کیا ہم کوئی غلام ہیں


کرنل ڈین کے مطابق کسی طاقتور قوم کو بغیر جنگ کیے غلام بنانے کے کچھ مخصوص طریقے ہوتے ہیں۔ ایسی قوم کو بیرونی حملوں سے نہیں بلکہ اندرونی سازشوں سے توڑا جا سکتا ہے۔ اس طرح نہ تو خون خرابا ہوتا ہے نہ جائیدادوں کا نقصان۔ بس یہ طریقہ سست اور صبر آزما ہوتا ہے۔

کسی قوم کو بغیر جنگ کے غلام بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ان لوگوں کے ذہن کنٹرول کیے جائیں۔ جب تک کسی انسان کا ذہن آزاد ہو گا وہ غلامی کو قبول نہیں کرے گا۔ اگر کوئی عوام کا زندگی کے بارے میں نظریہ اور اقدار اپنی مرضی کے مطابق ڈھال سکتا ہے تو وہ عوام کی سمت بھی کنٹرول کر سکتا ہے اور انہیں بڑی آسانی سے غلامی یا تباہی کی طرف بھی دھکیل سکتا ہے۔ ایسی ہی حالت میرے پاکستان کی خوددار اور معتبر عوام کا ہو گیا ہے جو کہ غریبی میں ہوتے ہوئے بھوکا سونے کو قبول کرتے مگر کسی کہ سامنے ہاتھ نا پھیلاتے۔ دیکھا جائے تو ہمارے سیاست دانوں نے اپنا پیٹ پالنے اور بیرونی ملکوں میں اپنی جائیدادوں کو محفوظ بنانے کے لیے بیس کروڑ عوام کو غلام بنا دیا ہے۔

اگست 1947 ءکو پاکستان آزاد ہوا اور دنیا کے نقشے پر اس کا ظہور ہوا اور ہر پاکستانی نے سکھ کا سانس لیا کہ اللہ نے انگریز کی غلامی سے آزادی عطا فرمائی اور وہ بھی 27 رمضان شریف کو۔ یہ تھی اصل آزادی کی ہوا جس نے ہمارے مسلمان بھائیوں کو ہندوستان سے اپنا سب کچھ قربان کر کے پاکستان ہجرت کرنے پر مجبور کیا اور وہ خوشی کے ساتھ اپنا سب کچھ چھوڑ چھاڑ پاکستان ہجرت کر گئے۔ اس امید کے ساتھ کہ انہیں آزادی ملی ہے اور وہ اپنے پیارے وطن پاکستان ہجرت کر رہے ہیں۔

مگر افسوس جس انگریزوں کی غلامی سے بچنے کے لیے ہمارے بزرگوں نے آزادی کے لیے جدوجہد کی اس آزادی کو ہم نے پھر سے گوا دیا اور آج ہم امریکہ کے غلام بن چکے ہیں اس کے مقروض ہو چکے ہیں۔

امریکہ کی دراندازی ہمارے ہر ادارے میں سرایت ہو گئی ہے۔ اگر کسی فوجی ادارہ میں کسی چیف کی نامزدگی ہونی ہے تو امریکہ کی اجازت کی ضرورت ہے اگر I۔ S۔ I میں کوئی جگہ پر کرنی ہے تب بھی امریکہ کی مرضی کے بغیر کسی اور کو نہیں لگایا جاسکتا۔ ہم نے الیکشن کروانے ہیں امریکہ کی مرضی سے، معیشت چلانی ہے امریکہ کی مرضی سے روس ہمیں پیٹرول سستے میں دے رہا ہے مگر ہم نے مہنگا پیٹرول لینا ہے امریکہ کی مرضی سے۔ لہٰذا اس طریقے سے ایوب خان کا مارشل لائی، پھر یحییٰ خان کا مارشل لائی، ضیاءالحق کا مارشل لا اور دو دفعہ مشرف کا مارشل لا امریکہ کی رضامندی سے لگا اور فوجی چیف کو امریکہ نے اجازت دی کہ سیاسی قیادت کو ہٹا کر مارشل لا لگا کر عنان حکومت سنبھال لیں۔ لہٰذا امریکہ ہر ڈکٹیٹر کو اپنا ایجنڈا دیتا رہا۔ جس میں امریکہ کا اپنا مفاد شامل تھا اور اس کی تکمیل اپنی مرضی سے چاہتا تھا۔ بے شک وہ ہمارے پاکستان کے مفاد کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔

امریکہ نے اس عرصہ میں پاکستان کو غلام بنانے کے لئے معاشی حملہ بھی جاری رکھا اور ہر ادوار میں پاکستان کی ”ایڈ“ کی صورت میں یا لون کی صورت میں مدد کا سلسلہ جاری رکھا۔ پاکستان کی سیاسی قیادت یا فوجی قیادت پر معاملہ میں فقیروں کی طرح کشکول اٹھائے ہوئے امریکہ سے مدد لیتے رہے ہیں۔ فوجی سامان کی خرید ہو یا ”بجٹ خسارہ“ ہو۔ مالی مدد کے لئے ہماری ساری قیادت بھیک مانگنے واشنگٹن جاتی رہی۔ سیلاب ہو، یا زلزلہ، سالانہ بجٹ کی کمی کو پورا کرنے کے لئے بھی ہم امریکہ کے غلام بن گئے۔

اسی دوران ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے قرضے بھاری شرح سود پر بغیر سوچے سمجھے صحت، سماجی بہبود، تعلیم وغیرہ کے نام پر لئے گئے مگر ہمارے حکمران انہیں اصل مقاصد پر لگانے کی بجائے خود ہضم کرتے رہے جس پر کسی سے پوچھ گچھ نہیں ہوئی کہ اتنا قرضہ ملک کی خاطر لیا گیا اور اس کا کیا مصرف ہوا ہے۔ اسی دوران جب ہم ایٹمی طاقت بنے تو پہلے ہمیں امریکہ نے روکا اور لالچ دیے اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم امریکہ کے جھانسے میں نہیں آئے اور ہم نے دھماکے ہندوستان کے برابر کر دیے اور پاکستان ایک ایٹمی طاقت بن گیا۔ جس پر امریکہ ہم سے بہت ناراض ہوا۔

امریکہ ہمیشہ پاکستان کو امداد شرائط کے ساتھ دیتا رہا جس میں اس کا اپنا مکمل مفاد ہوتا تھا۔ مجھے انتہائی افسوس کے ساتھ یہ لکھنا پڑ رہا ہے کہ ہماری سیاسی اور فوجی قیادت شروع سے اب تک بکاؤ مال تھی۔ مانگنے والے فقیر کی کوئی قدر نہیں ہوتی پاکستانیوں۔ اسی لئے ہم امریکہ کی غلامی میں رہے ہیں اور پاکستان پوری طرح آزاد نہ ہوا تھا۔ نہ ہے بلکہ امریکہ کی زنجیروں میں گرفتار رہا ہے۔ اب ہمارے عوام میڈیا کی بدولت اتنے باشعور ہو چکے ہیں کہ اس غلامی کی زنجیر کو توڑ کر اصل آزادی حاصل کر لیں گے۔

اب ریمنڈ ڈیوس کو اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ پاکستان آ کر کسی پاکستان کو قتل کر دے۔ اس کا حشر اب بالکل مختلف ہو گا۔ پاکستانی قوم کی غیرت کا تقاضا یہ ہے کہ ہر قسم کی امداد کو ٹھوکر مار دی جائے۔ اپنے پاؤں پر خود کھڑے ہوں۔ مزید قرضے نہ لئے جائیں۔ ہمارے حکمران ملک پاکستان کو اپنی جاگیر مت سمجھیں اور اپنا پہلا حساب کتاب دیں۔ اپنے لیے اپنے ضمیر کو۔ جگائیں اور اپنے لیے وہ حکمران منتخب کریں جو آپ کے لیے آواز اٹھا سکے۔

قوم ان امرا کا گھیراؤ کر کے ان کی باہر کی دولت واپس لائے۔ ٹیکس نیٹ کو کشادہ کیا جائے۔ بھٹو مر چکا ہے اور شیر ایک وحشی جانور ہے سیاسی زبانی نعرہ بازی اور جلوسوں پر کان نہ دہرائیں۔ حقیقی دیندار قیادت جس کا فقدان ہے ’اس کو لائیں۔ ہم ایک ایٹمی قوت اور اسلامی مملکت ہیں۔ ہمارے جوان جہالت کی لذت سے سرشار ہیں۔ ایٹم ہم نے شب برات پر چلانے کے لئے نہیں بنایا۔ ایران کی طرح امریکہ سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ہماری سیاسی اور فوجی قیادت بات کرے۔

پاکستان فوج کے سپہ سالار کو کسی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ حملہ بھارت، اسرائیل اور امریکہ کی طرف سے ہے۔ اس کا بھرپور جواب دینا ہو گا۔ ورنہ پاکستانی قوم فوج سے یہ پوچھنے میں بجانب حق ہو گی کہ ”خاموشی کیسی“ ؟ پاکستان تب آزاد ہو گا۔ 14 اگست 1947 ءکی طرح جب امریکہ کی غلامی سے آزاد ہو گا۔

کیوں کہ ہم ایک خوددار قوم ہیں جو کے غلامی کبھی منظور نہیں کریں گے۔

Facebook Comments HS