زین قریشی اور سلمان نعیم کی سرائیکی جپھی


وطن عزیز پاکستان میں گزشتہ کئی مہینوں سے سیاسی تناؤ اور محاذ آرائی و الزام تراشی کی تلخ سیاست نے اس بری طرح سے ہمارے سوشل فیبرک کو داغدار کیا ہے کہ پنجاب کے ضمنی الیکشن میں ہر حلقہ ایک میدان جنگ بنا ہوا تھا، اور ایسے میں سرائیکی علاقے ملتان میں اس سیاسی تناؤ اور حبس کے ماحول میں ایک ٹھنڈی ہوا کا جھونکا بھی آیا ہے۔

ملتان کی سرزمین میں صوبائی حلقہ 127 جہاں سابقہ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کے فرزند زین قریشی (پی ٹی آئی) اور سابقہ ایم پی اے سلمان نعیم (مسلم لیگ ن) نمایاں متحارب امیدوار تھے، شدید قسم کی جارحانہ انتخابی مہم کے بعد آج انتخابی نتیجہ سننے کے دونوں امیدواروں نے جس طرح فتح و شکست کو انا کا مسئلہ بنائے بغیر ایک دوسرے کو مبارک باد دی اور گلے ملے جہاں یہ زین قریشی اور سلمان نعیم کے والدین کی تربیت اور اس کے ساتھ ساتھ سوہنے ملتان کی سرائیکی مٹی کی تاثیر ہے کہ مخالفت ضرور رہی لیکن اس کو دشمنی نہیں بنایا

عموماً سرائیکیوں کو نان مارشل قوم، جنگ جو نہ ہونے کے طعنے دیے جاتے ہیں، اور ان کی صلح جو طبیعت، امن پسند سرشت و صفت کو بزدلی کے گھٹیا نسل پرست طعنے کے ذریعے آلودہ کیا جاتا ہے۔

کیا سرائیکی علاقے میں بسنے والے سرائیکی ایسے ہی ہیں، جیسی منفی صفات ان سے مختص کی جاتی ہیں؟

ماہر عمرانیات و ارضیات کے نزدیک سرائیکی خطہ کرہ ارض کی اولیں ترین اور قدیم ترین معاشروں میں شمار کیا جاتا ہے، یعنی شکار اور، پہاڑ و غار کی زندگی گزارنے سے لے کر زرعی معاشرے کی زندگی کے اولیں تہذیب یافتہ معاشرتی زندگی کی تشکیل و ترتیب میں سرائیکی خطہ اپنی ممتاز و منفرد حیثیت کا حامل ہے۔

سرائیکی خطہ وہ سرزمین ہے، جہاں پہاڑ و ریگستان سے لے کر میدانی زرخیز علاقوں پہ مشتمل ہے، یہاں زمین سے اگنے والی انسانی معاشرے کی خوراک کے لئے ضروری ہر فصل، پھل اور جنس وافر مقدار میں موجود ہے اور یہاں کے زرعی معاشرے میں ان سب کی کاشت نے ہر انسانی بنیادی ضرورت کو پورا کرنے کی اہلیت بخشی ہے جو ایک خوش حال اور پرامن معاشرتی زندگی کی شکل اختیار کرتی ہے۔

اسی خوش حال زندگی نے جو ہر قسم کی بھوک اور ہوس سے بے گانہ تھی گزشتہ کئی ہزار سالہ انسانی معاشرے میں کوئی ایسا جنگجو، لٹیرا یا کشور کشائی کرنے والا پیدا ہی نہیں کیا کہ جو مال و منال اور خوراک و اجناس اور سر سبز و خطہ زمین کی تلاش میں کہیں باہر کے علاقوں میں لوٹ مار کرتا پھرے۔

سرائیکی خطہ سر زمین کی اسی خوش حالی نے سرد برفیلے علاقوں میں ٹھٹھرنے والوں اور گرم صحراؤں میں جھلسنے والوں کو اس جنت ارضی کی طرف ہمیشہ متوجہ رکھا

مگر یہ جب بھی آئے لٹیرے، جنگجو، گھس بیٹھیے یا قابض بن کر آئے اور جی بھر کر لوٹا۔

اور یہاں کے باسی جو ہر چھ مہینے بعد نئی فصل اور نئے پھل و پھول کے عادی تھے، ان سرائیکیوں نے ہمیشہ اپنا سارا مال و متاع یہ سوچ کر ان کے حوالے کر دیا کرتے تھے کہ

نویں فصل تھیسی تاں وت بیا مل ویسی ( نئی فصل پہ اور مل جائے گا)

اور شاید سرائیکیوں کی خوش حال زندگی نے انہیں اس محبت بھرے عاجزانہ رویے کا عادی بنا دیا جو آج بھی ان کے خون اور سرشت میں موجود ہے۔

آج متحارب سیاسی امیدواروں نے اسی سرائیکی روایت کو مزید تابناک کیا ہے جہاں سیاسی فکری اختلاف اپنی جگہ۔ لیکن سماجی رشتے قائم رہنے چاہییں، یہ ایک مثبت اور قابل تحسین عمل ہے۔

اور اب آنے والے دنوں میں ملک بھر کی سیاسی قیادت سے یہی توقع ہے کہ سیاست کو نظریاتی اختلاف اور سیاسی عمل کو رائے کی مقبولیت سے جوڑتے ہوئے عوامی رائے کو محترم جانیں اور ایک دوسرے کے ساتھ بھی سماجی رویے مہذبانہ اپنائیں، اپنے سیاسی کارکنوں کو بھی ان رویوں کا عادی بنائیں۔

Facebook Comments HS