جانوروں کی آغوش عافیت میں پلنے والے جنگلی(feral)بچے

جنگلی جانوروں کے ساتھ رہنے کی وجہ سے ان بچوں کو مخصوص جانوروں کی حرکات و سکنات مثلا چاروں ہاتھ پیروں پہ چلنے، آوازیں نکالنے کی صلاحیت، اپنی خوراک کا انتظام کرنے کی استعداد اور اپنی حفاظت کے لیے دشمن سے بچاؤ کی اہلیت تو پیدا ہوتی ہے مگر ساتھ ہی انسانوں سے رابطہ منقطع ہونے کے سبب سماجی ربط اور ذہنی نشوونما نمایاں طور پہ اثر انداز ہوتی ہے۔ جس میں سب سے اہم دوسرے انسانوں سے رابطے کی صلاحیت اور ایک دوسرے کے مابین یگانگت اور محبت کا رشتہ کا فقدان ہے۔
جانوروں کی صحبت میں پلے بچوں کے رویے ان نفسیات دانوں اور تحقیق دانوں کی توجہ کا مرکز ہیں جو اردگرد کے ماحول اور انسانی ذہن کی نشوونما، منطق، ذہنی استطاعت اور زبان سیکھنے کی صلاحیت کے مابین تعلق پہ تحقیق کرتے ہیں۔ ابھی تک سو ایسے بچوں کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
ایسے بچوں کو عموماً ان کے پالنے والے جانوروں کی نسبت سے نام دیے گئے مثلاً برڈ بوائے، منکی بوائے، وولفگرل، ڈوگ گرل وغیرہ
ذیل میں ایسے ہی چند بچوں کی کہانیاں ہیں۔ جو پرانے وقتوں ہی میں نہیں بلکہ جدید دور میں بھی جانوروں کے گوشہ عافیت میں رہے۔
1۔ پیٹر دی وائلڈ بوائے۔ پیٹر 1724ء میں گیارہ سال کی عمر میں شمالی جرمنی کے شہر ہینور کے قصبہ ہملین کے ایک جنگل میں ننگا پایا گیا۔ وہ بولنے سے قاصر اور چاروں ہاتھ پیر پہ چلتا تھا۔ کہا یہ جاتا تھا کہا سکی نگہداشت بھیڑیوں یا بھالو نے کی تھی۔ اس بے نام بچے کا نام ڈاکٹر جان آر بیتھنوٹ نے پیٹر رکھا۔ اس کی موجودگی نے لندن میں سنسنی پھیلا دی تھی۔ بعد ازاں دلچسپی اور توجہ کا مرکز بنا کر اسے جارجکنگ اول اور دوم کے دربار میں رکھا گیا۔
جارج اول نے اس بچے کو اپنی بہو کیرولن کو تحفتا دے دیا کیونکہ اسے سائنس اور فلسفہ کے علم سے دلچسپی تھی۔ پیٹر کبھی اپنے نام سے زیادہ کوئی لفظ نہ ادا کر سکا۔ اس کے گلے میں پٹا ہوتا تھا۔ اس کی دو انگلیاں جڑی ہوئی تھیں۔ وہ محل میں بھی چاروں ہاتھ پیر پہ چلتا اور شائقین کے لیے پالتو جانور جیسی تفریح کا سامان مہیا کرتا۔ اس نے ستر سال سے زیادہ عمر پائی اور پیتیسپونڈ وظیفہ کی رقم وصول کرتا تھا۔ اس کی موت کے دو سو سال بعد ہونے والی تحقیق کے مطابق اس کو ایک جنیاتی بیماری پٹ ہاپکن سنڈروم تھی۔ غالباً اسی وجہ سے اس کے والدین نے اسے جنگل میں جنگلی جانوروں کے ہاتھوں مرنے کے لیے چھوڑ دیا تھا۔ پیٹر کی محل کنگسٹن کی سیڑھیوں پہ بیٹھی شہرہ آفاق مسکراتی ہوئی تصویر جو1720ء میں بنائی گئی، آج بھی دیکھی جا سکتی ہے۔
2۔ وکٹر آف ایویان : فرانس کے اس بچے کا کیس سب سے زیادہ مشہور ہے۔ بازیابی کے بعد یہ نو سالہ بچہ انسانوں سے خوف کے باعث کم ازکم آٹھ بار بھاگ گیا۔ فرانس کے ڈاکٹر جین مارس اتارد کی وکٹر پہ کی جانے والی تحقیق نے اس بات کو جاننے کی کوشش کی کہ آیا زندگی کے ابتدائی سالوں میں دوسرے انسانوں سے ربط نہ ہونے کے بعد کوئی انسان سیکھ سکتا ہے یا نہیں۔ گو وکٹر نے شروع میں کچھ سیکھا بھی مگر باوجود کوشش کے باوجود وکٹر سماجی ربط اور زبان سیکھنے کی صلاحیت سے محروم رہا۔
3۔ جون سیسیبونیا ( بندر بچہ) : جون 1980ء کی دہائی میں یوگینڈا کے پسماندہ گاؤں میں پیدا ہوا۔ اس کے گھر کے تفصیلی حالات تو نامعلوم ہیں مگر ایک کہانی کے مطابق اس کا باپ بہت غصیلا اور پر تشدد تھا۔ جس نے ملک میں ہونے والی خانہ جنگی میں ایک باغی کے طور پہ حصہ لیا۔ اور پھر ایک دن اس نے اپنی بیوی کو بھیجوں کے سامنے قتل کر دیا۔ خانہ جنگی میں جون کا باپ مارا گیا۔ جس کے بعد تین سالہ جون خوف کی حالت میں جنگل کی طرف بھاگ گیا۔
جہاں افریقہ کے بندروں نے اس کو اپنی عافیت میں لے لیا۔ جون کی بازیابی1991ء میں ہوئی۔ اس وقت وہ بندروں کے ساتھ تھا جہاں اس نے درختوں پہ چڑھنا اور ان کا کھانا مثلا شکر قندی، کساوا اور مختلف قسم کے بیچ کھانا سیکھا۔ جب اس کو پکڑنے کی کوشش کی گئی تو بندروں کے گروہ نے اس کی حفاظت کے لیے انسانوں پہ پتھر اور لکڑیاں پھینکیں۔ لیکن بلا آخیر وہ پکڑا گیا۔ بازیابی کے وقت وہ غذا کی کمی کا شدید شکار تھا۔ اس کا معدہ انسانی غذا کا متحمل نہ ہونے کی وجہ سے وہ شروع میں دست کی بیماری کا شکار رہا۔
جان سائنسدانوں کی توجہ کا مرکز تھا۔ اس کو ایک عیسائی یتیم خانے میں داخل کرا دیا گیا۔ جہاں اس نے انسانوں کی طرح چلنا، بولنا اور سادہ انسانی عادات مثلاً پلیٹ میں کھانا کھانا سیکھ لیا۔ تاہم اس میں گانے کا قدرتی ہنر حیران کن تھا اور وہ چرچ کے گانے گاتا۔ اس کے علاوہ اسکی اتھلیٹک صلاحیت کی وجہ سے اسے 2003ء کے اسپیشل اولمپکس میں سو کر ٹیم کا کیپٹن بنایا گیا۔ اس نے اولمپک میں دو میڈلز اور رقم جیتی۔ مختلف ملکوں کی دوروں سے واپسی کے بعد جون افریقہ میں اپنے انعامات کی رقم سے خریدے ایک گھر میں رہتا ہے۔
3۔ اوکسانا ملایا: یوکرین کی آٹھ سالہ اوکسونا ملایا 1993ء میں کتوں کے گھر میں پائی گئی۔ جہاں وہ تقریباً چھ سال سے رہ رہی تھی۔ اس کے والدین جن کے اور بھی کئی بچے تھے۔ شراب نوشی کا بری طرح شکار تھے۔ ایک دن نشے کے حالت میں انہوں نے اسے باہر سردی میں چھوڑ دیا۔ سردی سے بچاؤ اور گرمی کی تلاش میں سرگرداں اس بچی کو کتوں کے گھر میں نہ صرف پناہ بلکہ قبولیت بھی ملی۔ سالوں کتوں کے ساتھ رہنے سے اس کو ان کی طرح زبان نکالنا، بھونکنا، دوڑنا اور کھانا پینا آ گیا۔
اس تمام عرصے میں انسانوں سے مکمل لاتعلقی کے باعث اوکسانا میں باہمی ربط کی صلاحیت کا فقدان تھا۔ لیکن جب وہ انسانوں سے ربط میں آئتو ماہرین کی ٹیم کی مدد سے اس کی ذہنی نشو و نما میں فرق پڑا۔ اب وہ پانچ یا چھ سال کی عمر کی ذہنی استعداد رکھتی ہے۔ اس کی شدید خواہش تھی کہ وہ اپنے والدین سے ملاقات کرے اور ایک دن وہ اپنے باپ سے ملی بھی۔ آج وہ 34 سال کی عمر میں ذہنی پسماندگان کے ادارے میں رہتی ہے۔
4۔ جینی وائیلی: 1957ء میں لاؤس انجلس، امریکہ میں پیدا ہونے والی جینی کی کہانی بہت دردناک ہے۔ اس کے ذہنی طور پہ بیمار باپ کلارک نے جو بچوں سے نفرت کرتا تھا اپنی بیٹی کو ذہنی طور پہ معذور سمجھتے ہوئے تیرہ سال ایک کمرے میں بند رکھا وہ اسے پورے دن ایک کرسی نما potty پہ باندھ کے رکھتا۔ جینی صرف رات کو ہی بستر پہ لٹائی جاتی۔ اس کے بھائی اور ماں کو اس سے بات کرنے کی اجازت نہ تھی۔ جب جینی کو 1970ء میں ایک سوشل ورکر نے بازیاب کیا تو سارے سماج سے کٹی ہوئی یہ تیرہ سالہ بچیساری دنیا کے لیے دلچسپی اور تحقیق کا موضوع بن گئی۔
اس کے اوپر کام کرنے والی ماہر لسانیات سوزنکرٹس کے مطابق جینی ہر چیز میں دلچسپی لیتی۔ اس نے بہت سے الفاظ بھی سیکھے لیکن سوزن کے مطابق ”زبان سیکھنے کا مطلب صرف الفاظ نہیں بلکہ الفاظ کو جملوں کی ساخت میں ڈھالنا ہوتا ہے۔“ جینی ایسا کرنے سے قاصر تھی۔ وقت کے ساتھ اس کی ذہنی حالت ابتر ہوتی گئی۔ آج پینسٹھ سال کی عمر میں جینی ایک ذہنی پسماندگان کے ادارہ میں زندگی بسر کر رہی ہے۔
فطرت بمقابلہ پرورش:
ان تلخ واقعات نے جو اہم تحقیقی سوال اٹھایا وہ یہ ہے کہ ہماری شخصیت کی تشکیل میں موروثیت کا دخل ہے یا تجربات اور ماحول کا؟
ہم جانتے ہیں کہ جو دو اہم خصوصیات انسانوں کو جانوروں سے واضح طور پہ جدا کرتی ہیں وہ دوسرے انسانوں کے جذبات اور دکھ درد کو سمجھنے کی صلاحیت اور زبان سیکھنے کی اہلیت ہے۔ ابتدائی چند سالوں میں اگر بچے ماحول میں حالات کی سنگینی، مثلاً ذہنی معذوری، گھریلو تشدد، والدین کی شراب نوشی، منشیات کی لت اور ذہنی مرض میں مبتلا والدین کی بے توجہی اور جنگ کی تباہ کاریوں کا شکار ہو جائیں تو ان کے اثرات دیرپا ہوتے ہیں۔ لیکن ان سب حالات کی وجہ سے اگر بچوں کا ربط انسانی سماج سے ان ابتدائی سالوں میں مکمل طور پہ ٹوٹ کے اپنے جانور والدین سے جڑ جائے تو ہم ایسے ہی جنگلی بچے دیکھتے ہیں۔
ایک خاص عمر کے بعد ایسے بچے زبان سیکھنے کی اہلیت سے ہمیشہ کے لیے محروم ہو جاتے ہیں۔ انسانی دماغ ایک انتہائی منظم نظام کے تحت چلتا ہے۔ جس کے خلیے تجربات کو یاد رکھنے اور مسلسل سیکھنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ اگر دماغ کا استعمال خاص کر ابتدائی سالوں میں محدود ہو تو دماغ کا حصہ کورٹیکس چھوٹا ہوجاتا ہے۔ جو ہمیں عقل و فراست اور انسانیت کے اعلی درجہ پہ فائز کرتا ہے۔
اس مضمون کو لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم بحیثیت انسان اپنے آپ سے سوال کریں کہ ہمارے معاشرے میں بڑھتے ہوئے ظلم و تشدد کے واقعات، خود اپنے آپ سے ناآشنائی، نئی نسل سے ہماری بے توجہی، ایک دوسرے کے دکھ درد کو نہ محسوس کرنے اور بیگانگی کا جنگل اگانے میں ہمارا کیا کردار ہے؟







گوہر تاج صاحبہ کی دیگر تحریریں بھی پڑھنے کا اتفاق ہوا لیکن یہ موضوع اپنی نوعیت کا اچھوتا مضمون ہے ۔ انسان کی بے بسی دونوں صورتوں میں ہی نظر آئی ۔ جنہیں جھٹلادیا گیاانہیں اس بے زبان مخلوق نے پناہ دی ۔ ایسے میں انسانوں والے اطوار نہیں لیکن باقی انسانیت تو موجود ہے کہ کسی کو نقصان نہیں پہنچاتے ۔ شرپسندی تو نہیں ہے ۔ خود غرضی کا سوال ہی نہیں لیکن اس کے باوجود پھر بھی افسوس ہوا کہ انسانیت کی معراج یہی کچھ تو نہیں ۔