تحریک انصاف کی جیت: عوام نے اپنا بوجھ اتارا ہے
تحریک انصاف کی حکومت نے معاشی بدحالی کے پریشری نل کو مکمل بند کیا اور اپنی ہی نا اہلیوں سے چلتی بنی تھی۔ نون لیگ نے آتے ہی اس نل کو کھولا اور اپنا سب کچھ بہا دیا۔ اس دن سے پبلک پاکستان طوفانی مہنگائی میں غوطے کھائے جا رہی ہے۔ وہ ہر طرح سے بے بس ہے اور اپنی روزی روٹی کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ حکمران کہ اس تباہی سے بے خبر کھینچا تانی میں مصروف ہیں۔ جن کی خاطر ہم اپنا وقت برباد کرتے ہیں ایک دوسرے سے سے الجھتے ہیں انھیں کہاں علم ہے کہ ہم بھی اس دنیا میں ہیں۔ ہم پی ٹی آئی اور نون لیگ کے کارکنوں کے گندگی سے بھرے آلودہ ذہنوں سے طوفان بدتمیزی اور گالیاں برداشت کیے جا رہے ہیں۔ ان پارٹی بازوں کی زبان درازی پر تو ایک الگ تھیسز لکھا جائے تو شاید حق ادا ہو۔
اگر گزشتہ مہینوں کی افراتفری اور لوٹے پکڑ اور لوٹے مار سیاست کو بلائے طاق رکھتے ہوئے 20 سیٹوں پر ضمنی الیکشن نتائج کو دیکھیں تو پی ٹی آئی اپنی جیتی ہوئی 20 نشستوں میں سے 16 دوبارہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ اس کامیابی کو کہیں بھی جوڑا جائے تو فٹ ہو سکتی ہے کیونکہ 80 فیصد ناخواندہ آبادی کو مختلف چالبازیوں نعروں اور بیانیوں شکار کیا جا سکتا ہے۔ وہ ”ہم کوئی غلام ہیں“ کا نعرہ ہو یا امریکہ کی اینٹ سے اینٹ بجانے کا خواب ہو۔ ووٹ کو عزت دو کی پیسہ پھینک تماشا دیکھ پالیس ہو۔ نون لیگ تو اپنی ہی پیدا کردہ معاشی بد حالی ناکام ترین پالیسیوں کا شکار ہو گئی نون لیگ کے عجلت بازوں کے ساتھ یہ ہونا ہی تھا۔ وہ بھی تو اپنے آپ کو ماہر سیاسیات سمجھتے ہوئے معیشت کے قبلہ کی سمت کا درست تعین کرنے لگے تھے۔ اس عجلت کا شکار ہونا ان کا ہی بنتا ہے۔
اس لیے عوام نے جو بھی بوجھ اس پر ڈالا گیا تھا اس کو اتارنے کی کوشش اتنی ہی عجلت میں 17 جولائی کو کی ہے۔ وقتی فیصلہ دے کر پھر آس لگائی کہ شاید پنجاب کو دوبارہ بزدار جیسا وسیم اکرم پلس ملے اور حالات بگڑنے دوبارہ شروع ہوں۔ اور پنجاب کی پھر اینٹ سے اینٹ بجا دی جائے۔ کھنڈر پنجاب کی دہائی کہاں سنی جائے گی؟
لیکن بھولے لوگوں یہ سب مفاد پرست ملے ہوئے ہیں آج کروڑوں لگائے چند مہینوں بعد پھر آپ کے اربوں لگیں گے اور آپ روتے رہو گے اور ساتھ ہی ساتھ ”خان، نواز“ کے بھوکے پیٹ نعرے لگاتے رہو گے یہ پھر اسمبلیوں میں جا کر اپنی پشتوں کو سنوارتے رہیں گے۔ یہ 75 سالوں میں ہمارے نہ ہوئے اور نہ ہی انھیں کبھی احساس ہوا کہ یہاں کوئی انسان رہتے ہیں۔ اس لیے ان کو اہمیت دیے بغیر ہمیں اپنا آپ سنوارنا ہے محنت کر نا ہے حقیقی عام آدمی کو سامنے لانے کے لیے اٹھ کھڑے ہونا ہے۔ پھر ان سب کو اپنی جاگیروں، صنعتوں اور گدیوں کو سنبھالنا مشکل ہو جائے گا جن کی بنیاد پر آج یہ ہم پر مسلط ہیں۔


بھٹی صاحب موجودہ حالات پر ایک عمدہ تحریر ہے