تاریخ کل رات سے شروع نہیں ہوئی
موجودہ سیاسی کشمکش پر کیا خوب فقرہ مجیب الرحمان شامی نے ادا کیا ہے کہ ”تاریخ کل رات سے شروع نہیں ہوئی“ ۔ اس ایک فقرے نے موجودہ سیاسی کشمکش کے زاویے کو محدود کرنے سے ہر صاحب عقل کو روک دیا ہے۔ وطن عزیز سیاسی کشمکش کا شکار ہے اور یہ بہت عروج پر ہے۔ موجودہ صورتحال کا آغاز مگر کب ہوا کہ جو آئین اور جمہوریت دونوں کو مسلسل کچوکے دے رہا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ سب جولائی 2017 کے عدالتی فیصلے کا کیا دھرا ہے جس کی بنا پر ایک خیالی تنخواہ کے نام پر قومی اسمبلی کی اکثریتی رائے سے منتخب فرد کو میدان سے باہر کر دیا گیا۔ اس کے خلاف سازش کامیاب ہونے پر خوشی کے شادیانے بجانے والے درحقیقت ملک میں مستقل عدم استحکام کے آغاز پر دانت نکالتے پھر رہے تھے۔
یہ ایک تسلسل ہے اور اگر اس تسلسل کو روکنا ہے اور حالات کو بدترین سے بہترین کی جانب موڑنا ہے تو غلطی کو بھی وہیں سے سدھارنا ہو گا جہاں سے اس کی ابتدا کی گئی تھی۔ ایک عدالتی فیصلے نے وزارت عظمیٰ سے علیحدہ کیا، اس کے بعد دوسرے عدالتی فیصلے نے پارٹی صدارت چھین لی اور تیسرے فیصلے نے جیل کی کال کوٹھری میں بیٹی سمیت ڈال دیا۔ لیکن ان تینوں میں سے ایک بھی عدالتی فیصلہ نہ صرف یہ کہ عوامی پذیرائی سے محروم رہا بلکہ غیر جانبدار قانونی ماہرین کی بھی یہ رائے تھی کہ یہ سب کچھ صرف ایک فرد سے عداوت رکھنے کے سوا اور کچھ نہیں۔
اب آئندہ انتخابات، جب کبھی بھی منعقد ہوں، کو صاف شفاف بنانے کے لئے لازمی ہے کہ جیسے مسلم لیگ نون کے سیاسی حریفوں کو اپنی انتخابی مہم چلانے کی مکمل آزادی حاصل ہے اسی طرح مسلم لیگ نون اور اس کے سربراہ نواز شریف بھی اس سلسلے میں مکمل طور پر آزاد ہوں۔ اگر ان پر یہ غیر منصفانہ پابندیاں جاری رہیں اور وہ وزیر اعظم کے منصب پر فائز ہونے کے لئے قانونی پابندیوں کے شکار رہے تو اگلے انتخابات کی بھی کوئی ساکھ نہ ہوگی اور یہ بھی مکمل طور پر غیر منصفانہ قرار دیے جائیں گے۔
ضروری ہے کہ قوم کو اس بحران سے نکالا جائے اور منصفانہ انتخابات کرائے جائیں جس میں عوام جس کو چاہیں منتخب کر لیں۔ مگر اس سب کو روکنے کے لئے عمران خان اپنی اقتدار سے بے دخلی کے بعد ملک میں مستقل انتشار کی کیفیت قائم کرنے کے لئے سرگرداں ہیں۔ کشمیر پر مجرمانہ کردار ادا کیا، امریکہ اس وقت عمران خان کی سب کارستانی کو جانتا تھا۔ اب شنید ہے کہ ٹرمپ کے قریبی لوگ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے ایک کتاب تحریر کر رہے ہیں کہ کشمیر پر بھارتی اقدامات کو ٹرمپ کی خواہش پر کس کس کی حمایت حاصل تھی۔ عمران خان کے اپنے مخالفین کے خلاف لگائے گئے الزامات کی حقیقت یہ ہے کہ مغرب کے ایک ملک نے پاکستان میں جاری نیب کیسز پر ایک رپورٹ اپنے قانونی ماہرین سے مرتب کروائی جس میں سیاسی بنیادوں پر قائم مقدمات کو سب سے زیادہ کمزور قرار دیا گیا۔
سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ ان سب کمزور تر ین کیسز میں بھی سب سے کمزور کیسز حمزہ شہباز پر دائر کیے گئے کیسز کو قرار دیا ہے۔ مگر مسلم لیگ نون بھی ایک المیہ کا شکار ہے کہ مسلم لیگ نون کا چہرہ عوام ان کو سمجھتے ہیں جو بارہ اکتوبر انیس سو ننانوے کے بعد مسلم لیگ نون کا تسلسل سے حصہ رہے تھے۔ جو اس وقت فوری طور پر نواز شریف کا ساتھ چھوڑ گئے تھے عوام ان کو مسلم لیگ نون کا چہرہ تسلیم نہیں کرتے۔
مسلم لیگ نون کو ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ آج بھی ان ہی افراد کو سامنے لائے جن کا تعارف مشرف کے خلاف جد و جہد ہے۔ پھر ان کا میڈیا بھی بہت کمزوری کا مظاہرہ کر رہا ہے جس کا مکمل اثر سوشل میڈیا پر بھی پڑتا ہے۔ عمران خان ایک الزام عائد کر دیتے ہیں اور پھر مسلم لیگ نون کے اراکین بس اس کی تردید میں لگے رہتے ہیں۔ مسلم لیگ نون کے حامی طبقات ان سے الزامات کی تردید کو سننے کے لئے بے چین نہیں ہوتے بلکہ وہ یہ جاننا اور سننا چاہتے ہیں کہ حکومتی کارکردگی معاشی محاذ پر کیا ہے؟ کیا چیلنجز درپیش ہیں؟ ان سے کیسے نبرد آزما ہوا جا رہا ہے؟ اس کے کیا نتائج برآمد ہوں گے؟ اور نتائج عوام کے باورچی خانے تک کب تک پہنچ جائیں گے؟
ویسے بھی ہمارے خطے میں ایسا بہت کچھ ہو رہا ہے جس پر بہت نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر صدر جو بائیڈن کے دورہ مشرق وسطیٰ سے اس خطے میں ہونے والی ممکنہ تبدیلیاں سامنے آنے لگی ہیں۔ اسرائیل کو سعودی فضائی حدود کے استعمال کی اجازت غیر معمولی واقعہ ہے لیکن یہ بھی سامنے رہے کہ سعودی عرب ٹرمپ کی اقتدار سے رخصتی کے بعد سے اپنی خارجہ پالیسی میں کسی حد تک محتاط ہو گیا ہے۔ عراق کی سرزمین پر ایران سے مذاکرات بھی کر رہا ہے جبکہ صدر بائیڈن کے دورے کے بعد روسی صدر پیوٹن نے سعودی ولی عہد کو فون بھی کیا ہے۔ سعودی عرب اب سارے انڈے صرف امریکہ کی ٹوکری میں نہیں رکھنا چاہتا مگر وہ اس بات سے بھی خوفزدہ ہے کہ کہیں کچھ انڈے دوسری ٹوکری میں منتقل کرتے وقت ٹوٹ نہ جائیں۔ کیوں کہ وہ تہران میں ہوئی روس، ایران اور ترکی کے سربراہان کی کانفرنس کو بہت غور سے دیکھ رہا تھا کہ اس کے کیا نتائج برآمد ہوتے ہیں۔
اس کانفرنس میں صرف شام ہی زیر بحث نہیں آیا بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کے معاملات کو سامنے رکھا گیا ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں چینی مندوب نے شام کے خلاف ممکنہ عائد کی جانے والی پابندیوں کی سخت الفاظ میں مخالفت کی ہے۔

