نیا قانون


سعادت حسن منٹو نے ایک افسانہ لکھا تھا۔ ”نیا قانون“ ۔ تقسیم ہند سے قبل، لاہور کا ایک کوچوان ایک انگریز مسافر کے ہاتھوں روز تضحیک اور تذلیل سہتا۔ اپنے تانگے کی سواریوں کے مابین ایک نئی قانون سازی پر بات چیت سنتا اور اپنے تئیں اس نئی قانون سازی کو معانی پہناتا۔ اپنی طبعی سادگی کے سبب، اس نئے قانون کے ساتھ اپنی بہت سی آرزوئیں منسلک کر بیٹھا۔ وہ گمان کر بیٹھا کہ اس نئے قانون کے ساتھ گویا وہ ہر جبر سے آزاد ہونے والا ہے۔

پھر ایک دن اس نے یہ ”مژدا جانفزا“ سنا کہ بالآخر وہ قانون منظور ہو گیا ہے۔ کوچوان کے تانگے پہ وہ انگریز سوار ہوا۔ کسی بات پہ انگریز نے کوچوان سے بدتمیزی کی۔ کوچوان جو اس گمان میں تھا کہ ”نیا قانون“ یعنی اس کے خواب کا انقلاب آ چکا ہے۔ اب وہ اور حکمران قوم کا فرد انگریز باہم برابر ہیں۔ اس نے بدتمیزی کی بنا پر انگریز کو زدو کوب کرنا شروع کر دیا۔ کوچوان کو گرفتار کر لیا گیا اور وہ دہائی دیتا رہ گیا کہ نیا قانون آ گیا ہے۔

یہ کہانی شاید کئی پسماندہ اور ترقی پذیر ممالک کے عوام کی کہانی ہے۔ مقتدر استبدادی طبقات کو للکارنے والی تحریکوں اور قیادتوں سے پسے ہوئے عوام، اسی کوچوان کی طرح اپنی آرزوئیں وابستہ کر لیتے ہیں۔ سمجھتے ہیں کہ وہ بھی ہیں پانچ سواروں میں۔ لیکن اقتدار کی غلام گردشوں کی بھول بھلیوں میں ان کی ان آرزوؤں کا خون ہو جاتا ہے۔ کبھی مصلحت کے تحت۔ کبھی مصالحت کے نام پہ۔ مزاحمت کی علامت تحریکوں کی رونق یہ مفلوک الحال جو ایک جنوں اور کیف کے عالم میں رقصاں نظر آتے ہیں۔

ان تحریکوں کا ایندھن بن کے خاک ہو جاتے ہیں۔ کبھی ان کا خون رزق خاک ہو جاتا ہے۔ لیکن ہیر کھیڑے لے جاتے ہیں۔ بنیادی طور پر یہ مفلوک الحال ہر جگہ اپنی عزت نفس کے پامالی سہتے ہیں۔ ہسپتالوں میں نرسوں، ڈسپنسروں، ڈاکٹروں اور چپڑاسیوں سے ڈانٹ سنتے ہیں۔ تھانوں میں ذلیل ہوتے ہیں۔ وکیلوں اور منشیوں کی باتیں سہتے ہیں ہر پیشی پہ ان کی جیب کٹتی ہے۔ کبھی تاریخ لینے کے نام پہ۔ کبھی چائے پانی اور کبھی سٹیشنری وغیرہ کے نام پہ۔ بسوں اور ویگنوں کے ڈرائیور اور کنڈکٹر

اپنے انداز میں ان کو کچھ نہ ہونے کا احساس دلاتے ہیں۔ دفتروں میں کلرک بادشاہ بھی پورے فرعون بن کر پیش آتے ہیں۔ اس ساری گھٹن اس سارے استحصال کی فضا میں یہ مفلوک الحال سمجھتے ہیں کہ مقتدر طبقات ان کی بے کیف زندگی کا سبب ہیں۔ جو سیاسی تحریک مقتدر طبقات کو للکارتی ہے۔ وہ ان پسے ہوئے طبقات کی امیدوں کا مرکز بن جاتی ہے۔ وہ اپنی سادگی میں گمان کرتے ہیں کہ یہ تحریک ان کو ”نیا قانون“ عطا کرے گی۔ ان کی نا آسودگی، آسودگی میں بدل جائے گی۔

حسرتیں مٹ جائیں گی۔ ایک مساوات قائم ہو جائے گی۔ ان کی عزت نفس مجروح نہیں ہو گی۔ وہ ان تحریکوں میں والہانہ شامل ہوتے ہیں۔ ایک کیف میں رقص کرتے ہیں۔ نعرے لگاتے ہیں۔ اس خواب کی تعبیر از حد مشکل ہے۔ کیونکہ کار مملکت ایک پیچیدہ معاملہ ہے۔ اس کی تفہیم سہل نہیں۔ عوام کے خوابوں اور آرزوؤں کی سیڑھی اقتدار کی کرسی پہ بٹھا بھی دے تو اقدار کے قیام اور حفاظت کے لیے بننے والی تحریک اور تنظیم اقتدار کی حفاظت میں خرچ ہو جاتی ہے۔ ”فارم ہاؤس“ کی نئی کہانی لکھی جاتی ہے۔ نئے کرداروں کے ساتھ۔ اس کا حل ایک ہی ہے جدوجہد میں طبقاتی کشمش کا سائنسی شعور۔ منزل اور لائحہ عمل کا بہت واضح ادراک۔ اور دھرتی کے دانشوروں کے الفاظ میں ”کوک فریدا کوک۔ جب لگ ٹانڈا ناں گرے تب لگ کوک پکار“ ۔

Facebook Comments HS