سجاد حیدر یلدرم کا افسانہ اور شعور کی رو

سجاد حیدر یلدرم نے ابتدائی طور پر مختصر کہانی یا افسانہ لکھنے کا آغاز اردو ادب میں وارد کیا۔ وہ مغربی اور ترکی ادب سے واقف اور مرغوب تھے۔ بنیادی طور پر وہ انشائیہ نگار تھے اور مترجم کمال کے تھے۔ وہ ترجمہ کرتے ہوئے اپنے دماغ کے نہاں خانوں سے کون کون سی تراکیب بن لاتے تھے کہ قاری پڑھ کر ان کے سحر میں گرفتار ہو جاتا۔ ان کے افسانے آج کے دور میں بھی اگر پڑھے جائیں تو کوئی ایسی بات ہمارے دماغ میں آتی ہے جو ان افسانوں کو ہمارے ما فی الضمیر سے ضرور جوڑتی ہے۔
”خارستان و گلستان“ کا اسلوب بظاہر رومانوی اور داستانوی ہے مگر اس میں ہیرو اور ہیروئن کا بار بار اپنی دنیا کے متوازی اپنی سوچ کے تحت کہیں گم ہو جانا اصل میں شعور کی رو ہی ہے۔ جب جب نسرین نوش اپنی پر تکلف اور عیش و عشرت کی دنیا سے ماوراء ہو کر کہیں اور کھو جاتی ہے، کسی حبیب کی جستجو میں سرگرداں نظر آتی ہے یا پھر خارستان میں خارا کی خدمت پر مامور بوڑھا اپنی گزری زندگی میں عورت اور اس کی رفاقت کو یاد کرتا ہے تو وہ لمحات خارا کے لیے شعور کی رو کی تکنیک کے تحت ہی چل رہے ہوتے ہیں۔ دونوں نسرین نوش و خارا اپنے دل اور دماغ کو اپنی موجودہ دنیا سے ہٹا کر کہیں اور پاتے ہیں، کسی اور چیز کی طلب کا احساس کرتے ہیں تو یہ موقع شعور کی رو کو کھینچ کر ان افسانوں کا ماحول گرما جاتا ہے۔
”حکایہ لیلیٰ مجنوں“ میں تو قیس اپنی جدید دنیا میں رہنے کے باوجود اپنے پچھلے جنم پر دھیان لگائے بیٹھا ہے یا پھر ایک مکان میں لامکان ہو کر اس کی توجہ بار بار لیلیٰ کے ساتھ والی مکانی حالت پر مرکوز ہوتی ہے۔ ایک وقت میں کئی کیفیات اس کے دماغ میں چلتی ہیں، کئی سوچیں، کئی احساسات بیک وقت اسے دیوانے سے دیوانہ تر کیے جاتے ہیں۔ اس ساری صورت کو ہم لوگ سہولت سے شعور کی رو کہہ سکتے ہیں۔ اس کی دعا بھی وہی کی وہی رہتی ہے جو ہمیشہ سے اس کے جیسے مجنوؤں سے منسوب چلی آئی ہے کہ اس کا عشق بھلے مصیبت ہے ہمیشہ یوں ہی قائم و دائم رہے۔
”نکاح ثانی“ کی جوان عورت اپنے بے وفا شوہر اور اپنی شادی کے ابتدائی دنوں کو یاد کر کے اشک فشانی کرتی ہے۔ وہ پل میں حال میں ہے اور پل میں ماضی کی کسی راہداری پر بیٹھی ہنسی سے بین کنی کی طرف مائل ہوتی نظر آتی ہے۔ اسے دن رات، صبح شام، لمحے ساعتیں سب کچھ یاد آتا ہے اور وہ آہیں بھرتے بھرتے کبھی اپنے آپ کو اپنی موجودہ حالت میں غمگین اور کبھی گزر چکے وقت میں خود کو آسودہ پاتی ہے۔
سودائے سنگین کا فرامرز اپنی پہلی محبت کی ناکامی کی پاداش میں خود کو گناہوں اور دل آزاریوں سے بھرتا ہے اور اپنا کمرا مادی طور پر عجیب و غریب اور مافوق الفطرت چیزوں سے بھر لیتا ہے۔ وہ ہر بات میں اپنی سابقہ محبوبہ کو یاد کرتا ہے اور نئی محبوباؤں کو ترک کرتا جاتا ہے اس کا دماغ، اس کا وجدان ایک ہی نکتہ پر مرکوز ہے اور وہ حال اور ماضی کا فرق کھو چکا ہے۔ ایسے میں وہ ”مساکیت“ اور ”سیڈسٹک“ دونوں صورتوں میں اپنی ذات کا اظہار کرتے ہوئے ذہنی طور پر بیمار ہو جاتا ہے۔
ان کے افسانے ہم لوگ ابتدائی نمونوں کے طور پر پڑھتے ہوئے اکثر نظر انداز کر جاتے ہیں کیوں کہ بہت سے تراجم ہیں یلدرم کے طبع زاد بھی نہیں مگر یلدرم نے ان افسانوں میں اصل ماخذات کی چاشنی کو جوں کا توں پیش کیا ہے۔ تکنیک کی سطح پر شعور کی رو کو ہم لوگ قرۃالعین حیدر کو ابتدائی حوالہ دیتے ہیں مگر اس تکنیک کی جھلک یلدرم کی افسانوں میں کہیں نہ کہیں ہمیں دکھ ہی جاتی ہے۔
پطرس بخاری نے یلدرم کے بارے میں کہا تھا:
”اردو ادب پر ان کا اثر بہت عظیم تھا۔ آج ہم ان سے ایک سنگ میل کی حیثیت سے واقف ہیں۔“

