جناب احمد اعجاز کا ”اعجاز“: پاکستان کا نظریاتی سراب


میں نے ”شام کی نمکین چائے“ پڑھا تو حلق میں گرتے آنسوؤں کا نمک جیسے سر شام روح کے زخموں پر لگنے لگا۔ ”ریت کے ٹیلوں میں سکول جاتے ہوئے بچوں کا مقدر“ جب نظروں سے گزرا تو گزرا نہیں تھم گیا ان مناظر سے جڑی ریتلی اداسی کے ساتھ جو تھل کے علاقے سے گزرتے چہروں کے کتبوں پر ثبت ہوئی دیکھتا ہوں۔ میں سانحۂ مینار پاکستان پر ایک ایسی قوم کا فرد ہونے کے ناتے شرم محسوس کر ہی رہا تھا کہ ”ہجوم کا بوجھ“ تلے دب کر میرا گویا دم گھٹنے لگا۔

”بے بسی کا گدھ“ پڑھ کر یوں لگا جیسے میں کھلی آنکھوں سے حالات کے گدھوں کو اپنا بدن نوچتا دیکھ رہا ہوں مگر بے بس ہوں اور بے بس ہی رہوں گا۔ خدا انہیں اور ان کے قلم کو سلامت رکھے مگر ”زندگی تو ایک خواب ہے میں“ انہوں نے اپنی روانگی کا منظر یوں باندھا کہ چشم تصور سے میں ان کے ساتھ ساتھ ہو لیا۔ ایک صنعتی مزدور ہونے کی حیثیت سے ”کنواں ہی قبر بن جاتا ہے“ پر تو یوں لگا کہ وہ میرے دل میں رہتے ہیں۔ انہوں نے میرا اور میرے آس پاس کے لوگوں کا ہی احوال لکھا ہے۔ ان سے محبت ہو گئی۔

میں نے تو ان کے چند کالمز کا تذکرہ کیا لیکن ان کی تمام تحریریں ہی آنکھوں سے ہو کر دل میں اترتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔ ایک دن مجھ سے ایک شاہکار جملہ کہا ”ہم لکھنے پڑھنے میں سر جھکائے ہوئے تھے نہ جانے کب زندگی پاس سے گزر کر چلی گئی“ ۔

ان جیسے چند لوگوں کا ساتھ عطا کرنے پر سوشل میڈیا کو ایک نعمت برائے تشکر تسلیم کرتا ہوں۔ ان کا فرینڈ لسٹ میں ہونا ایک اعزاز تھا میرے لیے۔ میں ان کے کالمز پر اپنا دل کھول کر سامنے رکھ دیتا تو ”آپ کی محبت ہے“ ”بہت محبت“ کے جوابات دل کو ایک علیحدہ تسکین دیتے رہے۔ میں ازل سے محبت کا متلاشی ہیں تو رہا۔

ایک دن ان کا میسیج ان باکس آیا تو خوشی کی انتہا نہ رہی جب انہوں نے کچھ تعارف کے بعد اپنا نمبر دیا میرا نمبر لیا۔ پھر انہوں نے اپنی کتاب کا تحفہ دیا۔ یہ کتاب ”پاکستان کا نظریاتی سراب“ ایک ایسی کتاب ہے کہ جس نے طالبعلم کو واقعی میں وہ علم دیا جس کی میں طلب میں تھا۔ اس کتاب پر ایک منظوم تبصرہ کیا تو اسے انہوں نے اپنی فیس بک وال پر جگہ دے کر ایک اور اعزاز بخشا۔

ایک وقت تھا رات کی ڈیوٹی ہوتی تھی تو تمام قومی اخبارات کے معروف کالم نگاروں کے کالمز پڑھنا پسندیدہ مشغلہ تھا۔ پھر یہ سلسلہ ٹوٹ گیا۔ وقت کا سیلاب اپنے ساتھ بہت کچھ بہا کر لے جاتا ہے۔ مدت بعد یہ سلسلہ 92 نیوز میں ان کی شاہکار تحریریں پڑھنے سے دوبارہ شروع ہوا ہی تھا کہ میری طرح اپنے کالمز کے بہت سے منتظر لوگوں کو انہوں نے تشنگی عطا کرتے ہوئے بتایا کہ اب وہ پی ٹی وی الیکشن سیل کے سربراہ کی حیثیت سے کام کرنے جا رہے ہیں۔ اور بی بی سی پر اسی ضمن میں لکھا کریں گے۔ وہ ہم سب کی نیک تمناؤں کے ساتھ اس سفر پر روانہ ہوئے۔

پچھلی عید پر ان کا ایک پیغام آیا کہ شاید وہ آبائی گاؤں لیہ عید کرنے آئیں تو دیدہ و دل فرش راہ کیے اپنے دیوانے سے ملاقات کے لیے آئیں۔ لیکن محبت اور انتظار کا ایک اٹوٹ رشتہ ہے۔

ان کی مذکورہ فرائض کی ادائیگی میں تندہی، جانفشانی اور صدق دل سے کی گئی عرق ریزی کا نتیجہ پورے پاکستان نے پنجاب کے ضمنی انتخاب میں (پنجابی میں کہتے ہیں ) ”اڈیاں چک چک ویکھیا“ ۔ پورے پاکستان کے تجزیہ کار ایک طرف اور وہ اور ان کا تجزیہ ایک طرف۔ اس وقت پورے ملک میں ان کی اس کامرانی پر انہیں سراہا جا رہا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ پنجاب کے ضمنی الیکشن میں وہ ایک بڑے ”سیاسی پنڈت“ کے طور پر طلوع ہوئے ہیں تو غلط نہ ہو گا۔ قومی سطح پر بہت سے معروف قلمکاروں نے ان کی اس کامیابی پر انہیں خراج تحسین پیش کیا تو صاحب عجز کا جواب تھا کہ یہ میرے علم سے زیادہ ہے۔ شاید یہی عجز ہی ان کے اعجاز کا باعث ہو۔ خدا جانے

ایک فرد نے اگر جدید سماجی رابطے کے ذرائع سے حلقوں کی سطح پر محنتی لوگوں کے ایک نیٹ ورک کے ساتھ دیانتداری کے سنگ ذاتی طور پر دقت و مشقت کے ذریعے پاکستانی ووٹر، سیا سی انداز فکر او ر بیانیے کی اثر پذیری کا درست تجزیہ کر لیا تو عین اسی طرز پر پاکستانی سیاسی جماعتیں بھی اگر چاہیں تو ملک میں حقیقی جمہوریت قائم کر کے پاکستانی سیاست کو درست سمت میں گامزن کر سکتی ہیں۔

اگر ایسا ہو گیا تو منزل پر پہنچ کر سپاس نامہ پڑھنے والے، جو نام بطور خراج تحسین و تہنیت لیں گے ان میں ایک نام ”احمد اعجاز“ بھی ہو گا۔ خدا کرے۔

خدا انہیں اور عزت و منزلت عطا فرمائے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments