی برس کی آزادی دے کر ظلم و ستم کا سلسلہ تیسری دنیا کے ساتھ جاری رکھیں گے۔
عالمی عدالت جرائم کی بلند و بالا عمارت میں کندہ ترازو کے پلڑے ہوں، بین الاقوامی عدالت انصاف کی پرشکوہ عمارت میں لگے روشنی بکھیرتے فانوسوں کے نیچے سوچوں میں غلطاں منصفین کی قطار ہو یا اقوام عالم کو متحد کرنے کے غرض سے تشکیل دیا گیا اقوام متحدہ ہو حقیقت یہ ہے کہ یہ اپنے سب سے اہم مقصد یعنی امن کی ترویج اور کشت و خون کی روک تھام میں ناکام ہیں جن کے سامنے آج بھی انصاف سر جھکائے، بے بس، شکستہ، انصاف کی امید لیے گھٹنوں کے بل موجود ہے۔

