سشمیتا سین نے انہیں ’گولڈ ڈِگر‘ کہنے والوں کو دیا سخت جواب
بالی وڈ اداکارہ سشمیتا سین نے آئی پی ایل کے سابق چیئرمین اور کاروباری شخصیت للت کمار مودی سے اپنے تعلقات کی مذت کرنے والوں کے بارے میں سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ لکھی ہے۔ سشمیتا کے خلاف باتیں کرنے والوں نے انہیں ’گولڈ ڈگر‘ یعنی دولت کی لالچی قرار دیا۔ سشمیتا نے ایسے لوگوں کی ذہنیت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اپنے خیر خواہوں کا شکریہ ادا کیا ہے۔
کرکٹ کی انڈین پریمیئر لیگ کا آغاز کرنے والے للت مودی اور اداکارہ سشمیتا سین کے تعلقات کی خبریں سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید رد عمل سامنے آ رہا ہے۔
کچھ لوگ للت مودی کا مذاق اڑا رہے تھے کہ طویل انتظار کے بعد ان کی محنت رنگ لائی۔ تو کچھ نے سشمیتا کو گولڈ ڈگر قرار دے کر انہیں ہدف بنایا۔
اس درمیان سشمیتا سین نے انسٹاگرام پر اپنی ایک تصویر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا ہے ’یہ دیکھنا تکلیف دہ ہے کہ کس طرح ہمارے ارد گرد دنیا مایوس اور ناخوش ہوتی جا رہی ہے۔۔۔بے تکی باتیں کرنے والے نام نہاد دانشور۔۔۔جہالت سے بھرپور گھٹیا اور کبھی کبھی مزاحیہ گپ شپ کرنے والے۔۔۔وہ لوگ جو کبھی میرے دوست نہیں رہے۔۔۔یا جن سے میں کبھی ملی نہیں۔۔۔سبھی میری زندگی اور کردار کے بارے میں بڑے بڑے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس ’گولڈ ڈگر‘ سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ واہ یہ لوگ تو چلاک ہیں!!!
سشمیتا نے آگے یہ بھی لکھا کہ ’میں گولڈ سے آگے کی بات کرتی ہوں۔۔۔مجھے ہمیشہ سے ہیرے پسند ہیں۔۔۔ اور آج بھی میں انہیں خود خریدتی ہوں۔ میرے سبھی خیر خواہوں کی حمایت ملنا اچھا لگا۔ آپ کو بتانا چاہتی ہوں کی آپ کی سُش بالکل ٹھیک ہے کیوں کہ میں کبھی اس دھندلی روشنی پر انحصار نہیں کرتی جو دوسروں کے آپ کو قبول کرنے پر ہی آپ کو ملتی ہے۔ میں خود ایک سورج ہوں۔ میں اور میرا ضمیر میرے لیے اہم ہیں!!‘
للت مودی کی جانب سے ان کے تعلق کے بارے میں پوسٹ کیے جانے کے بعد سوشل میڈیا سے لے کر نیوز چینلز تک ان دونوں کے رشتے کے بارے میں تنقید کی گئی۔ کہا جا رہا ہے کہ للت مودی کے دولت مند ہونے کی وجہ سے سشمیتا سین نے خود سے بڑے شخص کے ساتھ رشتہ قائم کیا ہے۔
اس موضوع پر اداکارہ راکھی ساونت کا ایک ایسا ہی بیان وائرل ہوا۔ جب صحافیوں نے راکھی سے کہا کہ للت مودی آئی پی ایل کے کمشنر رہ چکے ہیں اور ان کے اوپر پیسے لے کر فرار ہونے کا الزام ہے، تو راکھی نے کہا ’پیسے لے کر بھاگیں گے تو بڑی بڑی ہیروئنیں تو ملیں گی ہی۔ پیسے نہ ہوں تو پھر کون پوچھتا ہے۔ آج کل شکل اور عقل کون دیکھتا ہے؟‘
سوشل میڈیا پر رد عمل
گوپال داس نیرج نامی ایک ٹوئیٹر صارف نے لکھا تھا ’پیار ایک قسم کی سرمایہ داری ہے۔ لڑکیوں کے خوابوں میں شہزادے آتے ہیں مزدور نہیں۔‘
یہ بھی پڑھیے:
’ابھی شادی نہیں ہوئی، ہم صرف ڈیٹ کر رہے ہیں‘
’مجھے نیٹ ورکِنگ نہیں آتی اس لیے کام نہیں ملتا‘
https://twitter.com/poet_neeraj/status/1547765399630262273
ٹوئٹر صارف کرونا ندھی کنن نے لکھا ’اگر آپ گولڈ ڈگر نہیں ہیں تو انہیں بھارت لے کر آئیں۔ چھپنا کیسا؟‘
https://twitter.com/Karunanidhi_83/status/1548883204349734912
ٹوئٹر ہینڈل تووی جے پرکاش سے ایک صارف نے لکھا ’یہ صحیح ہے۔ وہ بھگوڑا ہے۔ اس کے پاس ڈالر ہونے کی وجہ سے ہی آپ کا اس کے ساتھ رشتہ ہے۔ یہ گولڈ ڈگر ہونا ہی ہے۔‘
https://twitter.com/tovijayprakash/status/1548888701714935809
سوشل میڈیا پر سشمیتا سین کی حمایت
مخالفین کے علاوہ سوشل میڈیا پر متعدد لوگ سشمیتا سین کی حمایت میں بھی آگے آئے۔
سشمیتا سین کی پوسٹ پر ان کی حوصلہ افضائی کرتے ہوئے اداکارہ پرینکا چوپڑا نے لکھا ’انہیں بتا دو کوئین!!‘
یہ بھی پڑھیے:
’میں ایک ڈری سہمی ہوئی ماں تھی‘
’سرجیکل سٹرائیک یاد ہے، گھر میں گھس کر مارا تھا‘
دا میموسا ہینڈل سے ایک صارف نے ٹوئیٹ کیا ’جو لوگ سشمیتا سین کے ایک عمر دراز شخص کے ساتھ تعلق قائم کرنے کا مذاق اڑا رہے ہیں اور انہیں گولڈ ڈگر کہہ رہے ہیں، کیا وہ جانتے ہیں کہ اس سے قبل وہ خود سے 15 برس چھوٹے لڑکے کے ساتھ رشتے میں تھیں۔ کیا وہ بھی پیسوں کے لیے تھا؟ نہیں۔‘
https://twitter.com/the_mimosa/status/1548156055913644033
سوچی ایس اے نامی صارف نے لکھا ’انڈین والدین جو خود اپنے بیٹوں کو جہیز کے بغیر شادی نہیں کرنے دیتے وہ سشمیتا سین کو گولڈ ڈگر کہہ رہے ہیں۔‘
https://twitter.com/suchi_a/status/1547851760315707392
اسی طرح ایک صارف انو متل نے لکھا ’اگر سشمیتا سین گولڈ ڈگر ہیں تو آپ ان مرد حضرات کو کیا کہیں گے جو جہیز کا مطالبہ کرتے ہیں اور شادی کے بعد سسرال سے پیسے مانگتے لا لیتے ہیں؟‘
https://twitter.com/anushakunmittal/status/1548886818942095360
ڈاکٹر سونالی وید نے لکھا ’میں سشمیتا سین کی اس بات کے لیے تعریف کرتی ہوں کہ کس طرح مس یونیورس کے سٹیج پر کہی جانے والی باتوں کو وہ اپنی زندگی میں جیتی ہیں۔ اگر ہم ایک کاروباری شخصیت کے ساتھ تعلقات کے سبب کسی آزاد، معروف، خوبصورت اور دولتمند لڑکی کو گولڈ ڈگر کہتے ہیں تو سمجھ لینا چاہیے کہ بحیثیت سماج ہماری بہت بری حالت ہے۔‘
https://twitter.com/SonaliVaid/status/1548676278923907072
جب للت مودی نے تصاویر شیئر کیں
للت مودی نے 14 جولائی کو چند تصاویر شئیر کرتے ہوئے اپنے اور سشمیتا سین کے تعلق کے بارے میں سوشل میڈیا پر بتایا تھا۔
انہوں نے لکھا تھا ’ہمارے خاندانوں کے ساتھ ایک زبردست عالمی دورہ کرنے کے بعد لندن میں واپسی۔ بتانے کی ضرورت نہیں کہ میری بیٹر ہاف (زندگی کی ساتھی)سشمیتا سین بھی ساتھ ہیں۔ آخر کار ایک نئی زندگی اور ایک نیا آغاز۔ خوشی میں لگتا ہے چاند پر ہوں‘۔
اس ٹوئیٹ کے بعد انہوں نے وضاحت پیش کرتے ہوئے ایک اور ٹوئیٹ کیا جس میں لکھا تھا ’صرف واضح کرنے کے لیے بتا رہا ہوں کہ شادی نہیں ہوئی ہے ہم صرف ایک دوسرے کو ڈیٹ کر رہے ہیں۔ ایک دن وہ سب بھی ہوگا۔‘
https://twitter.com/LalitKModi/status/1547587779852259329
اس درمیاں سوشل میڈیا پر ان دونوں کی شادی اور منگنی سے متعلق قیاس آرائیاں ہونے لگیں۔ تب سشمیتا سین نے انٹساگرام پر ایک پوسٹ کی جس میں لکھا تھا ’میں زندگی میں جہاں ہوں وہاں خوشی ہے۔ شادی اور منگنی نہیں ہوئی ہے۔ پیار میں ہوں، بغیر کسی شرط کے۔ اب واپس زندگی اور کام پر توجہ دیتے ہیں۔ میرے ساتھ خوشیاں بانٹنے کے لیے شکریہ۔‘
https://www.instagram.com/p/CgB8of5tHit/?hl=en
ماضی میں سشمیتا سین کے تعلقات
سابقہ مس یونیورس سشمیتا سین کا شمار بالی وڈ کی کامیاب ہیروئنوں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے کبھی شادی نہیں کی اور دو بچیوں کو گود لیا ہے۔
سشمیتا سین کا دو ماہ قبل روہمن شال سے علیحدہ ہو گئیں۔ سشمیتا نے دونوں کی تصویر شیئر کرتے ہوئے بریک اپ کی خبر دی تھی۔ روہمن ان سے 15 برس چھوٹے تھے اور ان دونوں کا کئی برس تک افیئر رہا۔
اس کے علاوہ سشمیتا سین کے ڈائرکٹر مدثر عزیز، اداکار رندیپ ہوڈا، پاکستانی کرکٹڑ وسیم اکرم، کاروباری شخصیر سنجے نارنگ اور ڈائرکٹر وکرم بھٹ کے ساتھ تعلقات کی خبریں بھی میڈیا میں سرخیوں میں رہ چکی ہیں۔
سشمیتا سین سے عمر میں دس برس بڑے للت مودی کی اہلیہ منال مودی کا 2018 میں کینسر کے سبب انتقال ہو گیا تھا۔ ان کے تین بچے ہیں۔
للت مودی ایک بڑی انڈین کاروباری شخصیت بھی ہیں۔ لیکن انڈیا میں ان کے خلاف چل رہے فراٖڈ کے مقدمات کے سبب وہ ایک طویل عرصے سے لندن میں مقیم ہیں۔ مودی کے خلاف آئی پی ایل میں معاشی ہیر پھیر کا الزام ہے جس کی انہوں نے ہمیشہ تردید کی ہے۔
للت مودی نے کرکٹ کی انڈین پریمیئر لیگ کا آغاز کیا تھا اور پہلے تین سیزن تک وہ آئی پی ایل کے کمشنر بھی رہے۔
لیگ کے دوران میں معاشی گھپلے اور دو نئی ٹیموں کی نیلامی کے دوران غلط طریقہ کار اختیار کرنے کے الزامات کے مد نظر 2010 کے آئی پی ایل کے بعد انہیں معطل کر دیا گیا تھا۔


