مہنگائی اور سیاسی نرخ


ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام
وہ شوق سے بک جائیں تو چرچا نہیں ہوتا

اس تحریف پے شاعر سے معذرت مگر نازکیٔ حالات نے مجبور کیا تو شعر ہوا۔ سنا کرتے ہیں کہ پچھلے وقتوں میں لوگ ایک ماشے اشرفی ماہانہ کے عوض عزت سے بسر کر کے گزر جایا کرتے تھے۔ انہی دقیانوسی حضرات نے وفاداری اور پاسداری کو نصب العین مان کر اپنی اور ہماری زندگی ضیق کر دی۔

سر کٹا سکتے ہیں لیکن سر جھکا سکتے نہیں جیسے عسکری اہمیت کے حامل مصرعے کو جبراً اپنی حقیر عوامی زندگی یعنی سویلین لائف کا جز بنانے کے لئے ان ظالموں نے طرح طرح کی تاویلیں گھڑ لیں۔ سر جھکا سکتے نہیں کے نئے زاوئیے تراش لئے جیسے ظالم کے سامنے حق پے ڈٹ جانا۔ قول کو امانت سمجھ کے نبھانا۔ وعدے کی تکمیل کو فرض جاننا۔ جسے قائد ماننا مشکل سے مشکل وقت میں اس کا ساتھ نہ چھوڑنا وغیرہ وغیرہ۔

اب خود تو جیسی تیسی کاٹ کے چل بسے اور آنے والوں کی ایسی تیسی کر دی۔ یعنی ایسی معاشرتی قدغن پیدا کر گئے کہ کوئی اللہ کا بندہ اگر یہ بھی طے کر لے کہ وہ ایوان میں کس جانب بیٹھے گا؟ تو اس پے ایسی ایسی کہانیاں تراش لی جاتی ہیں، وہ وہ ہانک اڑتی ہے گویا

اک گلی کی بات تھی اور گلی گلی گئی

گئی بھی کیا؟ یوں کہئیے اشرافیہ کے دیوان سے حجام کی دکان تک ایک سی لعن طعن۔ ایک سی تھڑ تھڑ! جسے دیکھو، ذلت آمیز تشنوں سے ننھی سی جانوں کے چڑیا سے دلوں کو چھلنی کیے دے رہا ہے۔ اب کون ان بے لگاموں کو لگام ڈالے اور کہے کہ باز آ جاؤ۔ بندہ بشر تو ہے ہی عاجز، کوئی تو مجبوری ہو گی جو انسان سے گھوڑا ہو کے اچھے دام ہارس ٹریڈنگ کا شکار ہوا۔

تہمت جرم و خطا، حرص و ہوا، غفلت دل
کیا ہے جو رہ جاتا ہو؟

حالانکہ مرزا سودا کہہ گئے ہیں کہ آئے ناسمجھو،
آرام پھر کہاں ہے جو ہو دل میں جائے حرص

اب فیصلہ کیجئے کہ جب خدائے بزرگ و برتر نے خود کسی بندۂ خاکی کو نعمت حرص عطا کی ہے تو تسکین قلب کی خاطر وہ کچھ تو راہ تلاشے گا اور ایسے میں کسی نیک ولی نے اسے پچیس۔ تیس یا چالیس کروڑ کی پیشکش کر دی اور اس نے اپنی بدحالی اور افلاس سے نجات کے لئے اسے رحمت غیبی سمجھ کے وصول کیا اور شکر خدا بجا لایا یعنی حج یا عمرے پے روانہ ہوا تو یہ بھی گناہ ہے؟

دکھ اس بات کا ہے کہ پچھلے سالوں میں ڈالر نے پاکستانی روپے کے ساتھ وہ سلوک روا رکھا ہے جو امیر رشتے دار کم حیثیت عزیزوں کے ساتھ کرتے ہیں یعنی ہر خوشی غمی میں نیچا دکھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے سو ڈالر کے اس تکبر آمیز روئیے کی وجہ سے روپے کی وقعت کم سے کم تر ہوتی جا رہی ہے۔

اس کھینچا تانی میں قیمتوں کو بھی پر لگ گئے۔ غضب خدا کا جو جانور دو ہزار اٹھارہ میں باآسانی دس سے پندرہ کے بیچ مل جایا کرتا تھا، اس برس کم سے کم تیس اور زیادہ کی تو یہ ہوئی کہ جتنا گڑ ڈالو اتنا میٹھا۔

اس سال کی عید قرباں گزر چکی مگر منڈی میں ابھی مندی نہیں آئی۔ اچھا شغل ہے، روز نئی روداد ہے، جب دیکھو کوئی یاں سے واں کو اور کوئی واں سے یاں کو چلا آتا ہے۔

جہاں سے ناتا توڑ جاتا ہے اس لشکر گاہ میں ضمیر فروش۔ عہد شکن کے نعرے لگتے ہیں اور جہاں جا ملتا ہے وہ بغلگیر ہوتے ہوئے اسے ”دور حاضر کا حر“ قرار دیتے ہیں۔

معصومیت تو ملاحظہ ہو کہ ایسے میں کچھ مشاط وہ بھی ہیں جو تبدیلیٔ قلب کی کہانی ایسے بیان کرتے ہیں گویا یہ بھی سلیمانی ٹوپی پہن کے بھاؤ ٹھہرانے کا معاملہ دیکھ آئے ہوں۔ انہیں میں ایک نے فرمایا کہ ہمارے رکن کو بعوض چالیس کروڑ منحرف کروایا گیا ہے۔ اور تو سب ٹھیک ہے، ملکی سیاست میں ایسے ابن بطوطہ ہمیشہ سے رہے ہیں جو سیاست کو سیاحت سمجھ کے یہاں سے وہاں اور وہاں سے اگلے پڑاؤ پے نکل جاتے ہیں۔ نگری نگری پھرا مسافر۔ اس دشت کی سیاحی میں۔ مگر چالیس کروڑ فی رکن سن کے دل بجھ سا گیا، اتنی زیادہ قیمت؟ یعنی مناسب حیثیت کی سفید پوش جماعتوں کے لئے تو ممکن ہی نہ رہا کہ وہ بھی بولی لگا سکیں۔ پہلے ہی معاشرے میں معاشی نا انصافی کم نہیں، اب ان قیمتوں پے متوسط جماعت تو دل مسوس کے رہ جائے گی۔ کیسے اس کے نئے کم سن پر جوش کارکن منتظر ہوں گے کہ ابھی کچھ دیر پارٹی لیڈر شپ ہمارے لئے بھی دو ایک اعلی نسل کے بھاری بھرکم ممبر خرید کے آتی ہی ہوگی۔ بار بار پارٹی آفس کے دروازے پے آ آ کے جھانکیں گے کہ ابھی دور سے بلٹ پروف وی ایٹ کا قافلہ آتا دکھائی دے گا پر صد حیف کہ جب وہ انہیں اکیلا آتے دیکھیں گے تو کیسے ان کے پھول سے چہرے کمہلا جائیں گے، آنکھوں میں آنسو اور لبوں پے سوال لے کر وہ لیڈر شپ کو دیکھ رہے ہوں گے جیسے کہہ رہے ہوں، ”جب خرید نہیں سکتے تو سیاست میں آتے کیوں ہو؟“

یہ تو ہوا غریب کا دکھ۔ اب آتے ہیں، اس پارٹی بیانئیے کی جانب جو سیاسی نہیں بلکہ ساسی زیادہ لگتا ہے، بیٹے کی پسند کی شادی پر ماں مرتے دم تک یہی کہتی ہے، میرا سیدھا سادہ بچہ اس چھپن چھری نے قابو کر لیا۔ بس بھنو تریا چلتر سے تو ابلیس نے پناہ مانگی تو میرے بھولے بچے کی کیا اوقات؟

بات یہ ہے پیاری امی جان عرف پرانی جماعت، آپ کا بھولا ننھا اس عشق سے پہلے دو چار معاشقے نمٹا چکا۔ کئیوں سے قسمیں وعدے کر کے راہ بدل چکا یوں کہئیے کہ اس بار پیسے والی پارٹی ٹکرا گئی تو نوبت قول و قرار سے ایجاب و قبول تک آ گئی۔ وہ روٹی کو ہپہ اور پانی کو مم مم نہیں کہتا۔ ایسا کائیاں ہے کہ وقت کی چال دیکھ کے چال چلتا ہے۔ اس بار چال آپ کے مخالف ہو گئی۔ رہے چالیس کروڑ تو یہ زیادتی ہے، عوام کی گزارش ہے کہ کچھ مناسب کر لیں۔ اتنے میں تو چھوٹے صوبوں کی وزارت آ جائے۔

Facebook Comments HS